"ISC" (space) message & send to 7575

گورنرراج سے پہلے کچھ سوچ لیجئے!

سندھ کے حوالے سے خبریں گرم ہیں کہ سندھ میں جلد ''گورنرراج‘‘ آنے والا ہے اور ایک غیر جانبدار حکومت آئے گی۔ خبر بہت اچھی ہے، اسے ہم ''گڈ نیوز‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اِس سے دل کو تسکین اور جان کوفرحت انگیز ہوا کا جھونکا آتا محسوس ہوتا ہے۔ آئیڈیل باتوںکی خوبی یہ ہے کہ انسان خوابوںکی دنیا میں چلا جاتا ہے اور لگتا ہے کہ ''سب کچھ ٹھیک ہونے والا ہے‘‘ لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سندھ کے ''زخم‘‘ اور ''بیماری‘‘ اتنی معمولی بھی نہیں کہ ''او پی ڈی‘‘میں ہی مرہم پٹی سے ٹھیک ہوجائے اور''فٹنس‘‘کا سر ٹیفکیٹ دے دیا جائے۔ سندھ اس وقت اپنی تاریخ کے تباہ کن دور میں داخل ہوچکا ہے۔ اندرون سندھ کی خبریں خراب کمیونیکیشن کے باعث قومی افق تک پہنچنا بند ہوگئی ہیں۔ اسلام آباداندھا‘بہرا اورگونگا بن چکا ہے۔ اُسے ملک سے زیادہ پارلیمنٹ میں عددی تائید کی ضرورت ہے ۔اب صرف کراچی نشانے پر رہتا ہے۔ کراچی بھی دو طرح کا ہے۔۔۔۔ ایک شہری کراچی اور دوسرا کچی آبادی میں پھیلا ہوا کراچی ۔ دونوں کراچی مختلف ہیں، زیادہ تر جرائم کچی آبادیوں والے کراچی میں ہوتے ہیں اور یہ بات تو اب قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی تسلیم کرنے لگے ہیں کہ دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں کے گروہ کچی آبادیوں میں روپوش رہتے ہیں۔ رینجرز نے اورنگی ٹائون‘ لیاری‘سہراب گوٹھ اور منگھوپیرکی آبادیوں میں یکے بعد دیگرے کئی ایک مقابلوں میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا بڑی حد تک قلع قمع کیا ہے، لیکن ہر دوسرے آپریشن کے بعد یہ لگتا ہے کہ پہلے والا آپریشن کچھ بھی نہیں تھا۔ دوسری طرف اندرون سندھ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔۔۔۔ ڈکیتی ‘بھتہ خوری‘مال بردار گاڑیوں پر حملے‘اغوا برائے تاوان ‘راہداری ٹیکس اورروزانہ نجی عقوبت اور جیل خانوں کی دریافت اورخاندانوں کو حبس بے جا میں رکھ کر ان سے کھیتوں میں بیگار لینااب جرم تصورہی نہیں کیا جاتا۔ سندھ حکومت کے اعلیٰ افسران اور وزراء تک اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ پانچ سے چھ ہزار جعلی سکولوں کے گھوسٹ استادوں کی تنخواہیں اور تعلیمی فنڈز دھڑلے سے ہڑپ کئے جاتے ہیں ۔ سندھ میں لوٹ مار کرنے والوں کی اداکاری زیادہ اچھی ہے اور یہ ''لٹیرے‘‘سندھ میں لوٹ مار کرتے ہیں، انسانوں کو غلام بناتے ہیں اور کراچی واسلام آباد میں کلف لگے کپڑے پہن کر جمہوریت کے فضائل پر ''عالمانہ‘‘ پریس کانفرنسیں کرتے ہیں۔ جمہوریت کی یہ خوبی ہے کہ کراچی ہو یا اندرون سندھ، ہر جگہ عوام کوجمہوریت کے حسین نام پر غلام بننے پر''راضی‘‘کرلیا گیا ہے۔ گورنرراج کی مخالفت بھی اسی لیے کی جارہی ہے کہ یہ جمہوریت کے خلاف ہے اورآئین میں اس کی گنجائش نہیں ہے ۔ لیکن کوئی یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ سینیٹ کے لیے ووٹ ‘ وزارتیں اورنوکریاں بیچنے کی اجازت کون سے آئین میں ہے؟ ہمیں بھی وہ آئین لاکر دکھادوجس میں لکھا ہوکہ غریب اور بد حال علاقے کا ایم پی اے ہاتھی سے بڑی سائزکی پانچ دروازوں والی جیپ خرید سکتا ہے اور اپنے حلقہ انتخاب میں اِس طرح دندناتا پھرتا ہے کہ اگرکوئی مخالف سامنے آیا تو وہ کچلا جائے گا۔ سندھ میں گورنر راج کی بات خوب زور شور سے کی جارہی ہے لیکن کوئی یہ نہیں سمجھ رہا کہ یہ گورنر راج بھٹو دور میں بلوچستان میں لگائے جانے والے گورنر راج جیسا ہوگا یا میاں نواز شریف کے سندھ میں لگائے جانے والے گورنر راج جیسا ہوگا جو کوئی بھی رزلٹ نہ دے سکا اور آخرکار میاں نواز شریف کی حکومت کو کھا گیا۔کیایہ 1976ء میں مشرقی پاکستان میں لگائے گئے عبدالمالک کے گورنر راج جیسا تو نہیںہوگا؟ یہ گورنر راج کون لگائے گا؟ سول حکومت یا فوج؟ اگر فوج لگائے گی تو سول قوانین کے تحت بیوروکریسی‘ پولیس اور انصاف کے اداروں میں ''چپکے چپکے‘‘ بھرتی کیے جانے والے ''وفادارکارکنوں‘‘ سے مطلوبہ رزلٹ کیسے حاصل کیا جائے گا؟ مشرقی پاکستان کے آخری دنوں میں یہی غلطی ہوگئی تھی پوری کی پوری پولیس بنگالی تھی اور فوج غیر بنگالی۔ زبان اور تہذیب کے ٹکرائو نے اتنے فاصلے پیدا کردیے کہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن کر ہمیشہ کے لیے فاصلے پر چلا گیا۔ آج سندھ کی بھی تقریباً وہی ملتی جلتی صورت حال ہے۔ پولیس اور سول سروس میں آدھے لوگ ''رشوت‘‘ دے کر ملازمت اختیار کرتے ہیں ان کو اپنی ''ریکوری‘‘بھی کرنا ہوتی ہے اور باقی اہلکار وہ ''خفیہ بارودی سرنگیں‘‘ہیں جنہیں مناسب وقت پراشارہ کیا جائے گا اور دھماکہ خیز کھیل شروع ہوجائے گا۔ اِس وقت سیاست دانوں کی سب سے بڑی اسٹریٹیجی یہ ہے کہ ''خاموش‘‘ رہو یعنی ''ویٹ اینڈ سی‘‘! 
جب پانچ ''بڑوں‘‘کا کراچی میں اجلاس ہوا تو وہاں آرمی چیف کو نمایاں کیا گیا۔ایک طرف وزیراعظم تھے تو دوسری طرف سابق صدر زرداری ، ایک طرف وزیر اعلیٰ سندھ تو دوسری طرف گورنر سندھ تھے۔ یہ اجلاس کراچی آپریشن کے حوالے سے تھا اوراس میں کراچی کی پارلیمانی لیڈر شپ کو نکال باہرکیا گیا تھا۔ گورنرتو ایم کیو ایم کا ''اُدھار‘‘ دیا ہوا ہے، وہ ایم کیو ایم کی پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتا، وفاق کا نمائندہ ہے اوروفاق کی بات کرتا ہے۔ اگر اِس اجلاس میں فاروق ستاریا ایم کیو ایم کا کوئی اور پارلیمانی لیڈر ہوتا تو یہ زیادہ بھر پور ہوتا اور اہلِ دانش کو مشرقی پاکستان کے غیر متوازن اجلاسوں کی یاد تازہ نہ ہوتی ۔ نہ جانے یہ کوئی غلطی تھی یا کسی نئے کھیل کا حصہ ! کیا گورنر راج اسی طرح غیر متوازن انداز میں لگانے کی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں،کیا گورنر راج میںیہی بیور کریسی ‘ سندھ پولیس اور انتظامیہ ''امن کی فصل‘‘ اگائیں گے؟سچ لکھنے کو دل تو بہت چاہتا ہے لیکن سقراط کے حشرکے بعد سیانوںکی یہ بات سمجھ آتی جارہی ہے کہ زیادہ سچ نہیں بولنا چاہیے۔ خاموش آدمی زیادہ ''سُکھی‘‘ رہتا ہے۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں