"The King is dead, long live the king" بیک وقت مرثیے اورقصیدے پرمشتمل یہ جملہ فرانسیسی زبان سے انگریزی میں آیا۔ بادشاہ کی موت کا یہ باضابطہ اعلان ہوتا، اس کے جانشین کے لیے طویل عمری کی دعا بھی۔ مرحوم بادشاہ کواکثر لوگ بھول جاتے، پھرتخت پر بیٹھے اس کے جانشین کے گُن گاتے ۔ کبھی کبھار اندرون محل انتشار بھی پیدا ہو جاتا ،اپنے ہی غیروں کے اشاروں پر ناچنے لگتے ، سازشیں سر اُٹھانے لگتیں،کل تک کے وفادار، آج کے غدار بن جاتے، عوام بدظن ہونے لگتے ، سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھرنے لگتی ، پھر اندر کا سازشی ہو یا بیرونی حملہ آور، جو سب سے طاقتور ہوتا،تخت اور تاج اس کا مقدر بن جاتا ۔موجودہ حکومت کا سیاسی بادشاہ مر چکا ، سوچنے والوںنے یہ سوچا ہو گا، پھر پارٹی اندرونی انتشار کا شکار ہو جائے گی، اس کا بھی اُنہیں یقین ہو گا، پھر عوام بھی بیزار ہو جائیںگے،یہ اندازہ بھی انہوں نے لگایا ہو گا ، سیاست مگر انہونیوں کا کھیل ہے، کڑی آزمائشوں میں سیاسی جماعتیں ڈوبتی ہیں یا ابھرتی ہیں، ن لیگ نے بظاہر ابھرنے کا فیصلہ کیا ہے ، متحد رہ کر ، وہ جان چکے کہ اتحاد میں ہی ان کی بقا ہے۔یہ نظریے کی جنگ ہو یا ذاتی بقا کی ، وقت نے پہلی مرتبہ انہیں تاریخ کے دُرست سِرے پر لا کھڑا کیا ہے، شطرنج نما اس سیاسی کھیل میں بادشاہ کو انہوں نے مرنے نہیں دیا ، بجا کہ نوازشریف کو پہلے مرحلے میں مات ہوئی، بازی مگر ابھی باقی ہے ۔
لڑائی جیتنے کے لیے لڑی جاتی ہے، ہارنے کے لیے نہیں۔اپنی طاقت کا اندازہ لگانا ہمیشہ آسان ہوتا ہے، اصل کام حریف کی طاقت کادرست اندازہ لگانا ہوتا ہے۔پہلے یہ سوچیں کہ آپ کے حلیف کون ہیں، کتنے طاقتور ہیں، کب تک، کن
شرائط پر، کن حالات میں آپ کے ساتھ کھڑے رہ سکتے ہیں۔ پھر یہ دیکھیے کہ آپ کے حریف کتنے طاقتور ہیں ، ان کے ساتھی اور حمایتی کون ہیں، وہ کب، کہاں سے ، کِس حد تک طاقت حاصل کر سکتے ہیں۔موجودہ صورتحال میں اس جمع تقسیم کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، کون زیادہ طاقتور ہے، کون کم ، یہ جاننے کے لیے افلاطونی دانش درکار نہیں۔ نوازشریف نے نظام کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، انہیں لڑنا چاہیے، جوش پر مگر ہوش غالب رہناچاہیے ۔پہلے مرحلے میں نااہلی نے انہیں اُوندھے منہ گرایا، گر کر مگر وہ سنبھل چکے، پارٹی اور اپنے کارکنوں کی وجہ سے ۔ خطرات اور خدشات کے باوجود، جی ٹی روڈ سے سفرکا فیصلہ درست ثابت ہوا ۔ چند گھنٹے کے کسی بھی جلسے کے برعکس، کئی روزہ ریلی بہت تھکا دینے والی ہوتی ہے ،اس کے باوجود کارکنوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نظرآئی ۔دیکھنے والے دیکھ سکتے تھے، وہ کوئی غیرمتعلق، خاموش یانیم دلی سے آئے ہوئے کارکن نہیں تھے ، حیران کن طور پروہ بہت پُرجوش تھے اور پُرعزم بھی ۔ نوازشریف کے ہر سوال کا جواب ،پورے جذبے سے وہ دیتے رہے ۔اس صورت حال سے ایک بات واضح ہو گئی، عدالتی فیصلے کے نتیجے میں وہ نااہل ہوئے، غیر مقبول نہیں ۔ ہمدردی کی ایک لہر بھی ان کے ساتھ ہے، جسے وہ سیاسی ہتھیار بنا سکتے ہیںلیکن احتیاط کے ساتھ ۔ نوازشریف نے جی ٹی روڈ سے جو پیغام پہنچا نا تھا وہ پہنچ چکا۔ اب وہ صوفے کے ساتھ ٹیک لگائیں، اپنی چڑھی ہوئی سانس بحال کریں، پلکوں کے پردے آنکھوں پر گرائیں، پھر سکون سے مخالفین کی پھولی سانسوں کا مزا لیں ۔ضروری نہیں کہ سارے تیر ایک ہی دن چلا دیے جائیں۔ نوازشریف جس نوعیت کی جنگ لڑنے کی بات کر رہے ہیں، وہ طویل ہوتی ہے اور پیچیدہ بھی۔ ایسی جنگیں ہمیشہ مرحلہ وار لڑی جاتی ہیں۔کبھی دو قدم آگے، پھر مصلحت کے تحت ایک
قدم پیچھے۔ جلدبازی میں لڑی جانے والی جنگ میں سانسیں اُکھڑ جاتی ہیں اور صفیں بھی ۔ پھونک پھونک کر انہیں قدم بڑھانا ہوں گے ۔ نوازشریف کہتے ہیں ان کی لڑائی ایک مخصوص سوچ کے خلاف ہے ، ان کے مخالفین مگر اسے اداروں سے جنگ قرار دے کر قوم کا لہو گرمانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس سے زیادہ پیچیدہ صورت حال کیا ہو سکتی ہے ۔اس معاملے پر دونوں طرف کے موقف میں بظاہر بال برابر لیکن اصل میں بہت بڑا فر ق ہے ، یہ فر ق عوام کو سمجھانے کے لیے نوازشریف کو پل صراط پر چلنا ہے، توازن بھی برقرار رکھنا ہے، منزل کی جانب آگے بھی بڑھنا ہے۔ آئین کی شق باسٹھ تریسٹھ میں ترمیم پر بھی طوفان اٹھا دیا جائے گا، یہ الزام لگا کر کہ نوازشریف اسلامی شقوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ یہ باور کرانا کہ ان کا مقصد اسلامی شقیں ختم کرنا نہیں، ان شقوں کامخصوص سیاسی استعمال روکنا ہے ، کسی چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔ نوازشریف کے لیے ایک اور معاملہ بھی بہت نازک ہے،انہیں احتجاجی تحریک بھی چلانی ہے، ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام بھی برقرار رکھنا ہے ، اس لیے کہ حکومت تو بہرحال انہی کی ہے ۔ نوازشریف ووٹ کے تقدس اور احترام کے لیے نئی آئینی ترامیم کی بات کر رہے ہیں، یہ بات اگرچہ غیر واضح ہے کہ نئی ترامیم اداروں کو اپنی حدود میں رکھنے کی ضامن کیسے ہو سکتی ہیں۔ موجودہ آئین کی کئی شقیں بھی اداروں کی حدود کا واضح تعین کرتی ہیں، اس کے باوجود کیا کچھ ہوتا رہا، وہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ بہرحال نوازشریف کی مجوزہ آئینی ترامیم بظاہر صرف ایک صورت میں ہو سکتی ہیں، وہ یہ کہ اگلے انتخابات میں ان کی جماعت بھاری اکثریت سے کامیاب ہو۔ یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب حکومت اپنے معاشی اہداف حاصل کرے، بڑے منصوبوں کو بروقت پایہ تکمیل تک پہنچائے، پھر انتخابات میںہمدردی اور کارکردگی کے نام پر ووٹ مانگا جائے۔ نوازلیگ اگر دوبارہ اقتدار میں آگئی تو موجودہ مخصوص سیاسی گردوغبار چھٹ جائے گا۔ایک نئی نویلی حکومت کاحلیف بننے کو بہت سی جماعتیں بے تاب ہوتی ہیں، یوں آئینی ترامیم کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی ۔دوسری جانب حکومت کے آخری چند ماہ میں حلیف تلاش کرنا، ناممکن نہیں تو مشکل ضرورہوتا ہے ، ن لیگ کو اس وقت یہی چیلنج درپیش ہے۔
نااہلی کے باوجود نوازشریف کے ہاتھ میں چند اہم پتے باقی ہیں ۔ان کی اہلیہ اگر وزیراعظم بن گئیں تو وہ خود بھی واپس وزیراعظم ہائوس آجائیںگے۔ یوں مبینہ مائنس ون فارمولا بھی ناکام ہو جائے گا ۔بظاہر وزیراعظم بیگم کلثوم نواز ہوں گی، عملی طور پر معاملات نوازشریف چلائیں گے ۔ن لیگ کے لیے اس مفروضے کے اخلاقی نہیں، سیاسی پہلو زیادہ اہم ہوں گے ۔یوں شریف خاندان اور ن لیگ کا پرانا سیاسی انتظام برقرار رہ سکتا ہے، یعنی پنجاب شہبازشریف کے پاس، وفاق نوازشریف یا ان کے گھرانے کے پاس ۔ ساتھ ہی وہ قانونی محاذ پر بھی قسمت آزمائی کرتے رہیں گے، اپنی نااہلی ختم کروانے کے لیے۔ اس دوران نوازشریف آئین کی سربلندی کا جو پیغام دینا چاہتے ہیں ضرور دیں، ٹکرائو کی صورت حال سے لیکن انہیں بچنا ہو گا۔انہیں کسی بھی طرح موجودہ نظام کوکھینچ تان کر اگلے الیکشن تک پہنچانا ہے ۔انہوں نے جو کھو دیا سو کھو دیا، اسے دوبارہ حاصل کرنے کے پھر کئی موقع آئیں گے، فی الحال جو بچا ہے ، اسے بچائے رکھنا اہم ہے ۔ اگر معاملاتــ ـ"ــ"The King is dead, long live the king تک پہنچا دیے گئے تو شاید کچھ بھی نہ بچ پائے۔