غداروں کی منڈی

غداروں کی اپنی منڈی ہے ،شاطر خریداروں کے خریدار، بِکنے والے بھی بے شمار۔ حسین حقانی سے شِکوہ کیسا ؟ غدار نہیں وہ پیشہ ور ہیں۔ انہوں نے وہی کیا، جو انہیں کرنا آتا ہے ۔ اپنا بھائو لگوانا اورپوری قیمت پانا ان کا پیشہ ہے ،آج سے نہیں، عشروں سے۔ حسین حقانی غدارلیکن انہیں پالنے پوسنے والے وفادار؟ کیا یہ ممکن ہے؟
امریکی ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن تک کیسے پہنچے،یہ کوئی سادہ سی کہانی نہیں ، اس کے پیچھے کئی راز ہیں ، کچھ راز کھل چکے، کچھ ابھی کھلنے ہیں ۔اسامہ کو دومئی 2011کو مارا گیا ، اصل کہانی لیکن 2009سے شروع ہوتی ہے ۔ اسی برس پہلی مرتبہ سی آئی اے کو اسامہ کے پیغام رساں ابوالکویتی کی پاکستان میں نقل وحرکت کی اطلاع ملی۔امریکیوں کو یقین تھا کہ کویتی اسامہ تک پہنچنے کا اہم ترین ذریعہ بن سکتا ہے۔کویتی کہاں جاتاہے، کس سے ملتا ہے، کہاں رہتا ہے، اس پر نظر رکھنے کے لیے سی آئی اے کو پاکستان میں جاسوسوںکا بڑا نیٹ ورک درکار تھا۔امریکیوں نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی سے رابطہ کیا، انہیں اپنے مشن سے آگاہ کیے بغیر مزید امریکی اہلکاروں کے لیے ویزے مانگے۔ حسین حقانی تو ہمیشہ ہی اپنی قیمت لگوانے کو بے تاب رہتے تھے ۔انہوں نے قواعدوضوابط کی پروا کیے بغیر دھڑا دھڑ امریکیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کر دیے ۔ جنوری 2010میں دفتر خارجہ نے خبردار کیا کہ سی آئی اے کے 36اہلکار پاکستان آنا چاہتے ہیں، وہ کسی خاص مشن پر ہیں، انہیں ویزے نہ دیے جائیں لیکن حقانی باز نہ آئے ۔ یوں سفارتی اہلکاروں کے بھیس میں مزید خفیہ ایجنٹ پاکستان پہنچناشرو ع ہو گئے ۔ اگست 2010میں سی آئی اے نے پتہ چلا لیا کہ الکویتی ایبٹ آباد میں ایک کمپائونڈ نما گھر میں مقیم ہے۔سی آئی اے کو اس گھر کا طرزتعمیر خاصا پراسرار لگا ، قریبی گھروں سے کئی گُنا بڑا پلاٹ ، بارہ سے اٹھارہ فٹ اونچی چاردیواری ، اس کے اوپر خاردار تاریں ، تیسری منزل کی بالکونی کے گرد سات فٹ اونچی ایک اور دیوار۔گھر میں کوئی لینڈ لائن فون تھا نہ انٹرنیٹ ۔گھر کا کوڑا کرکٹ بھی باہر پھینکنے کے بجائے اندر ہی جلا دیا جاتا تھا۔ سی آئی اے کو یقین ہو گیا کہ اس گھر میں صرف ابوالکویتی نہیں، کوئی اور انتہائی مطلوب شخص بھی مقیم ہے ، ممکنہ طور پر اسامہ بن لادن۔اب اس کمپاونڈ کی چوبیس گھنٹے نگرانی ضروری تھی ، اس کے لیے مزید ایجنٹوں کی ضرورت تھی ۔امریکا نے حسین حقانی سے مزید ویزے مانگ لیے ، حسین حقانی نے پاکستان کے اعلی حکومتی عہدے داروں سے رابطہ کیا، انہیں قائل کیا کہ امریکا کی بات ماننے میں ہی سول حکومت کا مفاد ہے۔ سابق وزیراعظم گیلانی نے حسین حقانی کو کسی پاکستانی ادارے سے پوچھے بغیر ویزے دینے کا مکمل اختیار سونپ دیا ۔ ا س کے بعد اگلے چھ ماہ میں حقانی نے امریکیوں کو چوبیس سو ویزے جاری کر دیے ، یہ تعداداُس سے پچھلے چھ ماہ میں جاری کئے گئے ویزوں سے آٹھ سو زیادہ تھی ۔ پاکستان پہنچنے والے کچھ امریکی ایجنٹوں نے ایبٹ آباد میں ایک مکان کرائے پر لے لیا۔یہاں سے اسامہ کے گھرکے اطراف جاسوسی نیٹ ورک چلایا جانے لگا ۔ سی آئی اے نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے جعلی پولیو مہم بھی چلوائی، اس مہم کا اصل مقصد اسامہ کے کمپائونڈ میں رہنے والوں کے ڈی این اے حاصل کرنا تھا۔ سی آئی اے اور دیگر امریکی ایجنسیوں نے تسلی سے تمام خفیہ معلومات اکٹھی کیں،پھریہ معلومات امریکا کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سامنے رکھ دی گئیں۔ 
انتیس اپریل 2011کو سابق امریکی صدر اوباما نے اسامہ کے کمپائونڈپر حملے کی منظوری دی ۔یکم مئی کی رات دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹرجلال آباد سے روانہ ہوئے ۔ان ہیلی کاپٹرز کواسامہ کے کمپائونڈ تک پہنچانے کے لیے جاسوسوں اورتکنیکی سہولت کاروں کا پورا نیٹ ورک موجود تھا ۔بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز میں 23 نیوی سیلز اورایک جاسوس کتا سوار تھے ۔ دیگر دو چینوک ہیلی کاپٹرز پاکستانی علاقے کالا ڈھاکا میں رک گے۔ ان میں سوار چوبیس سیلز کا مشن ممکنہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنا تھا۔ بلیک ہاک نوے منٹ کی پرواز کے بعد اسامہ کے کمپائونڈ تک پہنچ گئے ۔امریکی سیلز نے چالیس منٹ میں آپریشن مکمل کیا ، اسامہ بن لادن، بیٹا خالد اسامہ، ابوکویتی،اس کا بھائی ابراراور اُس کی اہلیہ بشری مارے گئے ۔ امریکی سیلز نے اسامہ کی لاش اٹھائی ، ہیلی کاپٹر میں ڈالی اورساتھ لے گیے۔ پاکستان نے ایف سولہ اڑائے لیکن اس سے پہلے امریکی ہیلی کاپٹرز سرحد پار کر کے افغانستان پہنچ چکے تھے ۔ اُسامہ کو ڈھونڈنے سے مارنے تک ، اس پوری کارروائی کو پیچیدہ ترین آپریشن قرار دیا جاتا ہے ۔ حسین حقانی اس معاملے میں امریکا کے سب سے بڑے سہولت کار تھے، وہ حال ہی میں ڈھٹائی نمافخرکے ساتھ اس کا اعتراف بھی کر چکے ہیں۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ حقانی نے یہ سب انسانیت کی خدمت کے لیے نہیں ،ذاتی حیثیت میں انعام و اکرام حاصل کرنے کے لیے کیا ۔اوباما کے بعد ٹرمپ انتظامیہ سے بھی اپنی خدمات کی قیمت وہ وصول کرنا چاہتے ہیں ۔یہ تمام حقائق تصویر کا ایک رخ ہیں ۔ اس تصویر کا مگرایک رخ اور بھی ہے ۔اُسامہ کی پاکستان میں موجودگی ، پھر امریکا کی جانب سے اسے نشانہ بنانا، ان دونوں واقعات سے ہماری سبکی ہوئی۔پوچھنے والے پوچھنے لگے کہ کیا پاکستان نے خود اسامہ کو پناہ دے رکھی تھی ؟ اگر ایسا نہیں تھا تو ہمارے ادارے خود اسامہ کو تلاش کیوں نہ کر پائے ؟دوسری جانب ہماری سرحدوں کا تقدس پامال ہوااورہمارے قومی وقار کو ٹھیس پہنچی ۔ 21جون 2011کو اس واقعہ پر تحقیقاتی کمیشن بنا ۔اس کمیشن نے تین سو سے زائد سرکاری عہدے داروں، عینی شاہدین اور دیگر اہم افراد کے بیانات ریکارڈ کیے ۔ ساڑھے پانچ برس گزر چکے، آج تک اس کمیشن کی رپورٹ سرکاری طورپر منظرعام پر نہیں لائی گئی ۔اس رپورٹ میں دو اہم ترین نکات سامنے آنا تھے ، پہلا نکتہ یہ کہ حسین حقانی کے علاوہ امریکا کے دیگر سہولت کارکون تھے ، دوسرا نکتہ یہ کہ اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے غفلت کے ذمہ دار کون تھے ۔ تحقیقاتی کمیشنوں کی رپورٹس کا سب سے بڑا قبرستان پاکستان میں ہے ۔ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ بھی اس قبرستان میں دفن کی جا چکی ہے ۔ سوال کرنے والے اگرچہ سوال کرتے ہیں ، اگر اس اہم ترین رپورٹ کو بھی دفنانا ہی تھا تو کمیشن بنا کر وقت ، پیسہ اورتوانائیاں ضائع کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے قوم اب تک اندھیروں میں بھٹک رہی ہے ۔ ایک مرتبہ پھر چاروں طرف سے غدار غدار کی صدائیں سنائی دینے لگی ہیں ۔بجاکہ غداروں کی نشاندہی ضروری ہے لیکن غیرذمہ داروں کی بھی ۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں