قدرت تقدیر لکھتی ہے۔ بہت سوں کے لیے یہ پورا، مجھ جیسوں کے لیے آدھا سچ ہے۔ جو قدرت تقدیر لکھتی ہے، وہی اسے بدلنے کا موقع بھی دیتی ہے۔ گوادر ہماری تقدیر بدل سکتا ہے، اگر ہم خود ہی نہ بدلنا چاہیں تو الگ بات ہے۔ اپنی تقدیر مزید بگاڑنی ہے یا سنوارنی، فیصلہ دوسروں نے نہیں، ہم نے خود کرنا ہے۔
گوادر کے گہرے پانیوں میں خوشحالی کے انمول موتی چھپے ہیں۔ خطے کی تمام طاقتیں یہ جان چُکیں۔ دراصل گوادر بندرگاہ ہی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی بنیاد بنی۔ چین کو ہر صورت گوادر کے گرم پانیوں تک پہنچنا ہے، معاشی سپر پاور بننے کے لیے۔ سلک روٹ پر واقع چینی شہر کاشغر اس کے مشرقی ساحلی علاقوں سے 3500 کلومیٹر دور ہے۔ اس کی نسبت کاشغر سے گوادر کا فاصلہ تقریباً آدھا ہے۔ چین کے صنعتی علاقے بھی شنگھائی بندرگاہ سے 4300 کلومیٹر‘ جبکہ گوادر سے صرف 2500 کلومیٹر دور ہیں۔ یوں گوادر کے ذریعے چینی درآمدات اور برآمدات کا خرچ تقریباً نصف ہو جائے گا۔ گیس اور تیل کی درآمد کے لیے چین کا انحصار آبنائے ملاکا پر رہا ہے۔ اس راستے سے چینی بحری جہازوں کو دس سے بارہ ہزار کلومیٹر سفر طے کرنا پڑتا تھا۔ گوادر بندرگاہ فعال ہونے کے بعد یہی فاصلہ 2500 کلومیٹر رہ جائے گا۔ اگر امریکا کبھی آبنائے ملاکا کے راستے بند بھی کر دے تو چین کے لیے بحیرہ عرب کے ذریعے تجارتی راہداری کھلی رہے گی۔ بچت اور سہولت کے یہی مواقع دیکھ کر چین نے اقتصادی راہداری منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے سے چینی معیشت نئی بلندیوں کو چھونے لگے گی، ساتھ ہی پاکستان کی قسمت بھی کھل جائے گی۔ 2442 کلومیٹر طویل روٹ پر صنعتی زونز بنیں گے، تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی، تقریباً سات لاکھ افراد کو روزگار ملے گا، پاکستان کی معاشی شرح نمو میں سالانہ دو سے اڑھائی فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ توانائی کی کمی پوری کرنے کے لیے 33 ارب ڈالرز سے نئے منصوبے لگیں گے۔ 2018ء تک 10400 میگاواٹ بجلی کی پیداوار بھی شروع ہو جائے گی۔ پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ توانائی کی قلت ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت بھی توانائی بحران سے بری طرح متاثر ہے۔ مغربی میڈیا کے مطابق اقتصادی راہدری کے تحت توانائی منصوبوں سے پاکستانی معیشت میں کرشماتی تبدیلیاں آئیں گی۔ غیرملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھل جائیں گے۔ بحری اور بری راستوں پر محصولات کی مد میں بھی پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالرز ملیں گے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق اقتصادی راہداری مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا کا مرکزی راستہ ثابت ہو گی۔ اس منصوبے سے پاکستان نہ صرف تجارتی راہداری بلکہ خطے کے بڑے معاشی مرکز کے طور پر ابھرے گا۔ موڈیز اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے اداروں کے مطابق اس منصوبے کے ابتدائی ثمرات 2017ء میں ہی ملنا شروع ہو جائیں گے۔ صرف چین ہی نہیں، کئی وسط ایشیائی ریاستیں بھی پاکستان سے گزرنے والے اس روٹ کو استعمال کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔
اپنے ہی نہیں، پرائے بھی مانتے ہیں کہ اقتصادی راہداری پاکستان کا مقدر بدل ڈالے گی۔ کیا یہ منصوبہ ہمارے دشمنوں کو کھٹکتا نہیں ہو گا؟ خاص طور پر بھارت کو، وہ بھارت جو صرف پاکستان کو ہی نہیں، چین کو بھی اپنا حریف سمجھتا ہے۔ بھارتی سرکار کا واویلا ہے کہ یہ منصوبہ صرف اقتصادی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے ذریعے بھارت کا گھیرائو کیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ گلگت بلتستان سے گزرنے والے اقتصادی راہداری کے روٹ کو ناقابل قبول قرار دے چکی ہیں، ان کی نرالی منطق سامنے آئی کہ یہ علاقہ متنازع ہے۔ اس معاملے پر نریندری مودی کے دورہ چین میں بھی بات کی گئی۔ بھارتی وزارت خارجہ 2015ء میں نئی دلی میںچینی سفیر کو طلب کرکے اس منصوبے پر باضابطہ اعتراض بھی کر چکی۔ بھارتی بحریہ کے سابق سربراہ سریش مہتا نے علی الاعلان کہا تھا کہ گوادر کے ذریعے دنیا کی ''توانائی کی شہ رگ‘‘ پاکستان کے ہاتھ آ سکتی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوارج حال ہی میں ڈھٹائی سے کہہ چکیں کہ بھارت ''پورے عزم‘‘ کے ساتھ اس منصوبے کی مخالفت کرے گا۔ کیا اس کا مطلب سمجھنے کے لیے دانشور ہونا ضروری ہے؟ بھارتی ایجنسی ''را‘‘ اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے الگ شعبہ بھی قائم کر چکی۔
گوادر کے مقابلے میں ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کا ماجرا کیا ہے؟ جاننے والے جانتے ہیں کہ بھارت اس بندرگاہ کو صر ف تجارتی ہی نہیں، دفاعی اڈے کے طور پر بھی استعمال کرے گا۔ اس کا ایک مقصد افغانستان میں اثر و رسوخ بڑھا کر پاکستان پر اثر انداز ہونا بھی ہے۔ ایران سے پاکستان میں داخل ہونے والا بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کوئی فسانہ نہیں حقیقت ہے، اس کا پورا نیٹ ورک بے نقاب ہو چکا۔ اس جیسے کئی نیٹ ورک اقتصادی راہداری کا منصوبہ ناکام بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ بلوچستان میں بدامنی کی حالیہ لہر بھی خاصی پُراسرار ہے۔ آرمی چیف اسے اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف سازش قرار دے چکے۔ یقیناً کچھ واضح اشارے ملنے کے بعد ہی اتنی بڑی بات انہوں نے کی ہو گی۔ بجا کہ مقامی عناصر ہی ان وارداتوں میں ملوث ہوں گے، ان کی سرکوبی بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے لیکن بالواسطہ ان کی پشت پناہی کرنے والے بیرونی عناصر کون ہیں؟ بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسی کا گٹھ جوڑ اب کوئی راز نہیں، عسکری حلقے دبے لفظوں میں جبکہ سول حلقے کھل کر اس کا اظہار کر چکے۔ راہداری منصوبے پر پاکستان کو ایک نہیں، کئی چیلنجز کا سامنا ہے، یہ منصوبہ چین کو اقتصادی سپر پاور بنا سکتا ہے، کیا امریکا اسے آسانی سے قبول کر سکتا ہے؟
راہداری منصوبے کے خلاف بیرونی سازشیں اپنی جگہ، لیکن ہم خود بھی اپنے خلاف سازشیں کرنے کے ماہر ہیں۔ اس منصوبے کو کالا باغ ڈیم کی طرح کاغذوں میں دفن کرنے کے لیے کوئی کسر ہم نے اٹھا نہیں رکھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ملک کی سلامتی اور بقا اس منصوبے سے جڑ چکی، سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے ہم باز نہیں آ رہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ اس منصوبے پر قومی کانفرنس بلائی جائے، سول و عسکری قیادت اور پانچوں وزرائے اعلیٰ اس میں شریک ہوں، چھوٹے صوبوں کے تحفظات اور اعتراضات دور کیے جائیں، پھر اتفاق رائے سے مشترکا اعلامیہ جاری کیا جائے‘ اور اس پر اختلاف کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے۔ اس منصوبے سے جڑی تفصیلات اور دستاویزات کو چھوٹے صوبوں سے مخفی رکھنے کا تاثر دور کرنے کی ذمہ داری وفاق کی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو شاید بیرونی عناصر کو اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے، ہم خود ہی راہداری منصوبے اور اس سے جڑے اپنے مقدر کو برباد کر ڈالیں گے۔ قدرت تقدیر بدلنے کا موقع دیتی ہے لیکن بار بار نہیں، اور جو اپنے حالات خود نہ بدلنا چاہیں، ان کے حالات کبھی بدل نہیں سکتے، یہی قدرت کا اصول ہے۔