آج کل پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کا بازار لگا ہوا ہے۔ بولیاں لگ رہی ہیں اور قیمتیں بڑھائی گھٹائی جارہی ہیں۔ پارٹی قائدین دربار لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ پیسے کے علاوہ ہردرخواست گزار اپنے اپنے حلقے میں اثر و رسوخ کا نقشہ پیش کر کے اپنے یقینی قابلِ انتخاب(Electable) ہونے کا ثبوت پیش کررہاہے۔ اسکے علاوہ وفاداریاں بھی ثابت کی جارہی ہیں۔ لوٹا کریسی بھی عروج پر ہے۔ اپنی پارٹی کا ٹکٹ نہیں مل رہا تو راتوں رات قلابازی کھا کردوسری پارٹی کی ٹکٹ کے لیے تگ و دو ہو رہی ہے یا آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے اپنے روائتی حریف کے بالمقابل کھڑے ہونے کے اعلانات کئے جارہے ہیں…عجیب نفسانفسی کا سماں ہے۔ کاغذاتِ نامزدگی کاغذات جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کے باوجود پارٹی قائدین ٹکٹوں کی تقسیم کا کام مکمل نہ کرسکے۔ ماڈل ٹائون لاہور میں ن لیگ کا دربار لگا ہے۔ چند ماہ قبل تک مسلم لیگ (ن) کا گراف بہت نیچے تھا۔ پھر مختلف داخلی اور خارجی عوامل نے اپنا کام دکھایا۔ برطانیہ، امریکہ اور شریف برادران کے مابین ایک عرب ملک کے سلسلہ جنبانی کے نتیجے میں اعتماد و وفاداری کی فضا قائم ہوئی ۔ غالباً صدر زرداری کے پاک۔ایران گیس پائپ لائن اور گودار بندرگاہ کے فیصلوں میں محبوب کی بے وفائی،رقیبوں سے التفات کا سبب بنی ۔ چنانچہ امریکی کمپنیوں کی طرف سے یکے بعد دیگرے سروے آنے لگے جن میں مسلم لیگ (ن) کو پہلے نمبر پر دکھایا جانے لگا۔ اقتدارکی ہوس سے سرشار بینا نگاہوں کو نظر آنے لگا کہ قرعہ فال نون لیگ کے حق میں نکل چکا ہے۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے سابق ارکان جوق در جوق نون لیگ میں شمولیت کا اعلان کرنے لگے۔ مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ( ن) میں بھی انتخابی اتحاد کی صورت بننے لگی جس میں اس بات کا بھی دخل تھا کہ شریف خاندان اور داخلی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پنجابی کارو باری سرمایہ دار طبقات نے مشرف دور کے ٹوٹے ہوئے اعتماد کی بحالی کا کوئی سامان پیدا کرلیا ہے۔ چنانچہ آج کل نون لیگ اگلے انتخابی میچ کی سب سے ہاٹ فیورٹ جماعت بن گئی ہے۔ ٹکٹ کے اُمیدوار اپنے حلقوں سے حامیوں کے جتھے لے کر ماڈل ٹائون پہنچے ہوئے ہیں اور ٹکٹوں کی بولیاں بہت اوپر جاچکی ہیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم کا معاملہ تحریک انصاف میں بھی بظاہر پارلیمانی بورڈ کے پاس ہے لیکن فیصلہ کن حیثیت عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔ پیپلز پارٹی بری طرح انتشار کا شکار ہے۔ اُمیدوار اپنی اپنی بساط اور فیصلے کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرا رہے ہیں۔ خاص طور پر پنجاب میں صورت حال دگرگوں ہے جہاں اس پارٹی کے نام پر انتخاب لڑ کر اپنا پیسہ برباد کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہو رہا۔ٹکٹ کا پروانہ جاری کرنے کا اختیار بھٹو زرداری خاندان ہی کے پاس ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) ، اے این پی، ایم کیو ایم وغیرہ میں بھی ٹکٹوں کا معاملہ قیادت کے ہاتھ میں ہے۔ برصغیر کی پارلیمانی جمہوریت میں ٹکٹ پارٹی قیادت ہی جاری کرتی ہے۔ ہمارا طرزِ حکمرانی اوپر سے نیچے آتا ہے ۔ حکومت ہو یا سیاسی پارٹی، اختیار صرف اوپر والوں کے پاس ہوتا ہے۔بتدریج نیچے تابعداری اورپیروی کی جاتی ہے ،حکم عدولی کرنے والوں کو زیرعتاب آنا پڑتا ہے۔ وہ اوپر والوں کی پسند ناپسنداوراُن کے مفادات کے زیرنگیں ہوتے ہیں۔ اسی لئے جمہوریت لولی لنگڑی کہلاتی ہے اور یہ عوام یا ملک کو کچھ بھی ڈیلیور (Deliver) نہیں کر پاتا۔ البتہ اقتدار پر براجمان حکمران طبقوں کو بہت کچھ ڈیلیور ہو جاتا ہے۔ پچھلے دنوں ہمارے بزرگ دوست برطانیہ سے آئے ہوئے تھے۔ وہ سنانے لگے کہ ایک مرتبہ اُنہوں نے اپنے چند انگریز دوستوں کے سامنے ہمارے ہاں رائج پارٹی ٹکٹ کی تقسیم کا ذکر کیا۔ اس پر انگریز دوستوں نے کہا ’’تو کیا یہ لوگ اس ٹکٹ پر ریل یا بس یا ہوائی جہاز کا سفر کرتے ہیں؟‘‘ انہیں اس ’’ٹکٹ‘‘ کا معاملہ سمجھانا خاصامشکل ہوگیا ؛تاہم کسی نہ کسی طور وہ انہیں سمجھانے میں کامیاب ہوئے جو اُن کے لئے حیران کن بات تھی۔ ہم کہنے کو برطانوی پارلیمانی جمہوریت کے علمبردار یا پیروکار کہلاتے ہیں اگرچہ وہ جمہوریت بھی مخصوص سرمایہ دار طبقوں کے مفادات کی رکھوالی کرتی ہے لیکن وہاں اختیار و اقتدار نیچے سے اوپر کی طرف جاتا ہے، ادارے مضبوط ہیں،وہ اپنا کام کرتے ہیں ،چند افراد کے مرہونِ منت نہیں ہوتے۔ پارٹیاں اور نظام خود اپنی حرکیات سے چلتا ہے۔ ریاست ناکام نہیں ہوتی، عوام کو کچھ نہ کچھ ڈیلیور ہوتا رہتا ہے جس کے بغیر وہ نظام چل نہیں سکتا۔ یوں تو دنیا کے صنعتی ممالک کی جمہوریت کا پاکستان کی جاگیردارانہ جمہوریت سے موازنہ نہیں ہوسکتا مگر جب اس لولی لنگڑی جمہوریت کی کارکردگی سے عوام مایوس ہو کر اسے کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں تو جاگیردارانہ جمہوریت کے ٹھیکیدار اسے ’’جمہوریت‘‘ قرار دینے لگتے ہیں۔ سویلین اور فوجی کی بحث بیچ میں لے آتے ہیں اور جاگیردارانہ شخصی جمہوریت کا دفاع یورپی جمہوریت کے طور پر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ موازنہ بحث میں لانا ہی ہے تو پھر اس کے تمام پہلوئوں کو بحث میں لانا چاہیے تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ حقیقی جمہوریت کی جڑیں کہاں ہوتی ہیں اور جعلی جمہوریت کی کہاں ۔ برطانوی پارلیمانی جمہوریت میں اُمیدواروں کی نامزدگی کا طریق کار ہمارے ہاں سے یکسر مختلف ہے۔ وہاں حکومتی انتظامی ڈھانچے کا بنیادی ادارہ کونسل ہے۔ اسی مناسبت سے ہر پارٹی کی شاخ بھی کونسل کی سطح پر ہوتی ہے۔ آپ پارٹی کے رکن کی حیثیت سے پہلے کونسل کی سطح پر سیاسی عمل کا حصہ بنتے ہیں اور کونسلر منتخب ہوتے ہیں۔ عام طور پر کونسلرز میں سے ہی کچھ پارلیمانی انتخاب کی نامزدگی کے لئے پارٹی کو درخواست دیتے ہیں۔ ایک حلقہ نیابت میں ایک سے زیادہ نامزدگی کے اُمیدوار خود کو اُس حلقہ میں اپنی پارٹی کے ارکان کے اجلاس میں پیش کرتے ہیں اور اپنی نامزدگی کے حق میں تقاریر کرتے ہیں۔ پھر حلقہ نیابت کے پارٹی ارکان ووٹنگ کے ذریعے اُن اُمیدواروں کی بطور کونسلر کارکردگی کی بنیاد پر کسی ایک کو چُن کرپارٹی اُمیدوار کی حیثیت سے نامزد کرتے ہیں۔ اسکے بعد پارٹی ہیڈ آفس میں اُمیدواروں کی جانچ پڑتال کا شعبہ اس نامزدگی کی توثیق کرتا ہے اوروہ اس حلقہ نیابت میں پارٹی ارکان کی اکثریتی حمایت سے اپنی پارٹی کا اُمیدوار بن جاتا ہے۔ اس طرح قیادت نیچے سے اوپر کی طرف جاتی ہے اور پارٹی بطور جمہوری ادارہ کام کرتی ہے۔ ٹونی بلیئر، گورڈن برائون یا ڈیوڈ کیمرون دربار لگا کر ٹکٹ تقسیم نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں برطانوی پارلیمانی جمہوریت کی ایک جعلی شکل پائی جاتی ہے۔ ہمارے مُلک کی سیاسی پارٹیاں ان کے قائدین کی جاگیریں ہیں۔ ان کے نامزد کردہ منتخب ارکان اسمبلی کی لگام ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ کبھی کبھار ارکان بے لگام بھی ہو جاتے ہیں مگر راندۂ درگاہ ٹھہرتے ہیں۔ بیشتر ارکان منتخب ہونے کے بعداسمبلی کے اجلاسوں میںقائدین کے اشارے پر صرف ہاتھ کھڑے کرنے کا کام کرتے ہیں جبکہ قائدین کو بھی کہیں سے اشارہ ملا ہوتا ہے۔ اس طرح کی اسمبلی ربڑ سٹمپ سے زیادہ حیثیت کی حامل نہیں ہوتی۔ مقامی یا بیرونی اسٹیبلشمنٹ بھی پارٹی کے قائدین سے معاملات طے کرلیتی ہے۔ انتخابات میں ووٹ ڈالتے وقت بظاہر یوں لگتا ہے کہ اقتدار نیچے سے اوپر جارہا ہے مگر حقیقتاً یہ اقتدار اوپر سے اور اوپر چلا جاتاہے۔ ہمارے ہاں حقیقی جمہوریت تب آئے گی جب پارٹی کی سطح پر بھی اختیار و اقتدار حقیقی معنوں میں نیچے سے اوپر جائے گا اور پارٹی قیادت کے اختیار و اقتدار کا سرچشمہ پارٹی کارکن ہوں گے۔ ابھی تو بہت سی پارٹیوں کے ہاں پارٹی ممبران کا کوئی خاص تصور نہیں۔صرف امیدوار کی ذات، برادری اور اس سے وابستہ مفادات کے حامل سپورٹرز کا ایک جم غفیر اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جن پارٹیوں میں پارٹی کارکن ہیں وہ صرف نعرے لگانے، جلسہ گاہیں بھرنے، جلوسوں میں گاڑیاں اور بسیں بھر کر لانے کیلئے خرکار کا کام کرتے ہیں۔