"HJC" (space) message & send to 7575

دینی اور دنیوی تعلیم:آج کا تقاضا کیا ہے؟

چند برس پیشتر جب میرا بڑا بیٹا عدیل انقرہ (ترکی) کی مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی (METU)میں تعلیم مکمل کر رہا تھا‘ اس نے وہیں کی ایک لڑکی سے شادی کا فیصلہ کر لیا۔ وہ بھی METU سے کیمیکل انجینئرنگ کی گریجویٹ تھی۔ لڑکی کے ماں باپ راضی ہو گئے تو ہم بھی راضی ہو گئے۔ میں اپنی بیگم اور دوسرے بیٹے کے ہمراہ انقرہ پہنچ گیا۔ میرے دو بھائی اور بھتیجی بھی اپنے شوہر کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے اور یوں ایک چھوٹی سی بارات بن گئی۔ ترکی کے قانون کے مطابق لڑکی اور لڑکا شادی رجسٹرار کے دفتر گئے اور جج کے سامنے مطلوبہ دستاویزات پر دستخط کرنے کے بعد قانوناً میاں بیوی قرار دے دیے گئے۔ اگر کوئی اپنے دینی تقاضے پورے کرنے کے لیے چاہے تو نجی طور پر نکاح کا اہتمام کر سکتا ہے جسے ’’دینی نکاح‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہم نے لڑکی والوں سے کہا کہ ہو سکے تو اس کا اہتمام بھی کرلیں۔ وہ تیار ہو گئے۔ ترکی میں مولوی یا مولانا کو ’’ہوجا‘‘ کہتے ہیں۔ دوپہر کو ہمارے سمدھی صاحب نے ہمیں اپنے ہاں لنچ پر بلا لیا کہ اس موقع پر دینی نکاح کی رسم بھی انجام پا جائے گی۔ چنانچہ ہم اپنے مختصر باراتیوں کے ساتھ وقت مقررہ پر ان کے ہاں پہنچ گئے۔ ڈرائنگ روم میں ان کے چند قریبی رشتہ دار موجود تھے۔ ان کے ساتھ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے ہوئے جب خاصا وقت گزر گیا تو میں نے اپنے سمدھی سے پوچھا کہ ہوجا ابھی نہیں آئے۔ اُن سے کہیں کہ وہ جلد آجائیں تاکہ ہم یہ نیک کام انجام دے کر فارغ ہو جائیں۔ ہمارے سمدھی مسکرائے اور دور ایک صوفے پر بیٹھے ہوئے سوٹ ٹائی میں ملبوس، کلین شیو، 25یا 26سال کے خوبرو نوجوان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہوجا بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہم سب کے لیے یہ ایک دلچسپ اور خوشگوار حیرت تھی۔ ہم نوجوان ہوجا سے اٹھ کر ملے اور انہیں اپنے قریب بٹھا کر حال احوال دریافت کیا۔ ہوجا اچھی انگریزی بولتا تھا حالانکہ ترکی میں پڑھے لکھے لوگ بھی روانی سے انگریزی نہیں بول پاتے کہ ان کی سرکار ی زبان ترکی ہے اور زیادہ تر ذریعہ تعلیم بھی ترکی زبان ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کس دینی مدرسہ کے فارغ التحصیل ہیں؟ ہوجا نے کہا ہمارے ہاں دینی مدارس نہیں ہوتے۔ ہم سب ایک ہی سکول سسٹم میں تعلیم پاتے ہیں۔ پہلی سے بارھویں (12۔گریڈ) تک اس سکول سسٹم میں زبان، ادب، ریاضی، سائنس، تاریخ، جغرافیہ اور معلومات عامہ پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد جب یونیورسٹی تعلیم شروع ہوتی ہے اور آپ چار سالہ بیچلر گریجوایشن کورس میں داخلہ لیتے ہیں تو تب آپ اسلامیات یا علوم دینی کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہاں آپ تفصیل سے فقہ، حدیث، تفسیر اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد آپ ماسٹرز بھی کر سکتے ہیں۔ نوجوان ہوجا نے بتایا کہ اس نے حال ہی میں انقرہ یونیورسٹی سے اسلامیات میں ماسٹرز کیا ہے اور اسے شہر کی ایک مسجد میں خطیب کی حیثیت سے ملازمت مل گئی ہے۔ اسے تمام فقہی علوم پر عبور حاصل ہے اور وہ ہر فقہ کا نکاح پڑھا سکتا ہے۔ ہوجا نے ہماری فقہ دریافت کرنے کے بعد بڑی عمدہ قرأت میں عربی میں نکاح پڑھایا اور پھر ترکی زبان میں چھوٹی سی تقریر کے بعد دعا منگوائی اور یہ رسم اختتام پذیر ہوئی۔ ترکی اور ملائشیا دونوں سیکولر ملک ہیں جہاں مذہب کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نظام تعلیم میں مدرسہ کلچر نہیں جو تنگ نظر فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی پھیلا کر معاشرے کی ترقی میں بہت بڑا پتھر بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ترکی کے دو حوالے پائے جاتے ہیں۔ ایک تحریک خلافت تھی جس کے ذریعہ خلافت عثمانیہ کو بچانے کی کوشش کی جا رہی تھی اور ایک مرحلے پر احراریوں نے اس تحریک کی قیادت مہاتما گاندھی کے ہاتھ میں دے دی تھی۔دوسرا حوالہ قائد اعظم کا ہے جو اس تحریک سے دور رہے۔ ایک مرتبہ قائداعظم کی بیٹی نے اپنے مطالعہ کے لئے کتاب تجویز کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے اتاترک کی سوانح عمریGrey Wolf پڑھنے کی تلقین کی۔ آپ نے اتاترک کے انتقال پر مسلم لیگ کے1938ء کے سالانہ اجلاس میں اپنے بیان میں فرمایا تھا کہ کمال اتاترک کی شکل میں اسلامی دنیا نے ایک عظیم ہیرو کھو دیا ہے۔ اس عظیم مسلمان کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ہندوستان کے مسلمان اب بھی دلدل میں پھنسے رہیں گے؟ اور سامعین نے جواب دیا تھا’’نہیں نہیں‘‘۔ ترکی کے اس عظیم مسلمان نے مولویوں کے غلبہ سے ترکی کو آزاد کروا کر جدید ترکی کی بنیاد رکھی جو آج مسلم ممالک میں سب سے زیادہ صنعتی اور ترقی یافتہ ملک ہے۔ ہمیں سوچنا ہے کہ کیا ہمیں اپنے محبوب قائد اعظم کی تقلید کرنی ہے یا کسی اور کی۔ مسلمانوں میں دنیوی اور سائنسی علوم کے حصول کا سلسلہ عباسی دور میں شروع ہوا جب بغداد میںدارالحکمت قائم ہوا جس میں غیر مسلم عجمی دنیا یعنی روم، بازنطین، یونان، ہندوستان اور چین تک سے کتابیں منگوا کر ان کے تراجم کرائے گئے اور آزادانہ تحقیق (Free Inquiry) کی تحریک نے تقویت پکڑی جسے معتزلہ کہا جاتا تھا۔ آٹھویں صدی عیسوی سے گیارہویں صدی تک اس تحریک کو عروج حاصل رہا اور جو بڑے بڑے نام سائنس، ریاضی اور حکمت میں لیے جاتے ہیں وہ اسی تحریک سے وابستہ تھے اور اسی دور میں پیدا ہوئے۔ الخوارزمی، جابر بن حیان، الکندی، الفارابی، الرازی، ابن الہیثم، ابن سینا، الزھراوی، البیرونی، الکرجی، المسعودی اور عمر خیام چند اہم نام ہیں جن پر ہمارے ہاں بہت فخر کیا جاتا ہے۔ سلجوقی عہد کے سلطان ملک شاہ کے وزیر نظام الملک طوسی نے 1080ء میں بغداد میں بقول ابن خلدون فقیہوں کا پہلا مدرسہ قائم کیا جہاں صرف فقہ، حدیث اور تفسیر کی تعلیم دی جاتی تھی۔ عباسی عہد کے آخری سلاطین کے عہد میں معتزلہ تحریک کا قلع قمع کیا جا چکا تھا۔ آزادانہ تحقیق کی جگہ اندھی تقلید نے لے لی تھی۔ صرف دینی علوم کو علوم قرار دیا گیا، باقی تمام علوم کو کفر قرار دے دیا گیا۔ کیمیا گر اور فلسفی کے الفاظ ملحدو زندیق کے ہم معنی قرار دے دیے گئے۔ یہاں سے وہ دور شروع ہوا جس میں کوئی قابل ذکر سائنسدان پیدا نہ ہوا۔ جگہ جگہ مدارس نظامیہ قائم ہوتے گئے اور جب بارہویں صدی میں مسلمان برصغیر میں حکمران ہوئے تو یہی سلسلۂ نظامیہ یہاں بھی رائج ہوا۔ صرف اندلس میں یہ سلسلہ نہ پہنچا کیونکہ وہ بغداد کے مکتبہ فکر کے زیر اثر نہیں تھا۔ اس لیے وہاں سائنسی علوم کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا اور ابن باجہ، ابن ظہور، ابن طفیل اور ابن رشد پیدا ہوئے۔ مگر غرناطہ کے زوال سے پہلے وہاں بھی کیمیا اورر سائنس اور فلسفہ پر کام کرنے والوں کوملحدو زندیق گردانا جانے لگا تھا۔ مقری کے بقول لوگ انہیں کافر گردان کرپتھر مارتے تھے۔ اندلس میںمسلمانوں کے زوال کا ایک سبب یہ بھی تھا۔ ہمارے ہاں کا دینی مدرسہ گیارہویں صدی کے درس نظامیہ کا تسلسل ہے۔ اس کے نصاب میں بھی بہت کم تبدیلی کی گئی ہے۔ ہم نے جامعتہ الازہر مصر سے بھی کوئی سبق نہیں لیا کہ وہاں میڈیکل اور انجینئرنگ کی فیکلٹیز بھی شامل ہیں۔ ہمارے ہاں ہونا یہ چاہیے تھا کہ دینی مدارس کو Mainstreamسکول سسٹم کا حصہ بنا دیا جاتا جیسا کہ ترکی میں ہے اور پھر یونیورسٹی سطح پر جس کا دل چاہتا وہ دینی علوم کی گریجوایشن کرتا۔ لیکن ہوا اس کے برعکس۔ ہم نے اس سکول سسٹم کو جو 47ء میں برطانوی عہدے سے ورثہ میں ملا تھا اور سرسید، اقبال اور قائداعظم اس کی مزید ترقی و ترویج چاہتے تھے، ہم نے اس کو بھی دینی مدرسہ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اسلامیات کے مضمون کے علاوہ اردو، انگریزی اور دیگر سائنسی مضامین کی نصابی کتابوں کو بھی زیادہ سے زیادہ مشرف بہ اسلام کرنے کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ ہمارے گھروں میں دینی تعلیم دی جاتی ہے، جمعہ کے خطبات اور دینی اجتماعات بذات خود ایک دینی درسگاہ کا کام کرتے ہیں۔ حال میں پنجاب ٹیکسٹ بورڈ نے نصابی کتب میں تبدیلی کرکے درسی نصاب کو عصر حاضر سے ہم آہنگ کرنے کی جو کشش کی ہے وہ خوش آئند ہے۔ اگر ہمیں 21ویںصدی میں زندہ رہنا ہے تو اس تبدیلی کو برقرار رکھنا چاہیے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں