کسی معاشرے کے مہذب ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں بسنے والے اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق کا کیسے اور کتنا خیال رکھتے ہیں۔ دھکم پیل، شوروغوغا، نفسانفسی اور خود غرضی پر مبنی رویے معاشرے میں انحطاط اور بگاڑ کی نشانی ہیں جبکہ رواداری، حساسیت، باہمی احترام اور تحمل و برداشت پاکیزہ اور انسان دوست معاشروں کی خصوصیات ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے اردگرد مثبت روایات تو خال خال لیکن منفی رویے اپنی پوری شدت سے براجمان نظر آتے ہیں۔ اس معاشرتی زوال کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا طبقے پر ڈالنا درست نہیں ہو گا۔ ہم سب معاشرے کے سدھار کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا فراموش کر چکے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ہمیں یہ فرض اور اس کی اہمیت کبھی یاد ہی نہیں تھی۔کسی کیلئے راستہ خالی کرنا، کھانے کی میز پر ساتھ والے کو کھانا پہلے لینے کی دعوت دینا، کسی دکان یا عمارت میں داخل ہوتے ہوئے دروازہ احتیاط سے بند کرنا یا پیچھے آنے والے کیلئے دروازہ اس وقت تک کھلے رکھنا جب تک وہ عمارت میں داخل نہ ہو جائے، ہجوم میں کسی سے ٹکرا جانے پر معذرت کرنا اور اگر کوئی دوسرا یہ کام آپ کیلئے کرے تو ایک مسکراہٹ سے اُس کا شکریہ ادا کر کے چراغ سے چراغ روشن کرنا مہذب ہونے کی نشانیاں ہیں۔ خاندان جو معاشرے کی بنیادی اکائی ہے، ان اچھے افعال کی پہلی تربیت گاہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آج خاندان اپنے مثبت کردار کی ادائیگی میں ناکام نظر آتا ہے۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے سب کو اونچی آواز سے سلام کرنا، مہمان کا خوش دلی سے استقبال کرنا اور کسی مہربانی پر شکریہ کہنا بہت آسان ہے لیکن ہمارے اکثر بچے اور بڑے ان فرائض سے یکسر اجنبی نظر آتے ہیں۔ والدین بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ ان کی اولاد ان کا اور دوسرے بزرگوں کا احترام کرے لیکن وہی والدین بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے اپنے اپنے سسرالیوں اور قرابت داروں کی کھل کر برائیاں کرتے ہیں، معاشرتی اور کاروباری معاملات میں بے تحاشا جھوٹ بولتے ہیں، والد اپنے کاروباری سلسلوں کی وجہ سے گھر اس وقت آتے ہیں جب بچے سو چکے ہوتے ہیں‘ وہ انہیں وقت نہیں دیتے اور پھر بھی توقع کرتے ہیں کہ ان کی اولاد بہترین شہری بنے۔
اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا
احساس زیاں اس طرح رخصت ہوا کہ حکومت کے اس فرمان کو‘ جو دکانیں جلدی بند کرنے کیلئے کہے‘ جوتے کی نوک پر رکھنے والے اور اپنی اولاد کی تربیت کی قیمت پر اپنے کاروباری معاملات میں رات گئے مشغول رہنے والے یہی کاروباری حضرات اس وعظ پر عش عش کر اُٹھتے ہیں جس میں انہیں مغربی دنیا میں خاندانی نظام کی تباہی کی خبر سنائی جاتی ہے اور یہ بات سوچ کر مسکراہٹ قابو رکھنا مشکل ہو گا کہ شہر کی مسجد میں مغربی خاندانی نظام کی تباہی کی نوید دینے والے دیہاتی مُلا عرصہ دراز سے اپنے خاندان کو ملنے اپنے گاؤں نہیں گئے۔ ''ناکام‘‘ خاندانی نظام سے تعلق رکھنے والے مغربی ملکوں کی کرکٹ ٹیمیں کرسمس اپنے خاندان کے ساتھ منانے کیلئے غیر ملکی دورہ ادھورا چھوڑ کر اپنے وطن لوٹ جاتی ہیں جبکہ ہماری کرکٹ ٹیم قوم کو عید کا تحفہ دینے کیلئے عید کے روز کرکٹ کھیلنے میں مشغول نظر آتی ہے۔
کیا ہمارا تعلیمی نظام بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کیلئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ المیہ ہے کہ اس سوال کا جواب بھی نہ میں ہے۔ دنیاوی تعلیم کا مقصد صرف اچھے نتائج اور گریڈ نظر آتا ہے جبکہ دینی تعلیم کا سارا زور عبادات پر نظر آتا ہے۔دینی اور دنیاوی علم کی تعلیم دینے والوں کی ناکامی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سماجی انحطاط کسی ایک طبقے یا گروہ تک محدود نہ رہا۔ نہایت بد قسمتی ہے کہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے وقت مسجد کے باہر اور ایک سینما ہال کے باہر ٹریفک کی بدنظمی ایک جیسی نظر آتی
ہے۔ مسجد کا لاؤڈ سپیکر اور عام آدمی کے گھر میں منعقدہ خوشی کی تقریب کا ڈی جے سسٹم ہمسایوں کیلئے یکساں تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے لوگوں کی اکثریت کی خوشی کی کوئی تقریب اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک ان کے ہمسایوں اور راستے سے گزرنے والوں کا سکون غارت نہ ہو جائے۔ ہمارے ہاں وہی سیاسی جلوس کامیاب ہے جو تھوڑا سا فاصلہ کئی گھنٹوں میں طے کرے اور خلقِ خدا زیادہ سے زیادہ وقت کیلئے ہماری ایذا پرستی کا نشانہ بنی رہے۔ عید قربان سے کچھ روز پہلے میں نے موٹر سائیکل سوار کے پیچھے رسی سے بندھے بے بس اونٹ کو بھاگتے دیکھا میں نے سوچا اگر اس اونٹ کو زبان مل جائے تو وہ فریاد کرے کہ خدارا قصائی کو بلائیں اور ان ظالموں سے میری جان چھڑائیں۔ یہ بھی عام مشاہدے میں ہے کہ بڑی امپورٹڈ گاڑی سے اُترنے والا سوٹڈ بوٹڈ اور پرانی گاڑی کا سفید پوش سوار سکیورٹی گارڈ کے گاڑی صحیح طرح پارک کرنے کی درخواست پر ایک ہی طرح آگ بگولہ ہوتا ہے۔ میرے گناہگار کانوں نے ایک نمازی کو جسے مسجد کے باہر تعینات سکیورٹی گارڈ نے نمازیوں کے راستے کیلئے مختص جگہ پر کار پارک کرنے سے روکا، کہتے ہوئے سنا کہ خود تو کبھی نماز پڑھی نہیںاور مجھے روکنا چاہتے ہو۔
اناللہ واناالیہ راجعون
مسجد میں نمازیوں کے آگے سے گزرنا گناہ لیکن مسجد کو خالی چھوڑ کر دروازوں کے آگے نماز کی ادائیگی کرنا اُس سے بھی بڑا گناہ، بلا ضرورت ہارن بجانا بُرا لیکن بڑی سڑک پر لاپروائی سے موبائل فون پر بات کرتے ہوئے آہستہ آہستہ گاڑی چلاتے ہوئے پیچھے والے سواروں کا راستہ روک لینا اُس سے بھی بڑا گناہ، اور گناہِ عظیم رہائشی علاقوں کی چھوٹی چھوٹی گلیوں میں اندھا دھند گاڑی چلانا۔ سڑک پر موڑ مڑتے ہوئے بلا ضرورت اور بلا سوچے سمجھے لین تبدیل کرنا ہمارا معمول ہے۔ ہمارے سماجی رویوں کے انحطاط کی دردناک مثال ایک پوش علاتے میں قائم کلب کے باہر لگے بورڈ سے نظر آتی ہے۔ اس بورڈ پر لکھا ہے گھریلو ملازموں اور پالتو جانوروں کا داخلہ ممنوع ہے۔ لیکن کوئی حیرت نہیں ہو گی جب معلوم ہو کہ یہ بورڈ اس ملک کے ایک کلب کے باہر لگایا گیا ہے جہاں سب کی قیمت اور قدر ہے سوائے انسان کے۔ یہ وہ بدنصیب ملک ہے جہاں ہزاروں بے گناہوں کے قاتلوں کو معصوم اور شہید قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
معاشرہ مثالی بنانے کے لیے ہمیں اپنے حقوق اور دوسروں کے فرائض سے زیادہ اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہو گا۔ اچھے اور مثبت رویے اپنانے ہوں گے منفی رویوں سے اجتناب کرنا ہو گا۔ یاد رکھنا ہو گا کہ گالی اور تشدد کا کبھی بھی کوئی جواز نہیں ہوتا۔ہمارے اچھے اعمال ہی دوسروں کی تربیت کا بہترین ذریعہ ہوں گے۔