نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم سےوزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی ملاقات
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ عثمان بزدارکی اہم امورپروزیراعظم کوبریفنگ
Coronavirus Updates

کیا ہونے والا ہے؟

مسکراہٹ بڑا معنی خیز ہتھیار ہے۔ یہ کبھی دل کا حال چھپانے اور کبھی وہ کچھ بتانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو مصلحتاً لبوں پر نہیں آسکتا یا نہیں لایا جاتا۔ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کے والد خواجہ محمد رفیق شہید کی برسی پر سابق سپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما جناب ایاز صادق نے ایک ایسی ہی مسکراہٹ سے کام لیا جس کے بعد اُن کے اپنے حلقوں میں زندگی اور زندہ دلی کی ایک نئی پرجوش لہر دوڑ گئی۔ بقول اصغر گونڈوی
یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی
یوں لب کشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا
کچھ ہونے والا ہے یا نہیں ہونے والا اس پر تو بعد میں قدرے تفصیل سے بات کرتے ہیں مگر ایاز صادق کی معنی خیز مسکراہٹ کے بعد پی ٹی آئی کے ایوانوں میں جو بھونچال دیکھنے میں آرہا ہے‘ اس سے تو یہ لگتا ہے کہ جیسے بہت کچھ ہونے والا ہے۔ کیا واقعی بہت کچھ ہونے والا ہے؟ مگر ٹھہریئے پہلے میں اپنے نوجوان قارئین کو بتا دوں کہ خواجہ محمد رفیق شہید کون تھے۔ آج سے تقریباً نصف صدی قبل جام شہادت نوش کرنے والے خواجہ محمد رفیق لیڈروں اور کارکنوں کی اس صف کے آخری سپاہی تھے جو اپنے نظریے اور مقصد کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے پر ہردم تیار رہتے تھے۔
خواجہ محمد رفیق کا تعلق امرتسر کے ایک خوشحال کشمیری خانوادے سے تھا۔ تقسیم ہند کے وقت خواجہ محمد رفیق اٹھارہ انیس برس کا ایک ایسا نوجوان تھا کہ جس کے گھر والوں نے اسے طب کی تعلیم کے لیے انگلستان بھیجنے کے انتظامات مکمل کر لیے تھے مگر عین اُن دنوں قائداعظم محمدعلی جناح نے ہندوستان کے مسلمان نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں شامل ہوں۔ خواجہ صاحب نے قائد کے اس حکم پر لبیک کہا اور اپنے گھر والوں کو راضی کرلیا کہ وہ سردست انہیں انگلستان بھیجنے کا ارادہ ملتوی کردیں۔
پاکستان آکر امرتسر کے اس متمول خاندان نے برائے نام کلیم داخل کیا اور اندرونِ شہر ایک چھوٹے سے مکان پر اکتفا کیا۔ بعد کے سالوں میں جب خواجہ محمد رفیق نے دیکھا کہ مسلم لیگ قائداعظم کے راستے سے مسلسل انحراف کرتی جا رہی ہے تو وہ حسین شہید سہروردی کی عوامی لیگ میں شامل ہوگئے۔ خواجہ محمد رفیق آمروں اور آمریت پسند ''جمہوری حکمرانوں‘‘ کے خلاف تیغ برّاں تھے۔ اُن کے بارے میں اس دور کی صحافتی شمشیر بے نیام آغا شورش کاشمیری نے لکھا تھا:
''خواجہ محمد رفیق کی للکار شروع میں صدا بصحرا تھی۔ رفتہ رفتہ یہی آواز شہنائی کی لَے سے شمشیر کی گونج ہوگئی۔ اس آواز کے جرم میں انہیں بڑی سے بڑی قیمت ادا کرنی پڑی‘ انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر ڈالا... خواجہ رفیق وہ شخص تھا جس نے سب سے پہلے ایوب خان کے شہزادوں‘ درباریوں اور گماشتوں کو للکارا۔ دورِ ایوبی میں خواجہ رفیق شہید کو بارہا شرکت اقتدار کی پیشکش کی گئی جو ہربار انہوں نے قلندرانہ شان سے ٹھکرا دی۔‘‘
20 دسمبر 1972ء کو ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں خواجہ رفیق نے ایئر مارشل اصغر خان کے ساتھ مل کر لاہور میں ایک جلوس کی قیادت کی تھی۔ جلوس پنجاب اسمبلی پہنچ کر ختم ہوگیا جہاں اس دور کی رپورٹ کے مطابق‘ پیپلز پارٹی کے مسلح جیالوں نے اُن پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی جس سے وہ شہید ہوگئے۔
اِن دنوں ہر طرف یہ خبر عام ہے کہ میاں محمد نواز شریف جنوری میں پاکستان واپس آرہے ہیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی کے حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ انہیں دو ہفتوں میں انگلستان چھوڑنے کو کہا گیا ہے مگر ایسی کوئی خبر برطانوی حکومت کی طرف سے سامنے نہیں آئی۔ ادھر پاکستان میں دلچسپ صورتِ حال دیکھنے میں آرہی ہے۔ پی ٹی آئی کے وزرا کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور مقتدر حلقوں میں کوئی ڈیل ہوئی ہے نہ ہی کوئی انڈرسٹینڈنگ؛ تاہم جناب وزیراعظم بنفس نفیس یہ فرما رہے ہیں کہ ایک نااہل شخص کو چوتھی بار وزیراعظم بنانے کی تیاری ہورہی ہے۔ جنابِ وزیراعظم ‘ جو گزشتہ کئی برس سے قوم کو گھبرانا نہیں‘ گھبرانا نہیں کا درس دیتے چلے آرہے ہیں‘ اس وقت خود شدید گھبراہٹ کا شکار نظر آرہے ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ آزمائش میں گھبراہٹ اس سے بڑی مصیبت بن جاتی ہے۔
خیبرپختونخوا کے پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات پارٹی بنیادوں پر منعقد ہوئے۔ 17 اضلاع کی 61 تحصیلوں میں پی ٹی آئی کو صرف 14 میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اس ناکامی سے پی ٹی آئی کے حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ جنابِ وزیراعظم نے پارٹی کے کسی بند کمرہ اجلاس میں نہیں بلکہ برملا اپنے وزیروں کی ڈانٹ ڈپٹ کی ہے۔ عمران خان کا خیال یہ ہے کہ پارٹی کو اس شکست کا سامنا وزیروں کے رشتہ داروں کو بلدیاتی ٹکٹ جاری کرنے کی بنا پر کرنا پڑا ہے۔
جب آپ اپنے وزرا اور پارٹی عہدہ داروں کو یوں نشانہ تضحیک بنائیں گے تو اس سے اُن کی سخت دل شکنی اور عوام الناس کے سامنے جگ ہنسائی ہوتی ہے۔ ایسی باتیں پارٹی کے اِن ڈور اجلاسوں میں کی جاتی ہیں۔ نفسیاتی طور پر اگر آپ مخالفین کے ایک ہی وار سے یوں گھبراہٹ کا اظہار کریں گے تو آپ کے باقی ماندہ ووٹرز بھی اپنی رائے پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اب جناب عمران خان نے تحریک انصاف کے نئے پارٹی عہدہ داروں کا اعلان کر دیا ہے۔ ہم نے تو تاریخ کی کتابوں میں یہ پڑھ رکھا ہے کہ معرکے کے دوران گھوڑے اور گھڑسوار تبدیل نہیں کیے جاتے مگر پی ٹی آئی کی شانِ جہانبانی بڑی نرالی ہے۔ ہر روز منتظم تبدیل کیے جاتے ہیں۔ کسی انتظامی عہدیدار پر پورا اعتماد نہیں کیا جاتا۔ انگریزی محاورے کے مطابق ادھورا اعتماد بے اعتمادی کے مترادف ہوتا ہے۔
جناب عمران خان سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ مرض کے علاج کے لیے جس چیز کی سب سے زیادہ اہمیت سمجھی جاتی ہے وہ تشخیص ہے۔ اگر تشخیص درست ہوگی تو علاج بھی درست ہوگا اور مریض شفایاب ہوگا۔ اگر خدانخواستہ تشخیص ہی غلط ہوگی تو پھر علاج بھی ٹھیک نہیں ہو سکے گا۔
بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی ناکامی کا اصل سبب غیرموزوں امیدوار نہیں۔ یہ بھی پی ٹی آئی کی ایک غلط فہمی ہے کہ اگر امیدوار تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیروں کے رشتہ دار نہ ہوتے اور عام کارکنان ہوتے تو کامیابی اُن کے قدم چوم لیتی۔ دراصل ووٹر جب کسی جماعت کی پالیسیوں سے مایوس ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے غم و غصے کا اظہار اس پارٹی کے خلاف ووٹ دے کر کرتے ہیں۔ اس معاملے میں خیبرپختونخوا کے ووٹر بہت باشعور سمجھے جاتے ہیں۔
تحریک انصاف سے ووٹروں کے برگشتہ ہونے کے دو تین بڑے واضح اسباب ہیں جن میں ہوشربا مہنگائی‘ بے روزگاری اور بدانتظامی شامل ہیں۔ اس پر مستزاد عوام کو منی بجٹ کی شکل اور آئی ایم ایف کی ہدایات کی صورت میں کوڑا لہراتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ناکامی کے اسباب کو تحریک انصاف کے قائدین و کارکنان اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں۔ اگر نہیں جانتے یا جاننا نہیں چاہتے تو وہ جناب عمران خان خود ہیں۔
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
جناب ایاز صادق کی مسکراہٹ کہتی ہے کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے اور جناب عمران خان کی گھبراہٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کہ کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ ہونے والا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں