کراچی میں دو دن بارش کیا ہوئی‘ سندھ حکومت کی کارکردگی ''دھل‘‘ کر سامنے آ گئی۔ برسوں سے بارش کو ترسے کراچی والے خوش تھے کہ بارش ہو گئی... شہر چمک جائے گا... آئینہ بن جائے گا‘ لیکن افسوس صد افسوس! عوام کے ارمان خاک میں مل گئے۔ بارش میں نہانے کے خواب... سیر و تفریح کے منصوبے... شاپنگ کی پلاننگ... سب کچھ بارش کے ''آفٹر شاکس‘‘ کی نذر ہو گیا... سڑکیں‘ ندی نالے اور گلیاں نہریں بن گئیں۔ بہتر انتظامات کے دعوے بھی بہہ گئے۔ کہیں عملہ غائب رہا‘ تو کہیں مشینری کا فقدان تھا۔ محکمہ بلدیات کے وجود کے ''بلاجواز‘‘ ہونے کا بھی پتہ چل گیا۔ ''رین ایمرجنسی پلان‘‘ کسے کہتے ہیں یہ بھی بلدیہ کراچی نے بتا دیا۔ بارش سے قبل ہونے والے ہنگامی اجلاسوں کا نتیجہ بھی کراچی کی سڑکوں پر پانی کی صورت میں نظر آ گیا۔ صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو چند ٹی وی چینلز پر ''بیپر‘‘ کے دوران ارشاد فرماتے رہے: ''عملہ پانی نکال رہا ہے بہت جلد سڑکیں خشک ہو جائیں گی‘‘۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا... قدرت نے کراچی پر کرم کیا اور بارش کے بعد سورج بلدیہ کی اہم ذمہ داری خود نبھاتا رہا‘ پانی دھوپ کی تپش سے ہی خشک ہوتا رہا۔ بارش ''ٹیسٹ میچ‘‘ کی طرح جاری رہی... اور ایک بار پھر کراچی والے پہلے بارش اور پھر سڑکوں پر جمع پانی میں''نہاتے‘‘ رہے۔
کراچی میں بارش زحمت کیوں بنتی ہے یہ بات سب جانتے ہیں۔ شہر کے برساتی نالوں پر شاپنگ پلازہ اور مارکیٹیں بن چکی ہیں۔ مون سون سے قبل چھوٹے نالوں سے بھی کچرا صاف نہیں کیا گیا۔ شہر کے سولہ بڑے نالے اب بھی کچرے کی تہہ سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ اب بارش کا پانی بھی جائے تو جائے کہاں؟ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے صفائی کے بڑے بڑے دعوے کئے گئے‘ جو دھرے رہ گئے۔ کمشنر کراچی نے نالوں کے دورے کئے... فوٹو سیشن بھی ہوئے... لیکن صفائی نہ کروا سکے۔ شدید بارشوں کی صورت میں یہی کچرے سے بھرے نالے پانی کو سمندر میں بھیجنے کے بجائے سڑکوں کو سمندر بنا دیتے ہیں۔ تھوڑی سی بارش کے ساتھ ہی گٹر ابلنا بھی فیشن سا بن گیا ہے۔ اور ٹیکس دینے والے شہری‘ تاجر اور صنعت کار محکمہ بلدیات کی وجہ سے ہونے والی اس تباہی کو جھیلنے پر مجبور ہیں۔
اہل کراچی کے لئے ایک کے بعد دوسری مصیبت تیار رہتی ہے۔ ایک جانب سڑکیں پانی سے لبالب بھری ہیں تو دوسری طرف کراچی کو پانی سپلائی کرنے والی 72 انچ قطر سٹیل کی پائپ لائن دو جگہ سے پھٹ گئی اور کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہے۔ عالم اسلام کے سب سے بڑے شہر کی پلاننگ تو دیکھیں!! آسمان سے پانی برس رہا ہے اور پینے کے لئے پانی ہی نہیں۔ کراچی کے بلدیاتی محکموں کی طرح محکمہ موسمیات کا حال بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں۔ جب بارش کی پیش گوئی کرتے ہیں گرمی بڑھ جاتی ہے۔ جب کہتے ہیں‘ بارش نہیں ہو گی‘ ساون دل کھول کر برستا ہے۔ محکمہ موسمیات نے پانچ دن قبل کراچی میں بارش کے لئے 27 جون کی تاریخ دی تھی۔ 27 جون کو بھی بارش نہ ہونے پر ڈی جی میٹ سے سوال ہوا تو بولے: ''نہیں ہوئی تو ایک دن بعد ہو جائے گی‘‘۔ محکمہ موسمیات کی دی گئی تاریخیں بار بار غلط ہونے پر محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ ایسے بوکھلائے کہ بارش کی پیشگوئی ہی واپس لے لی... مگراس کے چند گھنٹوں بعد ہی کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش شروع ہو گئی۔ ہر پیشگوئی غلط ثابت ہونے پر کراچی والے سوال کر رہے ہیں کہ کیا محکمہ موسمیات بھی کراچی کے ساتھ ''سوتیلا سلوک‘‘ کر رہا ہے؟
کراچی میں بارش کا ایک اور اہم ''تحفہ‘‘ ٹریفک جام کی صورت میں ملتا ہے۔ شہر میں ہزاروں ٹریفک پولیس اہلکار کام کرتے ہیں۔ کراچی کے ٹیکس سے ان کو تنخواہ بھی ادا کی جاتی ہے لیکن جب جب بارش ہوتی ہے یہ ٹریفک اہلکار و افسران شاید خود بھی ''نہانے‘‘ چلے جاتے ہیں‘ اور شہر معمول کی طرح اللہ کے حوالے ہوتا ہے۔ اہم سگنلز اور چورنگیاں خالی ہو جاتی ہیں‘ اور ٹریفک کو ''آٹو‘‘ موڈ پر ڈالنے والے یہ ''پائلٹ‘‘ بارش کے بعد ہی باہر نکلتے ہیں۔ بے بس اور لاچار شہری سڑکوں پر ہی افطار کرتے ہیں۔ بعض توگاڑیاں بند کرکے پیدل گھر جانے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ کراچی کی ''رین ایمرجنسی‘‘ سے تو عام حالات ہی بہتر نظر آتے ہیں۔ ایسی ایمرجنسی کا کیا فائدہ جسے دیکھ کر یہ کہا جائے ''حل سے مسئلہ بہتر تھا‘‘۔
کراچی میں بارش کی پہلی بوند کے ساتھ ہی بجلی فرار ہو جاتی ہے۔ بارش کے ساتھ فیڈرز ٹرپ کر جانا لازم و ملزوم ہوگیا ہے۔ یہ بھی کراچی کے ساتھ اُسی ''پرانی دشمنی‘‘ کا نتیجہ ہے جو پہلے وفاق اور اب سندھ حکومت نے جاری رکھی ہوئی ہے۔ جب کے ای ایس سی کی نجکاری کی جا رہی تھی تو بوسیدہ نظام کی جگہ نئے نظام کی تنصیب کی یقین دہانی کرائی گئی‘ لیکن جس وقت کاپر کے تار ہٹا کر سلور کے تار لگائے جا رہے تھے تو ''تاریک مستقبل‘‘ سے ناواقف بے چارے شہری انہی کھمبوں کے نیچے کھڑے ہو کر تالیاں بجا رہے تھے... اور آج وہی سلور کے تار نہ 45 ڈگری کی گرمی برداشت کر سکتے ہیں اور نہ ہی بارش کی چند بوندیں۔ کے ای ایس سی کی نجکاری کراچی کے ڈھائی کروڑ شہریوں کا سودا تھا کیونکہ یہ سب بجلی کے صارفین تھے۔ یہ نہ ہوتے تو سودا بھی نہ ہوتا‘ جو حکومت اور ایک پرائیوٹ ادارے کے درمیان ہوا۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی بس کے مسافروں کو منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی کنڈیکٹر کے ایک حکم پر دوسری بس میں منتقل کر دیا جائے اور وہ مسافر اپنی سیٹ چھوڑ کر دوسری بس میں کھڑے رہ کر سفر کرنے پر مجبور ہوں۔ اس میں قصور ان مسافروں کا بھی ہے جو سیٹ کے حصول کے لالچ میں بس سے اتر جاتے ہیں اور احتجاج نہیں کرتے حالانکہ وہ نصف یا اس سے زیادہ سفر سکون سے بیٹھ کر طے کر چکے ہوتے ہیں۔ کے ای ایس سی کی نجکاری پر اٹھنے والے سوال آج تک ''زندہ‘‘ ہیں... اور ہر بارش اور شدید گرمی کے بعد کے الیکٹرک پر کڑی تنقید کی جاتی ہے‘ لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ کیا یہ کوئی حساس معاملہ ہے؟ یا پھر اس میں ملکی مفاد انتہائی مقدم ہے۔ جب تک کے ای ایس سی کی نجکاری نہیں ہوئی تھی ادارے کے ملازمین خوشحال‘ عوام مطمئن اور صارفین بے غم تھے لیکن آج صورتحال بالکل مختلف ہے‘ سب کے سب پریشان ہیں۔ کے ای ایس سی کی نجکاری کا معاہدہ اگرچہ پرویز مشرف دور میں ہوا لیکن اس کے بعد آنے والی جمہوریت کی ''چیمپئن حکومتیں‘‘ بھی نامعلوم اور پراسرار وجوہ کی بنا پر معاہدے کو سامنے نہ لا سکیں۔ کے الیکٹرک کے سربراہ کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہونے سے استثنیٰ حاصل ہے جو کہ وزیر اعظم پاکستان کو بھی نہیں۔ اِس ایک شق سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ معاہدہ کتنا ''خطرناک ‘‘ہو گا۔ کراچی کو پانی اور اندھیرے میں ڈبونے کے ذمہ دار صرف دو ادارے بلدیات اور کے الیکٹرک ہیں۔ اسی لئے تو کراچی میں بارش کے بعد پیدا ہونے والی پریشانیوں پر احمد فراز سے معذرت کے ساتھ یہ شعر پڑھنے کا دل چاہتا ہے کہ
اِن بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا ''شہر‘‘ ہے کچھ تو خیال کر