نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں آج حضرت محمد ﷺکی ولادت کادن منائیں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- صدرمملکت آج صبح ایک تقریب کی میزبانی کریں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کنونشن سینٹرمیں منعقدکی گئی تقریب میں شرکت کروں گا،وزیراعظم
Coronavirus Updates

مولانا مودودی اور ان کے جانشین

22 ستمبر 1979ء کو مفکر اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی خالقِ حقیقی سے جاملے۔ قرآن پاک کی ایک آیت میں ایک حیرت ناک مضمون بیان ہوا ہے۔ رب ذوالجلال انسان سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں کہ ''کوئی نہیں جانتا کہ اس کی موت کس زمین پر آئے گی‘‘۔ زندگی کا اکثر حصہ لاہور میں گزارنے والے سید مودودی نے امریکی شہر بفیلو کے ایک ہسپتال میں داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ میں اُن دنوں طائف میں مقیم تھا۔ اس خبر سے مجھے دلی صدمہ ہوا۔ میری نمناک آنکھوں کے سامنے مولانا سے بچپن‘ لڑکپن اور پھر یونیورسٹی کے زمانۂ طالب علمی کی یادگار ملاقاتوں کی فلم چلنے لگی۔
مولانا مودودی کی میت لانے والا جہاز ٹرانزٹ کیلئے ہیتھرو ایئرپورٹ لندن رکا تو وہاں پاکستان سمیت دیگر مسلم ملکوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مسلمانوں نے اُن کی نمازِ جنازہ ادا کی۔ اس موقعے پر ہیتھرو ایئرپورٹ جاتے ہوئے جب ٹیکسی ڈرائیور نے مشہور بیوروکریٹ اور ممتاز ادیب جناب الطاف گوہر مرحوم سے پوچھا کہ مرنے والا آپ کا کوئی عزیز ہے تو انہوں نے اس موقعے پر ایک یادگار جملہ کہا وہ میرا نہیں ''عزیز جہاں‘‘ ہے۔ 25 ستمبر 1979ء کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں پورے پاکستان سے آئے ہوئے لاکھوں لوگوں نے مولانا مودودی کی نمازِ جنازہ ادا کی جن میں اُس وقت کے حکمران جنرل ضیاء الحق بھی شامل تھے۔ مولانا مودودی کی غائبانہ نمازِ جنازہ مسجدالحرام مکۃ المکرمہ اور مسجد نبوی میں بھی ادا کی گئی۔ سعودی علماء‘ حکام اور عوام مولانا مودودیؒ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ انہیں شاہ فیصل ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ یہ مولانا کیلئے سعودی عرب سمیت سارے عالم اسلام کی عقیدت و احترام کا ہی نتیجہ تھا کہ جب 1953ء میں مسئلہ ختم نبوت پر ایک فوجی عدالت نے مولانا کو سزائے موت سنائی تو اس پر سارا عالم اسلام سراپا احتجاج بن گیا اور بالآخر عدالت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔
مولانا کی شخصیت کے ایک نہیں ہزار پہلو ہیں۔ مولانا بیک وقت مفکر بھی تھے‘ مفسر قرآن بھی تھے‘ مدبر بھی تھے‘ مبلغ بھی تھے‘ بانیٔ جماعت بھی تھے اور کئی دہائیوں تک اس کے امیر بھی رہے۔ مولانا مودودی کا تفسیر قرآن سے لے کر غلبۂ اسلام کے لیے تحریک برپا کرنے تک ہر کارنامہ تاریخی نوعیت کا حامل ہے۔ مولانا نے ایک ایسی اردو نثر کے ذریعے جو تنوع‘ استدلال‘ وسعت‘ ندرت‘ چاشنی اور ادبیت کی خوبیوں سے مزین تھی‘ مسلمانان برصغیر‘ پاک و ہند کے دلوں پر دستک دی۔ یہ مولانا کے اخلاص اور اُن کی تحریر و تقریر کی دلآویزی اور اثرانگیزی کا ہی نتیجہ ہے کہ مولانا کے ہزاروں قارئین و سامعین کے دلوں کی دنیا بدل گئی۔ مولانا کی اوائل جوانی میں ایک تاریخی کتاب ''الجہاد فی الاسلام‘‘ منظرعام پر آئی تو اس کے مداحوں میں خود علامہ محمد اقبالؒ بھی شامل تھے۔ مولانا مودودی کی تحریروں سے واضح ہوگیا کہ دین اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ محض نظریاتی‘ تخیلاتی اور فکر کی بنیادوں پر قائم نہیں بلکہ عملی بنیادوں پر قائم ہے اور یہ دین اپنے اعتقادی‘ فکری‘ اخلاقی‘ تعلیمی‘ تمدنی اور معاشی اعتبار سے نبی آخرالزماںﷺ کے عہد میں عملاً قائم ہوگیا تھا۔ عصرِحاضر میں اسلامی نظام قائم کرنے کی اہمیت اجاگر کرنے کے بعد اصل سوال یہ تھاکہ موجودہ دور میں اسلامی نظام کا نفاذ کیسے ہوگا؟ مولانا مودودی نے دینی علوم و تاریخ کی روشنی میں مجتہدانہ بصیرت سے کام لیتے ہوئے اس سوال کا جواب دیا کہ آج کے دور میں نفاذِ اسلام جمہوریت اور انتخاب کے ذریعے ہوگا۔
پاکستان سمیت مسلم دنیا میں نفاذِ اسلام کیلئے تین ماڈل اختیار کیے گئے۔ ایک ماڈل نفاذِ اسلام بزورِ شمشیر‘ دوسرا بادشاہوں اور آمروں کے ذریعے غلبۂ اسلام اور تیسرا مولانا مودودی کا دیا گیا ماڈل نفاذِ اسلام بذریعہ انتخاب۔ اسلامی دنیا بالخصوص عالم عرب میں پہلے دونوں ماڈل ناکام ہوگئے البتہ تیونس میں اسلامی نظام کو کسی حد تک بذریعہ جمہوریت نافذکیا گیا؛ تاہم غیرعرب مسلم دنیا میں ترکی‘ ملائیشیا اور پاکستان وغیرہ میں بڑی حد تک نفاذِ اسلام بذریعہ انتخاب کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظرآرہی ہیں؛ تاہم اہم ترین سوال یہ ہے کہ غلبۂ اسلام بذریعہ انتخاب قائم کرنے کی تحریک اٹھانے والی جماعت ابھی تک انتخابی سیاست میں کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل کیوں نہیں کرسکی؟ حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودی کے بعد میاں طفیل محمد سے لے کر جناب سراج الحق تک جماعت کا ہر امیر مولانا مودودی کی تحریک اور شخصیت کا عکسِ جمیل ہے اور اخلاص کے معیارِ مطلوب پر پورا اترتا رہا ہے جو مولانا نے علمی اور جماعتی طور پر مقرر کیا تھا۔
1970ء سے لے کر آج تک پچاس سالہ تاریخ میں جماعت اسلامی کی انتخابی کارکردگی کا بے لاگ جائزہ لیا جائے تو چند استثنائی وقفوں کو چھوڑ کر‘ اسکی سوچ اور اپروچ حقیقت پسندی کے بجائے خوش فہمی پر مبنی نظرآتی ہے۔ جماعت کے قائدین کے اخلاص اور اُن کی دیانت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا مگر جماعت کی خوش فہمی اور زمینی حقائق میں بہت بڑا بُعد ہے۔ پاکستان میں دینی جماعتوں کے مسلکی اختلافات اور عوام کی نظریاتی عدم تربیت کے باعث ووٹ دینے کیلئے لوگوں کی ترجیحات میں فرقہ واریت‘ قرابت داری‘ ذات برادری‘ تھانہ کچہری میں اثر و رسوخ اور سماجی و مالی مقام و مرتبہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان حقائق سے نبردآزما ہونے کیلئے جماعت کی دونکاتی حکمت عملی ہونی چاہئے تھی۔ اس کے کچھ امیدواروں کا مرجع خلائق ہونا جیسے ڈاکٹر نذیر احمد شہید تھے اور دینی جماعتوں کا اتحاد۔
قاضی حسین احمد مرحوم و مغفور ایک زمانے میں اس حکمت عملی سے قریب تر ہو گئے تھے اور ان کی شبانہ روز محنت سے بریلوی مکتب فکر کے مولانا شاہ احمد نورانی اور دیوبندی مسلک کے مولانا فضل الرحمن ایم ایم اے کے جھنڈے تلے اکٹھے ہوگئے تھے۔ اس اتحاد کی برکت سے دینی جماعتوں کو قومی اسمبلی میں ستر سے اوپر نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ ان ستر میں سے 28 سیٹیں لے کر جماعت اسلامی نے اسمبلی میں بے مثال پرفارمنس دکھائی جبکہ جناب سراج الحق نے بحیثیت وزیر خزانہ خیبرپختونخوا میں قابل تقلید کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مگر پھر 2008ء میں قاضی صاحب نے ایم ایم اے کو خیرباد کہہ دیا اور انتخابات کا بھی بائیکاٹ کردیا۔ بائیکاٹ کے فیصلے سے جماعت کے ووٹر اور سپورٹر بہت مایوس ہوئے۔ اُن کا کہنا تھاکہ جماعت اسلامی انتخابی سیاست میں سیریس نہیں۔ قاضی صاحب کے بعد سید منور حسن جماعت کے امیر منتخب ہوئے کہ تقویٰ میں اُن کا کوئی ثانی نہیں تھا۔
کنٹونمنٹ بورڈز کے تازہ ترین انتخابات میں راولپنڈی اور کراچی سے جماعت کو قابلِ قدر مگر محدود کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس کامیابی کا سہرا جماعت کے مرجع خلائق امیدواروں کو جاتا ہے۔ جماعت جائزہ لے کہ اس کے پاس کتنے ایسے امیدوار ہیں۔ جماعت اسلامی کے ہمدردوں اور خیرخواہوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ جماعت کو چاہئے کہ وہ ان کی آرا کو بھی اہمیت دے۔ جماعت کے سپورٹرز یہ سمجھتے ہیں کہ خوش فہمی کے بعد جماعت کی انتخابی ناکامی کا دوسرا بڑا سبب اُن کی پالیسی کا عدم تسلسل ہے۔
آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی بلااتحاد اپنے بل بوتے پر ایک سیٹ بھی حاصل نہیں کرسکی۔ یہ ناکامی جماعت کیلئے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ آج جماعت کے قومی اسمبلی میں بارہ پندرہ ممبران بھی ہوتے تو موجودہ حکومت کو تبدیلیٔ مذہب پر پابندی لگانے اور صحافیوں کی زباں بندی جیسے قوانین لانے کی جرأت نہ ہوتی۔ جماعت کے لاکھوں ووٹرز اور سپورٹرز مولانا مودودی کے موجودہ جانشین سینیٹر سراج الحق سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کریں گے اور سیاسی و دینی جماعتوں سے اتحاد کرنے کی ایک ایسی انتخابی پالیسی اختیار کریں گے جس سے جماعت کی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں قابل ذکر کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں