حالیہ برسوں میں پاکستان کے عوام جن سنگین مسائل کا نشانہ بنے ہیں اُن میں سرفہرست دہشت گردی اور بجلی کا بحران رہے۔ کسی نہ کسی طور ہم پر دونوں مسائل عالمی سامراجی طاقتوں یا عالمی سرمایہ داری نظام کی دَین ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ کئی حکومتیں گئیں اور آئیں اور اب نئی حکومت آرہی ہے لیکن ان دو مسئلوں کے سامنے بے بس ہیں؟ 90ء کی دہائی سے پہلے لوگ لوڈشیڈنگ سے آشنانہیں تھے، صرف 83-86ء میں ایسا دور آیا جب شام کو بجلی کی سب سے زیادہ طلب کے دوران نصف نصف گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی لیکن جب تربیلا کے آخری چار یونٹ مکمل ہوگئے تو رسد اور طلب میں پھر توازن پیدا ہوگیا اور لوڈ شیڈنگ ختم ہوگئی۔ 90ء کے عشرے کا آغاز دنیا میں دو سپر طاقتوں کے مابین سرد جنگ کے خاتمے سے ہوا۔ جاپانی نژاد امریکی مفکر فرانسس فوکویامانے نظریہ پیش کیا کہ تاریخ اپنی معراج پر پہنچ کر انجام پذیر ہوگئی ہے، تاریخ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ ایک اور جاپانی نژاد امریکی ماہر معاشیات ’کی نیچی اوہمائے‘ نے کہا کہ اب جلد ہی ملکوں کی سرحدوں کا تصور ختم ہو جائے گا اور دنیا ایک عالمی گائوں میں تبدیل ہو جائے گی۔ امریکی صدرکلنٹن نے نئے عالمی نظام (New World Order) کا نعرہ بلند کیا۔ ساری دنیا کو مارکیٹ اکانومی اور پرائیویٹائزیشن کے پیچھے لگا دیا گیا۔ ہم کہ بال بال امریکی پالیسیوں میں بندھے ہوئے تھے، عالم بالا سے حکم آیا کہ تمام اداروں کو پرائیویٹائز کیا جائے جس میں پاور سیکٹر بھی شامل تھا۔ واپڈا برا بھلا جیسا بھی تھا، پانی اور بجلی کے نظام کو بہت بہتر انداز میں چلا رہا تھا۔ وارسک، منگلا اور تربیلا کے پن بجلی کے بڑے منصوبے اور گدو، جام شورو ،کوٹ ادو اور مظفر گڑھ کے تھرمل بجلی گھر بنا چکا تھا۔نیز ملک میں شمال سے جنوب تک پانچ سو کے وی کی ٹرانسمشن لائن بچھا چکا تھا جو اس خطے میں بھارت اور ایران کی چار سو کے وی لائنوں کے نظام سے زیادہ ترقی یافتہ نظام تھا۔ واپڈا کے تربیت یافتہ انجینئروں نے خلیجی ممالک میں بجلی کا نظام وضع کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور عالمی منڈی میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چُکا تھا۔ 91-93ء کے دوران واپڈا کے منصوبہ بندی کے شعبہ نے کینیڈا کی کمپنی Acres کی مشاورت سے آئندہ پچیس برس کا طویل المدتی منصوبہ تیار کر لیا تھا۔ اس میں زیادہ تر انحصار ملکی وسائل پر کیا گیا تھا جس میں دریائے سندھ اورجہلم پر پن بجلی کے منصوبے، مقامی قدرتی گیس پر مبنی کمبائنڈ سائیکل کے سستی بجلی پیدا کرنے والے زیادہ مستعد تھرمل بجلی گھر، نیو کلیئر بجلی گھر، درآمدی اور مقامی کوئلے پر مبنی تھرمل بجلی گھر شامل تھے اور بہت کم منصوبے درآمدی تیل پر مبنی تھے۔ ابھی یہ منصوبہ تیار ہی ہوا تھا کہ عالم بالا سے نیو ورلڈ آرڈر کے تحت 94ء میں پیپلز پارٹی کی دوسری ٹرم کے دوران نئی توانائی پالیسی لائی گئی۔ مذکورہ طویل المدتی منصوبہ بالائے طاق رکھ دیا گیا اور کہا گیا کہ اب کوئی بڑا منصوبہ سرکاری سیکٹر میں نہیں لگایا جائے گا۔ عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک اور بیرونی مالیاتی ادارے کسی سرکاری منصوبہ کو قرضہ نہیں دیں گے۔ اب ساری سرمایہ کاری نجی شعبہ میں کی جائے گی خواہ وہ ملک کے اندر سے ہو یا باہر سے۔ واپڈا کے ٹکڑے کر کے چودہ کمپنیاں تشکیل دے دی گئیں جن میں دس ڈسٹری بیوشن کمپنیاں، تین جنریشن کمپنیاں اور ایک نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (NTDC) تھی۔ کہا گیا کہ ڈسٹری بیوشن اور جنریشن کمپنیوں کی نجکاری کی جائے گی۔ 20 سال گزرنے کے باوجود یہ نجکاری نہیں ہوسکی۔ ہمارے جیسے ملک میں بڑے منصوبے لگانے کی استعداد سرکاری شعبہ کے پاس ہوتی ہے۔ لیکن جب سرکاری شعبہ میں بڑے منصوبوں کی سرمایہ کاری کے لئے بیرونی ملکوں اور اداروں نے نئے نجکاری کے نظام کے تحت جواب دے دیا تو وہ بڑے منصوبے جو واپڈا نے 25 سالہ طویل المدتی منصوبہ میں وضع کئے تھے پس پشت ڈال دیئے گئے۔ نجی شعبہ میں سوائے حبکو (1200میگاواٹ) اور کوٹ ادو کے بقیہ تمام سرمایہ کاروں نے 100 یا 200 میگاواٹ کے چھوٹے تھرمل بجلی گھر لگائے جن میں سے بیشتر درآمدی فرنس آئل سے چلتے تھے۔ بہت مہنگے نرخ پر بجلی کی خرید کے معاہدئے کئے گئے۔ بینظیر بھٹو کی دوسری ٹرم میں ان منصوبوں کا جمعہ بازار لگ گیا۔ زرداری صاحب الزامات کی زد میں آئے۔ نواز شریف کی دوسری ٹرم کے دوران بھی اسی پالیسی پر عمل جاری رہا۔ جو پالیسی عالم بالا سے آتی ہے اس پر یہاں پی پی یا نون لیگ کی حکومتوں کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مشرف دور اور گزشتہ پی پی کے دور میں بھی عالمی سرمایہ داری کی طرف سے مسلط کردہ یہی پالیسی ہمارے گلے کا طوق بنی رہی۔ بیس سال کے عرصہ میں صرف ایک قابل ذکر پن بجلی کا منصوبہ غازی بروتھا (1400 میگاواٹ) آسکا اور کوئی میگا پراجیکٹ سرکاری شعبہ میں قائم نہ ہوا۔ عالمی قرضے صرف نجی شعبہ کے لئے دستیاب تھے اور ہیں جبکہ نجی شعبہ کسی میگا پراجیکٹ کی استعداد نہیں رکھتا۔ بڑا پن بجلی کا منصوبہ کوئی نجی کمپنی نہیں لگا سکتی۔ چنانچہ نجی شعبہ کی استطاعت کے مطابق چھوٹے اور مہنگے پلانٹ لگائے جاتے رہے جو بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کیلئے ناکافی تھے جبکہ بڑے منصوبے عالمی سرمایہ داری کے ماڈل کے مطابق نہ لگائے جا سکتے تھے نہ لگائے گئے۔اس طرح طلب اور رسد کے مابین فرق تیزی سے بڑھتا گیا اور آج یہ فرق ہوش ربا حد تک بڑھ چکا ہے۔ 2011ء میں NTDC کے شعبہ منصوبہ بندی نے ایک بار پھر کینیڈا کی مشاورتی کمپنی ایس این سی لیوالن اور نیسپاک کی مشترکہ مشاورت سے ایک بار پھر آئندہ بیس سال کا طویل المدتی منصوبہ تیار کرایا ہے۔ یہ ایک لاکھ میگاواٹ کی طلب کو پورا کرسکتا ہے اور اس میں بجلی پیدا کرنے کے تمام منصوبے ملکی وسائل پر مبنی ہیں۔ دریائے سندھ اور جہلم اور ان میں آکر گرنے والے چھوٹے دریائوں سمیت کل ملا کر چھبیس منصوبے ہیں جن کی فزیبلٹی قریباً مکمل ہوچکی ہے اور ان کی استعداد کل ملا کر 36000 میگاواٹ بنتی ہے۔ ان میں قابل ذکر بھاشا (4500MW)، بونجی (7100 MW)، داسو (4300 MW)، تھاکوٹ (2800 MW)، پٹن(2800 MW)، یولبو(3000 (MW ، تنگس (3000 MW)، کوہالہ (1100 MW)، نیلم جہلم ( 970 MW )، کروٹ (720 MW ) اور منڈا (735 MW ) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں اس منصوبہ میں تھرکول پر مبنی چالیس ہزار میگاواٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ نیز نیو کلیر پاور (6000MW) اور متبادل ذرائع بالخصوص ہوا سے بجلی قریباً (6000 MW) شامل کی گئی ہے۔ اس میں درآمدی تیل کو مکمل طور پر رد کر دیا گیا ہے۔ اس میں تھوڑے سے درآمدی کوئلے اور مقامی قدرتی گیس پر انحصار شامل ہے۔ مگر ان میں سے کوئی بڑا منصوبہ نجی شعبہ یا صوبوں کے وسائل سے مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف مرکزی حکومت پاکستان ہی لگاسکتی ہے۔ مگر ان منصوبوں کو درکار خطیر رقم کی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی؟ عالمی سرمایہ داری نظام، جو کہ نجی سرمایہ کاری پر مبنی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مالیاتی اداروں پر مشتمل ہے۔ اس نظام کی زنجیروں میں جکڑے رہنے کے ساتھ کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں ہوسکتا۔ ان مشکلات پر قابو پانا نئی حکومت کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔