پیپلز پارٹی پر خود کش حملہ

ہوس اور عقل، دونوں بیک وقت دماغ میں نہیں سما سکتے۔ ہوس دماغ پر چھا جائے تو عقل رخصت ہو جاتی ہے۔ مکاری اور ذہانت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ عیاری بے نقاب ہو جایا کرتی ہے۔ کیا زرداری صاحب پوری طرح بے نقاب نہیں؟ ان کی سیاست میں واپسی نیم مردہ پیپلز پارٹی کے لیے زندگی کا کم، موت کا پیغام زیادہ ہے۔ وہ پیپلز پارٹی جس کی اکھڑتی سانسیں بلاول نے بمشکل بحال کیں۔
آصف علی زرداری کن حوالوں سے پہچانے جاتے ہیں، خود ان سے زیادہ کون جانتا ہو گا؟ کرپشن کی ایک دو نہیں، دس بیس نہیں، سیکڑوں داستانیں ان کے کردار سے جڑی ہیں۔ ان کے ایک وزیر اعظم گیلانی لوٹ مار کے بارہ مقدمات بھگت رہے ہیں۔ نہ صرف خود بلکہ ان کے فرزند بھی۔ ریکوڈک منصوبے سے ٹڈاپ سکینڈل تک کرپشن کے بارہ شاہکار تخلیق کیے گئے، بدعنوانی کا ہر کارنامہ اپنی مثال آپ۔ زرداری صاحب کا ہی ایک اور وزیر اعظم راجہ رینٹل کے نام سے مشہور ہوا۔ وقت کم، مقابلہ سخت، کرپشن کا مقابلہ، پرویز اشرف صرف نو ماہ وزیر اعظم رہے لیکن بڑوں بڑوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اب نیب ان کے پیچھے پیچھے ہے اور وہ آگے آگے۔ رینٹل بجلی گھروں میں کرپشن سے، سوہاوہ، مندرہ اور چکوال روڈ کے غیر قانونی ٹھیکوں اور آئی ٹی کے مہا سکینڈل تک راجہ پرویز اشرف کے خلاف آٹھ ریفرنس دائر ہو چکے۔ لوٹ کھسوٹ کی ایسی ایسی کہانیاں کہ پوری دنیا کے بڑے بڑے لٹیرے بھی اپنے بچوں کو پڑھائیں۔ نیب کے مطابق زرداری صاحب کے دوست اور دستِ راست، ڈاکٹر عاصم چار سو ساٹھ ارب روپے ہڑپ کر گئے۔ موصوف پلاٹوں کی جعلی الاٹمنٹ، سرکاری زمینوں پر قبضے، منی لانڈرنگ، کھاد، گیس اور خیرات تک کے نام پر سب کچھ ہضم کر گئے۔ عاصم حسین ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا کرپشن میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر، پوچھنے والے حیران ہو کر پوچھتے ہیں۔ سندھ میں سائیں سرکار کے منظور کاکے سرکاری عمارتیں، پلازے، ہسپتال اور پارک تک چٹ کر گئے۔ حج اور حاجیوں تک کو نہ بخشا گیا، کوئلے کی کانوں سے جڑی اربوں کی لوٹ مار سے سرکاری ملازمتیں بیچنے تک، جہاں جس ادارے پر دائو لگا، اسے بے حسی اور بے دردی سے لوٹا گیا۔ نہ صرف خود لوٹا بلکہ سیاسی مفادات کے لیے اتحادیوں سے بھی لٹوایا۔ بھٹو کی بیٹی خاک میں خاک ہوئی، اس کی شہادت کے طفیل حکمرانی زرداری صاحب کی جھولی میں آ گری۔ سوچنے والوں نے سوچا شاید آصف علی زرداری نئی تاریخ لکھیں، شاید شہید بی بی کے خون کے صدقے ملک پر کچھ رحم کریں، تمام اندازے مگر انہوں نے الٹے ثابت کر دیے۔ ان کے دور میں نئی تاریخ ضرور لکھی گئی لیکن بے مثال لوٹ کھسوٹ کی تاریخ۔ زردای صاحب کی شخصیت کا مجموعی عکس، ان کہانیوں میں لہراتا ہے۔ انہی کارناموں پر 2013ء کے انتخابات میں بدترین شکست پیپلز پارٹی کا مقدر بنی۔ وہ پارٹی جو سب سے بڑی قومی جماعت تھی ایک صوبے میں سکڑ گئی۔ پنجاب سے پیپلز پارٹی کا مکمل صفایا ہو گیا، وہی پنجاب جہاں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی، جس پنجاب نے بھٹو صاحب اور ان کی جماعت کو بام عروج پر پہنچایا۔ پیپلز پارٹی کے اندرون سندھ تک محدود ہونے پر بھی زرداری صاحب کا طرزِ سیاست نہ بدلا۔ سائیں سرکار نے نااہلی، غفلت اور بدعنوانی کے اپنے ہی ریکارڈ توڑنے کی سرتوڑ کوشش کی۔ بلدیاتی الیکشن ہوئے تو پیپلز پارٹی کا حشر عام انتخابات سے بھی برا ہوا، کئی شہروں اور یونین کونسلز میں پارٹی کے اپنے رہنمائوں نے یقینی ہار کے خوف سے اپنی ہی جماعت کا ٹکٹ لینے سے انکار کر دیا۔
کرپشن، نااہلی اور اقربا پروری کے الزامات کی زد میں پیپلز پارٹی ادھ موئی ہو چکی تھی۔ پھر پارٹی کے دم توڑنے سے ذرا پہلے بلاول بھٹو سامنے آئے، نیا چہرہ، نیا خون، نیا جذبہ، ناتجربہ کار مگر پُرجوش اور پُرعزم، پہاڑ جیسے چیلنجز کا انہیں سامنا تھا۔ پارٹی کو 
منظور وٹو جیسے سیاسی ہائی جیکروں سے آزاد کروانا، قائم علی شاہ جیسے ضعیفوں کے پنجوں سے چھڑوانا، اور ناراض جیالوں کو منانا۔ شہید بی بی کے وہ جیالے جنہیں مسلسل سات برس دھتکارا گیا۔ بلاول نے پارٹی کی تنظیم نو کا علم اٹھایا، اپنی ٹیم بنائی، سندھ میں وزیر اعلیٰ بدلا، پنجاب میں ڈیرے لگائے، نقلی چہرے والوں کو ہٹا کر اصلی چہرے والوں کو عہدوں پر بٹھایا۔ سب سے بڑے صوبے میں پارٹی کی کمان قمر زمان کائرہ اور ندیم افضل چن جیسے اصلی جیالوں کے ہاتھ آ گئی۔ بلاول نے سکیورٹی خدشات کے باوجود جلسوں پر جلسے کیے، پُرجوش خطابوں میں حکومت کو للکارا، پہلی بار پیپلز پارٹی مفاہمتی کے بجائے حقیقی اپوزیشن کے روپ میں نظر آئی۔ چند ماہ میں کوئی معجزہ تو نہ ہوا لیکن کئی کرشمے بلاول نے ضرور دکھائے۔ ان کی آواز پر مایوس جیالے متحرک ہونے لگے، اس آس پر کہ اب انہیں سیاسی جدوجہد کا اجر اور ثمر ملے گا۔ تحریکِ انصاف میں جانے کا فیصلہ کرنے والے جیالے واپس آنے لگے، زرداری صاحب کی نام نہاد مفاہمتی پالیسی سے مایوس عوام میں بھی بلاول کو پذیرائی ملی۔ پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی ناقد جماعت تحریکِ انصاف کے رہنما بھی بلاول کی پالیسیوں کو سراہنے پر مجبور ہوئے۔ ادھر بڑے بڑے حکومتی رہنما بلاول سے زچ ہو گئے جو ان کی کامیابی کی بڑی علامت تھی۔ جب بلاول نے جان پر کھیل کر مہینوں کی محنت کے بعد پیپلز پارٹی کے مردہ بت میں نئی سانسیں پھونکیں، عین اس وقت زرداری صاحب نے سیاست میں براہ راست واپسی کا اعلان کر دیا۔ بلاول کی ساری جدوجہد دھری کی دھری رہ گئی۔ نہ صرف نوجوان جیالوں بلکہ پیپلز پارٹی کے پرانے نظریاتی کارکنوں میں بھی مایوسی کی لہر دوڑ گئی، عوام میں بھی پیپلز پارٹی کا پرانا تاثر پھر قائم ہو گیا، یعنی وہی آصف زرداری، وہی سیاسی سودا بازی، وہی لوٹ مار۔ بلاول نے چار مطالبات نہ ماننے پر حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور دما دم مست قلندر کا اعلان کر رکھا تھا، زرداری صاحب کی واپسی پر گڑھی خدا بخش میں اس اعلان کا کیا حشر ہوا، سب نے دیکھا اور آج یہ پیپلز پارٹی کے لیے سیاسی طعنہ بن گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار تو ایک طرف، خود پیپلز پارٹی والے آصف علی زرداری کے فیصلے پر حیران ہیں۔ انہوں نے سیاست میں واپسی کا اعلان کیوں کیا؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس سے بلاول کی جدوجہد کو ناقابل برداشت دھچکا لگ سکتا ہے۔ کیا وہ اگلے الیکشن تک انتطار نہیں کر سکتے تھے؟ کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ خوف کا شکار ہو گئے تھے، یا ان کے پرانے ساتھیوں نے انہیں خوف کا شکار کر دیا تھا۔ یہ خوف کہ کہیں وہ اور ان کے ساتھی مکمل طور پر غیر متعلق نہ ہو جائیں، یعنی مکمل طور پر نظر انداز۔ اسی لیے انہوں نے ذاتی مفاد کو پارٹی مفاد پر ترجیح دی، اس امید پر کہ پیپلز پارٹی سندھ میں تو حکومت بنا ہی لے گی اور جزوی ہی سہی، ان کی ذاتی حکمرانی قائم رہے گی۔ سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ زرداری صاحب کی واپسی پیپلز پارٹی پر خود کش حملہ ہے، ایسا حملہ جو سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں