طبلِ جنگ، لشکروں کی صف آرائی، اِدھر والے ڈٹ گئے، اُدھر والے بھی، تصادم نوشتہ دیوار ہے، اگر کوئی پڑھ سکے تو۔ جاننے والے جانتے ہیں، جنگ میں ہار یا جیت، محض علامتی ہوتی ہے۔ انا کی تسکین کے لیے، ورنہ جنگ تو تباہی ہی لاتی ہے، دونوں فریقوں کے لیے، ہارنے والا زخم کھاتا ہے، اور جیتنے والا بھی، ایسے زخم، جو لمحوں میں لگتے، لیکن برسوں میں بھرتے ہیں۔ جن میدانوں میں جنگ ہوتی ہے، وہ ایسے اجڑتے ہیں، کہ سالہا سال بستے نہیں۔ کیا کوئی پاکستان کو، ایک بار پھر، سیاسی جنگ سے بچا سکتا ہے، وہ جنگ، جو جمہوریت اور معیشت کو لہولہان کر سکتی ہے۔ سیاسی جنگوں کا نتیجہ، ہم پہلے بھی کئی بار بھگت چکے۔ اب فیصلہ، کپتان اور وزیر اعظم کے ہاتھ میں ہے۔
وزیر اعظم لچک دکھانے کو تیار ہیں، لیکن پسپائی کے لیے نہیں۔ ایک نہیں، کئی بار، یہ پیغام وہ دے چکے، صرف کپتان کو نہیں، اُنہیں بھی، جنہیں پیغام دینا، اُنہوں نے مُناسِب سمجھا۔ کپتان کا پارہ بھی، چڑھتا جلدی، اور اُترتا دیر سے ہے۔ وزیر اعظم کے اشاروں کنایوں میں پیغامات اہم، لیکن مسئلے کا حل نہیں۔ دھرنے کا مرحلہ آنے سے پہلے، وہ سب کچھ وزیر اعظم نے کرنا ہے، جو ممکن ہو سکے۔ عدالتی کمیشن کے قواعد و ضوابط پر اتفاق رائے، اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ بہت دور کی بات نہیں، مبینہ دھاندلی پر بھی ایک کمیشن بنا تھا، اور اس کے قواعد و ضوابط پر اتفاق رائے بھی ہوا، وہی کمیشن، جس نے وزیر اعظم کو بے گناہ اور بے قصور ٹھہرایا، پھر پاناما کمیشن کے ضابطہ کار پر مشاورت سے ہچکچاہٹ کیوں؟
کپتان کا مقدمہ بظاہر مضبوط ہے، لیکن اسے لڑنا کیسے ہے؟ کیا وہ جانتا ہے؟ اسلام آباد میں اُس کا جلسہ متاثر کُن تھا‘ نہ خطاب۔ اُس حلقے میں یہ اجتماع تھا، جہاں پہلے جاوید ہاشمی، اور پھر ضمنی انتخاب میں اسد عمر نے میدان مارا۔ پڑھے لکھے، نسبتاً خوشحال لوگوں کا علاقہ‘ یعنی ہر لحاظ سے تحریک انصاف کے لیے سازگار۔ وہی علاقہ، جہاں بلدیاتی انتخابات میں بھی، تحریک انصاف نے ن لیگ کو ناکوں چنے چبوائے۔ جلسے کے لیے بظاہر بڑی تیاری ہوئی، پیسہ بھی خوب بہایا گیا۔ اسلام آباد ہائی وے، اور ذیلی سڑکیں، دو دن پہلے ہی، کپتان کے پوسٹروں اور بینروں سے سج گئیں۔ وہ پوسٹرز، جن پر یہ نعرہ درج تھا: ''کرپشن سے چھٹکارا، عمران خان نے پکارا‘‘۔ لیکن اس پکار پر لبیک کہنے جلسہ گاہ کم ہی لوگ پہنچے۔ جذباتی لوگوں کے اندازے اپنی جگہ، لیکن جاننے والے جانتے ہیں، کہ شرکا کی تعداد، توقع سے تین گنا کم تھی۔ پنجاب سے جو قافلے چلے، بیچ راستے، اندرونی اختلافات کی گرد میں کھو گئے۔ خود تحریک انصاف کے رہنما بھی، اِس کا اعتراف کرتے ہیں۔ رہی سہی کسر، اُس بے ہودگی نے نکال دی، جو خواتین کے ساتھ کی گئی۔ کپتان کی تقریر بھی، پچھلی تقریروں کا ایکشن ری پلے ثابت ہوئی، الزامات کی تکرار، لیکن کوئی واضح لائحہ عمل نہ راستہ، کہ تحریک انصاف کی توجہ ہمیشہ، حکمت عملی پر کم، شور و غُل پر زیادہ رہی ہے۔ شاید پارٹی میں پیسے والے زیادہ، سمجھنے، سمجھانے والے کم ہیں۔ اپنی صلاحیت اور مقبولیت کے برعکس، ایک نہیں، پے در پے کئی ناکامیاں تحریک انصاف کا مقدر بنتی آئی ہیں۔ پھر بھی، ناکامیوں کے بطن سے ہی، شاندار اور فیصلہ کن کامیابیاں بھی جنم لیتی ہیں، اگر ناکامیوں کی وجوہ پر غور کیا جائے تو۔ کیا کپتان اور اس کے کھلاڑی، محض بھڑکنے اور بھڑکانے کے علاوہ، سوچ بچار کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں؟
وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی سیاسی اصطلاح، کسی اور کی نہیں، خود کپتان کی اِختراع ہے، کیا اسے ادراک نہیں کہ پیپلز پارٹی کیا کھیل رچا رہی ہے؟ بجا کہ تنہا پرواز سے مشاورت بہتر، لیکن حد درجہ محتاط کپتان کو رہنا ہے، جو بظاہر وہ نہیں۔ ضرورت سے زیادہ،
پُرجوش اور مطمئن، وہ اس بات پر ہے کہ اعتزاز احسن مسلسل حکومت پر برس رہے ہیں۔ اور تو اور، بلاول کے حکومت مخالف بیانات کے حوالے بھی کپتان دینے لگا ہے۔ کیسی وقتی جذباتیت، اُس کی شخصیت کا حصہ ہے۔ کمیشن کے ضابطہ کار کے معاملے پر، پیپلز پارٹی پر انحصار، اُس کی تحریک کے لیے زہر قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔ محض اپنا بھائو، پیپلز پارٹی بڑھا رہی ہے، اور مطلوبہ بھائو ملتے ہی، عین موقع پر، وہ حکومت سے جا ملے گی، براہ راست نہیں، ایسا ضابطہ کار سامنے لا کر کہ کپتان کے ہوش اُڑ جائیں گے، اور اس ضابطہ کار کو قبول کرنا ممکن ہو گا‘ نہ مسترد کرنا۔
پاناما لیکس، حلیم کی وہ دیگ بن چُکی، جس میں چونچیں مار کر، زیادہ سے زیادہ کھانے کو، ہر حریف اور حلیف جماعت بے تاب ہے، سوائے تحریک انصاف کے۔ وہ تحریک انصاف، جس کا ریکارڈ، کھانے کے حوالے سے شفاف، لیکن ایک پراسرار دھرنے کے حوالے سے خراب ہے۔ اُدھر پیپلز پارٹی کی بے چینی کا عالم دیکھیے، کہ لال حویلی کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو گئی، اُس شہید بی بی کی پیپلز پارٹی، جو آمر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، جان پر کھیل گئی، اُس بھٹو کی پارٹی، جو تخت سے اُترا، اور تختے پر چڑھ گیا۔ سُنا تھا کہ زرداری صاحب علیل ہیں، علالت نے شاید اُن کی یادداشت بھی کُھرچ ڈالی ہے، ورنہ بی بی اور بلاول کے متعلق، خود ساختہ فرزند راول پنڈی کے فرمودات، فراموش کرنے کا حوصلہ، کسی جیالے میں نہیں ہو سکتا۔
کہنے والے کہتے ہیں، کہ پاناما لیکس پر پیپلز پارٹی غیر متعلقہ فریق ہے۔ اصل فریق، تحریک انصاف اور حکومت ہیں۔ غیر محسوس طریقے سے، وقت رینگ نہیں، دوڑ رہا ہے، محاذ آرائی اور ٹکرائو کی جانب۔ وہ ٹکرائو جو، کچھ اداروں کو امتحان میں ڈال سکتا ہے۔ اس صورت حال سے بچنے کی زیادہ ذمہ داری، وزیر اعظم پر عائد ہوتی ہے‘ پاناما کمیشن کے ضابطہ کار پر، اپوزیشن سے مشاورت کے لیے، ایک ٹیم وہ بنائیں۔ اسحاق ڈار کی سربراہی میں، ویسی ہی ٹیم، جیسی انہوں نے پہلے بنائی تھی، دھاندلی کمیشن کا ضابطہ کار طے کرنے کے لیے۔ بجا کہ جس طرح حکومت کے پاس، کمیشن کا ضابطہ کار مسلط کرنے کا اخلاقی جواز نہیں، ویسے ہی اپوزیشن بھی ایسے قواعد پر اصرار نہیں کر سکتی، جس کا مقصد، ہر صورت وزیر اعظم کو ہدف بنانا ہو۔ حکومت اور اپوزیشن، قانونی اور مالیاتی ماہرین کی معاونت سے، ایسا ضابطہ کار بنا سکتی ہیں، جس پر دونوں کا اتفاق ہو۔ اور ایسا کرنا ناگزیر ہے، دھرنے کی نوبت آنے سے پہلے۔ اس سے پہلے کہ تیر کمان سے نکل جائے، اور بہت دیر ہو جائے۔ دھرنوں میں حادثات ہو جاتے ہیں، یا کروا دیے جاتے ہیں، اور احتجاج کے دوران حادثات، اکثر سانحوں کو جنم دیتے ہیں، بڑے سیاسی سانحوں کو۔ یہ بات، دو مرتبہ حکومت چِھن جانے کے بعد، تیسری بار وزیر اعظم بننے والے شخص سے بہتر، کون سمجھ سکتا ہے؟