نئے زخم، پرانی کہانی

لشکروں کے لشکر، دوستی کا نقاب پہنے دشمن، کچھ نام نہاد اپنے، کچھ مکار پرائے، مل جل کر، نئے اور پُرانے تانے بانے جوڑ کر، پاکستان اور پاکستانیوں پر حملہ آور ہیں۔ دشمن تو پوری طرح یکسو اور یکجان ہیں، لیکن ہم منتشر، غیر منظم اور بکھرے ہوئے ہیں۔ایک قوم نہیں، ہم آپس میں ہی لڑنے بھڑنے والے منقسم گروہ ہیں،جنہیں آپس میں لڑنے سے فرصت نہ ہو، دشمن سے وہ کیا لڑیں گے؟ 
بلوچستان کو ایک اور گہرا گھائو لگا ہے، ایسا گھائو جس سے ہفتوں یا مہینوں نہیں ، برسوں لہورِستا رہے گا، ایسا زخم جو بھر بھی جائے تو عمر بھر اس کے نشان نہیں مٹتے۔ایسے دو چار نہیں، درجنوں زخموں سے پورا پاکستان چور چور ہے، لیکن کوئی سبق ہم نے کبھی سیکھا ہے؟ دنیا کے انوکھے ترین دماغ کہیں اور نہیں، پاکستان میں ہی پائے جاتے ہیں۔ ہر سانحے کے بعد اگلا سانحہ روکنے کی منصوبہ بندی کے بجائے انوکھا ترین ردعمل ہمارا ہوتا ہے کہ پہلے آئے روز سانحے ہوتے تھے اور اب کچھ وقفے سے ہوتے ہیں،اِسی پر ہمیں شاد ہونا چاہیے، یعنی ان سانحات کو مقدر کا لکھا سمجھنا چاہیے۔
دہشت گردی کے ہر واقعے میں مرنے والوں کو فخر سے ہم شہید لکھتے اورپکارتے ہیں، یہ کہتے بھی ہم نہیں تھکتے کہ مرنے والوں نے عظیم قربانی دی، لیکن پوچھنے والے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم سب ہر روز سر پر کفن باندھ کر کسی میدان جنگ میں جانے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں؟ کہ آج جان کی قربانی بھی ہمیں دینا پڑی تو ہم تیار ہیں؟ اور شہید ہو کر جنازے کی چارپائی پرہی واپس آئیں گے؟ ہم تو تاریک راہوں میں،انجانے میںاچانک مارے جاتے ہیں، پھرہمارے جنازوں پر شہادت اور قربانی کے لفظوں سے ہمیں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ جان کی ایسی قربانی جو ہم دینا ہی نہیں چاہتے تھے، وہ قربانی جو دہشت گردوں نے زبردستی لے لی، کیونکہ ہمیںان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، مرنے والوں کے بچوں یا والدین سے کوئی دل کا حال پوچھے، انہیں اپنے پیاروں کی زبردستی کی شہادت پر فخر ہے، یا غم سے ان کا کلیجہ کٹتا ہے؟ ہاںخود کو اگر ہم دھوکا دینا چاہیں تو الگ بات ہے۔
کسی بھی سانحے کے بعد بیرونی دشمنوں کی کارستانیوں کا ماتم ہم بہت کرتے ہیں، آسمانوں تک گونجتی آواز سے یہ بین بھی کرتے ہیں کہ بزدل دشمن سینے پر نہیں، پیٹھ پر وار کرتا ہے۔ معصومیت کی کیسی معراج ہے یہ ، دشمن سے بھی کبھی خیر کی توقع کوئی کر سکتا ہے؟ دشمن تو جو کر رہا ہے سو کر رہا ہے، اور اُس کے بس میں جو کچھ ہوا، وہ کرتا رہے گا، لیکن ہم اس کے وار سے بچنے کے لیے کیا کر رہے ہیں ؟ کیا ہم انتظار کرتے رہیں گے کہ وہ پیٹھ کے بجائے، سامنے آکر وار کرے؟ اور اُس وقت تک، ہم پیٹھ پر زخم کھاتے رہیں گے؟ پاکستان کو جلتا دیکھنا، بھارتی استعمار کی خواہش ہے اور یہ کوئی راز نہیں۔ دشمن ملکوں کی ایجنسیاں، حریف ملکوں میں ہمیشہ سے اپنا کھیل کھیلتی ہی آئی ہیں، لیکن ان ایجنسیوں کا کھیل بے نقاب کرنا، ان کا نیٹ ورک توڑنااور ان کے منصوبے ناکام بنانا کس کی ذمہ داری ہے؟ بجا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ صرف بھارت نہیں کچھ اور ملکوں کو بھی کھٹکتا ہے، یہ بھی درست کہ صرف بھارتی ایجنسی را ہی نہیں اب کئی بیرونی ایجنسیاں مشترکہ مفاد کے لیے گٹھ جوڑ سے پاکستان میں عدم استحکام پھیلانا چاہتی ہیں، لیکن دہشت گردی کے ہر واقعہ کی ذمہ داری غیرملکی ایجنسیوں پر ڈال کر اپنی ذمہ داری سے جان چھڑائی جا سکتی ہے؟ کیا ہمیں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے بھارتی ایجنسی را نے روکا ہے؟ حساس معلومات جمع کرنے والے ادارے نیکٹا کو فعال کرنے میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی رکاوٹ ہے؟ مدارس اصلاحات میں امریکی ایجنسیاں حائل ہیں؟ نام بدل کر کام کرنے والی کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ایرانی ایجنسیوں نے روک رکھی ہے؟ بلوچستان کے ایک نامور وکیل کے قتل کے بعد، سول ہسپتال میں سکیورٹی نہ ہونے کی ذمہ داراسرائیلی ایجنسیاں ہیں؟ کوئٹہ، کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں سی سی ٹی وی کیمرے روسی ایجنسیوں نے ناکارہ بنائے ہیں؟ کوئی سوال اٹھائے توغداری کی مہر اُس کے ماتھے پر ثبت کر دی جاتی ہے۔ ان سوالوں پر غور کرنے کی زحمت البتہ کم ہی کوئی کرتا ہے۔ ہاں گنتی کے چند ایسے بھی ہیں، جو زہر اگلنے کے موقع ڈھونڈتے ہیں، تعمیر ی تنقید اوراصلاح نہیں، اداروں کو آمنے سامنے کھڑا کرنا اورعوام کوتقسیم کرنا جن کا ایجنڈا ہے۔
پچھلے چودہ برس میں ہمارے شہروں کے شہر ، دیہات اور قصبے بارود سے جھلس گئے، سیکڑوں سانحات ہم پر گزر چکے، لیکن ہر دھماکے اورخود کش حملے کے بعد وہی روایتی بیانات کہ دہشت گردوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اچھا؟ ساٹھ ہزار پاکستانیوں کو خون میں نہلانے کے بعد بھی دہشت گرد ناکام ہیں؟ مسجدوں، اسکولوں، بازاروں ، کچہریوں ،ہسپتالوں،تھانوں اورفوجی دفتروں پر حملوں کے بعد بھی دہشت گرد ناکام ہیں؟ ہر دھماکے کے بعد آپریشن مزید تیز کرنے کا اعلان ہم سنتے ہیں، کیا پہلے آپریشن آہستہ ہو رہا تھا؟ اور آپریشن کتنی مرتبہ مزید تیز ہو گا؟ ہم ایک ہی بار آپریشن تیزکیوں نہیں کر دیتے؟ اور صرف آپریشن تیز کرنا ہی ضروری ہے یا اسے موثر، منظم اور مربوط بنانا بھی اہم ہے؟ ہر دھماکے کے بعد نئے حفاظتی انتطامات کا دعویٰ ہم کرتے ہیں، لیکن دہشت گرد اس سے بھی زیادہ نئے طریقوں سے حملہ کر دیتے ہیں۔ ہر نئی واردات پر ہم حیران پریشان رہ جاتے ہیں، کچھ دیر کے لیے ہم پر سکتہ طاری رہتا ہے، پھر ماتم اورسوگ ہم مناتے ہیں اور پھر مقتولوں کا خون خشک ہونے سے بھی پہلے، ہماری زبانیں قینچی کی طرح ایک دوسرے کے خلاف چلنے لگتی ہیں۔ الزام تراشیوں کا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے اورسانحوں پرماتم کی آڑ میں نئے اورپرانے سب حساب برابر کئے جاتے ہیں۔ بڑے سے بڑا سانحہ بھی کبھی ہمیں متحد نہیں کر سکا، الٹاعوام بھی گروہ درگروہ تقسیم ہو جاتے ہیں، سیاست دان بھی آپس میں لڑنے بھڑنے لگتے ہیں اور ادارے بھی ذمہ داری کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے کے لیے آمنے سامنے آجاتے ہیں۔
پونے دو برس ہوتے ہیں، ایک سو بتیس کمسن بچوں کے خون کے صدقے ایک نیشنل ایکشن پلان ہم نے بنایا، پوری قوت کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے لیے متحد اور یک جان ہو کر، لیکن جتنی گرم جنگ ہم نے دہشت گردوں کے خلاف لڑی، اتنی ہی سرد جنگ ہم آپس میں بھی لڑتے رہے۔ سارے دہشت گرد تو پاکستان کے خلاف ایک صف اور ایک صفحے پر ہیں، کیا ہم سب بھی ایک صفحے پر ہیں؟ حکومت اور عسکری ادارے بھی؟ نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہم نے کرنا ہے یا اپنا اپناپلان چلانا ہے؟
فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے یا تاریخ پر چھوڑنا ہے؟ وہ تاریخ جوہم جیسی قوموں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے، ایسی بے حس قومیں جنہوں نے خود اپنا نام ونشان مٹا ڈالا۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں