نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت مشاورتی اجلاس
  • بریکنگ :- وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی خصوصی شرکت
  • بریکنگ :- پارٹی اموراوربلدیاتی انتخابات کےحوالےسےتجاویزکا جائزہ
  • بریکنگ :- بلدیاتی الیکشن کےحوالےسےمختلف آپشنزپرغور
Coronavirus Updates

بیس لائن میں شکست

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی شکست ڈرامائی نہیں‘ منطقی ہے۔ اس طرح کی کارکردگی کا یہی نتیجہ ہونا تھا۔ حقیقت پسند ہوتے ہیں وہ لوگ جو محاسبہ کرتے ہیں‘ دن بھر کے نیک و بد کا‘ جو اپنی پرفارمنس کا غیر جانبداری سے جائزہ لیتے ہیں‘ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے اور ان سے سبق سیکھتے ہیں۔ خان صاحب حقیقت پسندی کے ساتھ واسطہ نہیں رکھتے۔ پی ٹی آئی اپنی ہی بیس لائن پر شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ جناب عمران خان کی شکست کا سبب مہنگائی‘ بے روزگاری‘ بدانتظامی اور وعدہ خلافی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ لوگ ان کے خود کچھ نہ کرنے اور دوسروں کو برا بھلا کہنے والے بیانیے سے تنگ آ چکے ہیں۔ ووٹروں نے خان صاحب کے بیانیے کو یکسر مسترد کیا ہے اور مولانا فضل الرحمن کے بیانیے کو قبول کر لیا ہے۔ تبھی تو 61میں سے جے یو آئی کو 21اور پی ٹی آئی کو صرف 14تحصیلوں میں کامیابی ملی۔
اب جناب وزیراعظم کہتے ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی براہِ راست نگرانی کریں گے۔ خان صاحب کو بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے بارے میں درست معلومات تھیں اور نہ ہی اگلے مرحلے کے بارے میں وہ بخوبی جانتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی انتخابی سیاست کے پیچ و خم سے جو شخص آگاہ تھا اسے خان صاحب نے کھڈے لائن لگا دیا ہے۔ اس کا نام پرویز خٹک ہے۔ تحصیل کی بنیاد پر صوبے کے جن سترہ اضلاع میں انتخابات منعقد ہوئے وہ پی ٹی آئی کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں‘ ان اضلاع میں پشاور‘ مردان‘ نوشہرہ‘ چارسدہ اور صوابی شامل ہیں۔ جب یہاں پی ٹی آئی عبرتناک شکست سے دوچار ہوئی ہے تو دوسرے مرحلے میں اس کا حشر اس سے بھی برا ہو سکتا ہے۔ دوسرے مرحلے والے اضلاع میں ہزارہ ڈویژن‘ مانسہرہ اور ایبٹ آباد وغیرہ شامل ہیں۔ یہ اضلاع مسلم لیگ (ن) کا سٹرانگ ہولڈ سمجھے جاتے ہیں۔ دوسرے فیز میں دیر اور سوات وغیرہ بھی شامل ہیں جو جماعت اسلامی کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے ایسی واضح شکست کا اعتراف بھی اتنا ہی واضح ہونا چاہئے تھا مگر اس کیلئے ہمت و حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ البتہ شبلی فراز صاحب نے پارٹی شکست کا اعتراف کیا اور صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے کہا کہ ہم مہنگائی کنٹرول نہ کر سکے اور یہی ہماری شکست کا سبب ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ جناب عمران خان بھی شکست کو تسلیم کر لیں گے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا؛ تاہم پی ٹی آئی کی جس شخصیت نے نہایت حقیقت پسندی اور بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے وہ اسی جماعت کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان ہیں‘ انہوں نے ادھورا نہیں پورا سچ بولا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب پی ٹی آئی کو ووٹ دیا گیا تو وہ سستا آٹا‘ سستی چینی اور سستے پٹرول اور نوکریوں کیلئے ووٹ دیا گیا تھا۔ اگر ہم غریب کو آٹا‘ چینی اور ادویات وغیرہ پہلے سے کئی گنا زیادہ قیمت پر دیں گے اور سردیوں میں گھروں کو گیس نہیں دیں گے تو لوگ بلبلا اٹھیں گے اور ووٹ نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے علی الاعلان کہا کہ اگر پشاور میں میری زمینوں کے جعلی کاغذات بنوا کر اسے کسی دوسرے کو ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے تو باقی عوام الناس کا کیا حال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب کے مقربین میں سے کوئی بھی صاف بات نہیں کرتا‘ یہ لوگ ''سب اچھا‘‘ کی رپورٹ دیتے ہیں جبکہ سب اچھا ہرگز نہیں۔
اب آیئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی عظیم الشان کامیابی کے اسباب کی طرف۔ جے یو آئی ایف روایتی طور پر ہمیشہ سے کے پی کے جنوبی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان‘ ٹانک‘ لکی مروت اور بنوں وغیرہ میں کامیاب ہوتی رہی ہے مگر اس بار یہ مولانا فضل الرحمن کے بیانیے کا کرشمہ تھا کہ انہیں وہاں سے بھی کامیابی ملی جہاں بظاہر اس کا امکان نہیں تھا۔ بالخصوص مولانا نے پی ٹی آئی کے گڑھ پشاور میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ کر سب کو حیران کردیا ہے۔ پشاور کی سات میں سے پانچ تحصیلیں جے یو آئی کے حصے میں آئی ہیں۔ اس کے علاوہ جمعیت کو چارسدہ اور مردان وغیرہ سے بھی نمایاں کامیابی ملی ہے۔ پی ٹی آئی اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ مولانا نے اپنی سیاسی امیدوں اور توانائیوں کا مرکز و محور''لانگ مارچ‘‘ کو بنا رکھا ہے جبکہ حقیقت حال اس کے برعکس تھی۔ اس دوران جے یو آئی نہایت سنجیدگی کے ساتھ ایک ایک بلدیاتی حلقے کا جائزہ لیتی رہی اور یہ دیکھتی رہی کہ کس سیٹ کیلئے کون سا امیدوار موزوں ترین ہے۔ جے یو آئی کی کنویسنگ ٹیموں‘ رابطہ گروپوں‘ معززین علاقہ کی مجالس نے عوام و خواص تک اپنا پیغام پہنچایا۔ کے پی کے ووٹرز پہلے ہی مہنگائی کے ستائے ہوئے تھے اوپر سے وہ جنابِ عمران خان کے بیانیے سے ''نکونک‘‘ ہو چکے تھے۔ اس بلدیاتی الیکشن نے مٹھی بھر لبرل خواتین و حضرات کا پھیلایا ہوا یہ مغالطہ بھی دور کر دیا ہے کہ نوجوان دینی قوتوں سے دور ہو چکے ہیں۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے ٹیلی فون پر میرے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بلدیاتی انتخاب میں ہمیں پیرو جواں‘ مرد و خواتین غرضیکہ سوسائٹی کے ہر گروپ نے برضا و رغبت ووٹ دیے ہیں۔ انتخابی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے میں نے مسکراتے ہوئے مولانا سے کہا کہ ''کیا مولانا آ رہا ہے‘‘؟ انہوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا :مولانا آ نہیں رہا‘ آ چکا ہے۔ میں نے عرض کیا: مولانا مستقبل کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں ہمیں پہلے سے بڑھ کر کامیابی ملے گی۔ یکے بعد دیگر کامیابی کے دروازے کھلتے جائیں گے۔ مولانا کے بقول: اب ہم عوام کو لانگ مارچ سمیت جو بھی کال دیں گے وہ اس پر جوق در جوق لبیک کہیں گے۔ میں جس فواد چودھری کو جانتا تھا ان کے بارے میں میرا خیال تھا کہ وہ ایک سمجھدار لچکدار سیاست دان ہیں‘ مگر وہ اندر سے اتنے شدت پسند ہوں گے اس کا مجھے ہرگز اندازہ نہ تھا۔ یہ کیسا غیر سیاسی اورغیر دانشمندانہ بیان ہے کہ تحریک انصاف کمزور ہوئی تو ملک بھیڑیوں کے ہاتھ لگ جائے گا۔ فواد چودھری صاحب نے پی ٹی آئی کو کیسے ایک ''معتدل سیاسی جماعت‘‘ سمجھ رکھا ہے جو جماعت اپوزیشن کی بات سننے کو تیار نہ ہو‘ جس جماعت کا سربراہ من مانی کو اپنا طرۂ امتیاز سمجھتا ہو‘ جس جماعت کا قائد ایوان‘ ایوان میں آنے‘ اپوزیشن کے سوالات کے جوابات دینے‘ معزز ارکان اسمبلی کی تنقید کو خندہ پیشانی سے سننے کا روادار نہ ہو وہ جماعت ایک معتدل سیاسی جماعت کیسے کہلا سکتی ہے؟ پاکستان کی تاریخ میں جے یو آئی کو ایک اعتدال پسند دینی و سیاسی جماعت سمجھا جاتا ہے۔ یہ فواد چودھری صاحب نے کیا کہا کہ جے یو آئی جیسی شدت پسند جماعتیں ہمارا متبادل نہیں ہو سکتیں۔ کسی جماعت کی شدت پسندی‘ اعتدال پسندی کا فیصلہ کس نے کرنا ہے؟ اس کا فیصلہ ووٹروں نے کرنا ہے۔ اب ووٹروں نے اپنا فیصلہ صادر کرنا شروع کر دیا ہے۔ جناب وزیراعظم اور ان کے وزرا عوامی فیصلے پر کان دھریں۔ پی ٹی آئی نے ضمنی انتخابات سے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا اور نہ ہی اپنی پالیسیوں پر کوئی نظرثانی کی تھی وگرنہ شاید خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخاب کا نقشہ اور نتیجہ قدرے مختلف ہوتا۔
64تحصیلوں میں سے 60کے نتائج آ چکے ہیں۔ ان نتائج کے مطابق جے یو آئی کی 21، پی ٹی آئی کی 14‘ اے این پی کی 6‘ مسلم لیگ (ن) کی 3‘ جماعت اسلامی کی 2 اور پیپلزپارٹی کی ایک سیٹ آئی ہے۔ جماعت اسلامی تاریخی طور پر خیبر پختونخوا میں بڑی بڑی انتخابی کامیابیاں حاصل کرتی رہی ہے مگر اب اس کی صرف دو تحصیلوں میں کامیابی اس کیلئے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ یہ تو آنے والے چند مادہی بتائیں گے کہ پی ٹی آئی اپنی بیس لائن کی چشم کشا شکست سے کوئی سبق سیکھتی ہے یا اپنی پرانی روش کو ہی جاری رکھتی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں