عبرت کدہ

پیروں کے نیچے سرکتی زمین، لاغر ہوتا جسم اور بوسیدہ ہوتے اعضا، آنکھوں میں مدھم ہوتی روشنی، حملہ آور لشکروں کے لشکر، سینے پر غیروں اور پیٹھ پر اپنوں کے وار، لڑنے کی سکت ہے اب نہ ہمت‘ جنہوں نے یہ بت تراشا، وہی اسے پاش پاش کرنے کا فیصلہ کر چکے، لاچارگی ہے اور بے بسی، مکافات عمل ہے کہ جیسا بویا جائے، ویسا ہی کاٹنا پڑتا ہے۔ دور پردیس میں بیٹھ کر اُس نے اپنے ہی دیس میں روشنیوں کا شہر بجھا ڈالا، وہ شہر کہ جس نے اسے آنکھ کا تارا بنایا، اپنی جانیں نچھاور کر کے اسے دیوتا بنایا، یہ بھول کر کہ کچھ دیوتا صرف چڑھاوا مانگتے ہیں، کبھی جان کا، کبھی مال کا۔
تیس برس پہلے کا منظر، اس کے چاہنے والوں کی آنکھوں میں گھومتا ہے، کہ اُدھڑی اور ٹوٹی جوتیاں گھسیٹتا، مہاجروں کے حقوق کے لیے دربدر وہ بھٹکتا تھا۔ اپنی قوم کی وہ آواز بنا اور اس کے حقوق کا ضامن بھی، پھر گود لینے والوں نے اسے گود لے لیا کہ انہیں سندھ میں بڑی سیاسی قوتوں کا راستہ روکنا تھا۔ کراچی اُس کا ہوا اور پھر کراچی کے ساتھ جو ہوا، وہ ایک طویل داستان ہے، جو درجنوں بار لکھی اور سنائی جا چکی۔ کیا کبھی وہ سوچتا ہو گا کہ تیس برس، پورے تیس برس، کراچی کو اُس نے کیا دیا، شہر سلگتا رہا، لاشیں گرتی رہیں اور گرائی جاتی رہیں، کس کے لیے؟ جس کے ایک اشارے پر شہر کھلتا اور بند ہوتا، جس کے ایک اشارے پر شہر جلتا اور بجھتا، کیا وہ کراچی اورکراچی والوں کی تقدیر سنوار نہیں سکتا تھا؟ کہ یہی وہ خواب تھا جس کی تعبیر ڈھونڈنے وہ نکلا تھا، لیکن پھر اپنی ذات میں ایسا ڈوبا کہ کبھی اُبھر نہ سکا۔ 
کوئی سنگین الزام ایسا نہیں جو اس شخص کے سر نہیں، کچھ تو ایسے جو عرصے سے کھلے راز ہیں، ادارے بھی جنہیں جانتے تھے اور سب حکمران بھی، وہ آمر بھی جس نے اسلام آباد میں مکے لہرائے، مئی 2007ء کی اس قاتل سہ پہر، جب کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی، مذمت کے بجائے اس نے فرمایا کہ یہ سیاسی قوت کا مظاہرہ تھا۔ برسوں جس حکمران نے را کے مبینہ ایجنٹ کو پالا پوسا، کھلایا پلایا، سجایا، سنوارا، اسے طاقت اور قوت بخشی، اُس سے بھی بازپرس کسی نے کی؟ ملک دشمنوں کا سہولت کار وہ ثابت نہیں ہوا؟ انجان تو وہ ہو نہیں سکتا تھا، کہ ملک کے سیاہ و سفید کا مالک تھا، اور پل پل کی خبر رکھنے والے حساس ترین ادارے اس کے ماتحت۔ خیر اب اس سے کون سوال جواب کرے گا کہ وہ خود بھی پردیس سدھار چکا۔ پوچھنا تو ان سے بھی چاہیے جنہوں نے نام نہاد مفاہمت کے نام پر پانچ برس چپ سادھے رکھی، سیاسی اور مالی فائدوں کے لیے؟ ملک دشمن ایجنٹوں کے دوست محب وطن ہوا کرتے ہیں؟ کبھی تحقیق ہوئی تو صفحوں کے صفحے بھر جائیں گے، رنگ برنگے ایجنٹوں کے ناموں سے، اور غداری کی اسناد بانٹنے والوں کی بھی چاندی ہوجائے گی۔
کھیل کھیلنے والے کھیل کھیلتے ہیں، اپنے وقت پر، اور کہنے والے کہتے ہیں کہ کھیل شروع ہو چکا، شاید مہلت اس کے لیے تمام ہو چکی، سال بھر پہلے اُس کے پاس موقع تھا کہ خود کو سنبھالتا، سوچتا، سمجھتا اور رجوع کرتا لیکن اس کے اعصاب قابو میں رہے نہ زبان، برطانوی اور بھارتی استعمار کی حمایت کے نشے نے اسے سنبھلنے نہ دیا، وقت کی نبض پر وہ ہاتھ نہ رکھ سکا، سمجھ نہ پایا کہ فیصلہ کرنے والے کراچی کو خوف سے آزاد کروانے کا فیصلہ کر چکے، واپسی کا اُن کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں، کوئی سیاسی دبائو قبول کرنے کو وہ تیار نہیں، اور مقصد ان کا واضح ہے۔ صرف سال بھر میں وقت ریت کی طرح اس شخص کی مٹھی سے نکلتا گیا۔ پارٹی معاملات پر اس کی گرفت قدرے ڈھیلی تھی اور اپنے لیے گڑھے وہ خود 
کھودتا گیا۔ خوفزدہ ہو کر مزید خوف پھیلانے کی کوشش اس نے کی، کبھی سیاسی حریفوں کو دھمکایا اور کبھی اداروں کو۔ یہی وہ وقت تھا جب فیصلہ سازوں نے ایک حکمت عملی بنائی، اس شخص کا خوف ختم کرنے کی، ہر خاص و عام کے دل و دماغ سے۔ اور پھر دیکھنے والوں نے دیکھا، تیس برس سے لہراتے خوف کے سائے چند ماہ میں قصہء ماضی بن گئے۔ اس کا نام لیتے ہوئے بھی جو دانشور، تجزیہ کار اور صحافی گھبراتے، اب کھل کر اُس کے کارنامے گنوانے لگے، وہ ٹی وی سکرینیں جو گھنٹوں اُس کے اکتا دینے والے خطابات نشر کرنے کی پابند ہوتیں، اب گھنٹوں اس کے عیب اجاگر کرتی رہتی ہیں۔
اپنوں کی بے وفائی کا شکوہ وہ بہت کرتا ہے، خوف، ہوس یا مجبوری کے تحت جو عہد وفا کرتے ہیں، ان کی وفاداریاں ایسی ہی ہوا کرتی ہیں، اور شکوے کا جواز بھی کیا، وفا تو وہ خود بھی نہ کر سکا، اپنے شہر سے نہ شہر والوں سے ، اور شہر والے بھی وہ جو ہمیشہ وفا کا پیکر رہے۔ اب اس کی اپنی صفوں سے کئی سپاہی بغاوت کر چکے، ضمیر کی چھتری تانے، چھاتہ برداروں کی طرح ایک کے بعد ایک وہ باغیوں کے کیمپ میں اتر رہے ہیں۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ ضمیر ان کے نہیں جاگے، بلکہ ذہن فیصلہ سازوں کے بدل گئے ہیں، اپنی ترجیحات شاید انہوں نے درست کر لی ہیں۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، اس کے طریقہ کار سے تو کچھ کو اختلاف ہے لیکن مقصد سے شاید کسی کو بھی نہیں۔ تنقید کرنے والے بعض تنقید کرتے ہی رہیں گے، جب لندن سے جاری حکم پر آئے روز کراچی جلتا، تب بھی صبح شام وہ واویلا کرتے کہ حکومت، میڈیا اور ادارے، خاموش تماشائی کیوں ہیں۔
بظاہر1992ء جیسے حالات کا سامنا ہے اُس شخص کو، لیکن تب کی بات اور تھی، اب کی اور ہے، اُس وقت شباب تھا اور اِس وقت بڑھاپا، تب تندرستی تھی، اب بیماری، اُس وقت کوئی سیاسی حریف نہ تھا، اِس وقت ہے، تب فیصلہ ساز یکسو نہیں تھے، اب ہیں، اُس وقت سیاسی مصلحتیں تھیں، اِس وقت نہیں، اُس وقت مظلوم کا لبادہ تھا، اِس وقت ظالم کا پہناوا۔ تب چہرے پر قومیت کا حجاب تھا، اب پوری طرح بے نقاب۔ پھر بھی مشورہ دینے والے احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں کہ لندن میں بیٹھے شخص کا کراچی میں ایک سیاسی وجود بھی ہے، اور سیاسی وجود بڑے سخت جان ہوا کرتے ہیں، کسی چھومنتر سے راتوں رات وہ تحلیل نہیں ہوتے۔ انہیں طبعی طور پر فنا ہوتے ہوتے وقت لگتا ہے۔ زور زبردستی اور زیادتی، ثابت شدہ وِلن کو بھی ہیرو بنا دیا کرتی ہے۔ پرانے بُت توڑ کر نئے بنانا بھی عقل مندی نہیں کہ یہی بت دودھ پی کر دیوتا کا روپ دھار لیتے ہیں، اور پھر ہر کسی سے سجدے کے طلبگار ہو جاتے ہیں۔ اُن سے بھی، جنہوں نے انہیں بنایا ہوتا ہے۔ عبرت کدہ ہے یہ، عبرت کدہ، اُن کے لیے جو عبرت پکڑنا چاہیں۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں