نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- برطرف ملازمین نےسپریم کورٹ سےرجوع کیاتوکچھ کوبحالی ملی،وکیل
  • بریکنگ :- جوآپ 2003 کےفیصلےمیں حاصل نہیں کرسکےوہ 2010 میں مل گیا،عدالت
  • بریکنگ :- جب سپریم کورٹ نےپہلےبحال نہیں کیاتواب کیاجوازہے؟جسٹس عمرعطا
Coronavirus Updates
"KSC" (space) message & send to 7575

حق وہی ہے جو ’’شریف‘‘ ہوتا ہے!

عدالتوں کی سربلندی کے ہم بھی قائل ہیں‘ ماضی کے داغ بھی مگر آج کے اجالے میں جانچنے پڑتے ہیں‘ کہ اب یہ قوم ایک اور مولوی مشتاق‘ ایک اور افتخار چوہدری کی متحمل ہو سکتی ہے بھلا؟
پرویز مشرف جب اقتدار میں آئے‘ تو اپنے ساتھ بتوں کا ایک صنم خانہ آباد کر لیا۔ ان آنکھوں نے ایک ٹیلیفون کال پر پیپلز پارٹی کو ٹوٹتے اور سیاست دانوں کے ایمان کو بکھرتے دیکھا ہے۔پنجاب میں پرویز مشرف کے باوردی دست راست نے پیپلز پارٹی کے چوٹی کے نظریاتی لیڈروں کو پرویز مشرف کے ساتھ محض ایک ٹیلی فون کال پر توڑ لیا۔ مشرف کے صنم خانے کا دوسرا سب سے اہم بت اس وقت کا چیف جسٹس افتخار چوہدری تھا کہ اگر انصاف کو کسی نے حکمران کے آگے سجدہ ریز ہوتے دیکھنا ہے تو وہ صرف افتخار چوہدری کی ذات میں کھو جائے۔ انصاف کا ایک ایسا زوال ہے جو رکتا ہی نہیں‘ پستی بھی ایسی کہ وہ منصف اس سے نکلتا ہی نہیں۔ عقل حیران ہے کہ ایک ایسا منصف اعلیٰ جس نے آئین کی دھجیاں اڑا دینے والے آمر کو قانونی لائسنس مہیا کیا‘فرد واحد کو دستور میں ترمیم کرنے کا حق دیا‘ باوردی صدر کو ملک کا جائز حکمران قراردیا‘ ایسے چیف جسٹس کو آرٹیکل 6 کے تحت لٹکا دینا چاہئے تھا مگر بد قسمتی دیکھیں کہ یہی شخص پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ن لیگ کی آنکھ کا تارا بنا۔ جس وقت پرویز مشرف اپنے لندن کے فلیٹ میں مجھے افتخار چوہدری کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کا احوال سنا رہے تھے‘ مجھے اعتزاز احسن کی دودھ کی وہ سبیلیں یاد آ رہی تھیں‘ جو پاکستان کی نام نہاد سول سوسائٹی نے انصاف کے ایک بت سے وابستہ کی ہوئی تھیں اور اس کو عدلیہ بحالی تحریک کا نام دیا گیا تھا۔ پرویز مشرف نے مجھے بتایاکہ حلف اٹھاتے ہی پہلے روز چیف جسٹس صاحب میرے پاس آئے اور فرمانے لگے: مشرف صاحب اب میں آ گیا ہوں آپ فکر کرنا چھوڑ دیں‘اپنے ہر فیصلے میں مجھے آپ اپنا دست راست ہی پائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اگر مشرف آمر تھا تو افتخار چوہدری اس آمریت کا ایسا بت تھا‘ جس نے انصاف کے طلبگار ان گنت سائلوںکو طاغوت کی طرف بہکائے رکھا۔ شریعت اور دنیا کا ہر قانون پرکھ کر دیکھ لیں‘ انصاف کے کعبے کو افتخار چوہدری کے بت سے پاک کرنا اس قوم پر قرض تھا... ایک ایسا قرض جو ادا نہ ہو سکا۔
نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلیت سے قبل پاکستان کی عدلیہ ن لیگ کے آنگن کا تارا تھی۔ وہ بجا طور پر عدلیہ کی بحالی کا سہرا اپنے سر باندھتے تھے مگر اب کیا کہیں‘ طاقت کی بھی اپنی ادائیں ہیں کہ اس کے چھن جانے سے حکمران سب سے پہلے تو بینائی سے محروم ہوتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ اس کی سماعت بھی چھن جاتی ہے مگر اصل تباہی اس کی تب آتی ہے جب اس کے حواس باختہ ہو جاتے ہیں اور وہ عقل کیخلاف بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے۔
دنیا میں سلطنتوں کا زوال دیکھئے کہ محمد شاہ رنگیلا نے دونوں ہاتھوں سے بابر اوراکبر کی عالی شان سلطنت کو ایسے گنوایا کہ آج اگر مغلیہ سلطنت کی عمارتوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو محض داستانیں ہیں بچوں کو سنانے کیلئے۔ نواز شریف ساری عمر جس عدلیہ کے سہارے کبھی اصغر خان کیس اور کبھی حدیبیہ کیس سے بچتے رہے‘ آج وہ (چمکدار)عدلیہ محمد شاہ رنگیلا کی طرح ماضی کا ایک افسانہ بن چکی ہے‘ جسے سن کر انسان محض گناہ بے لذت تو حاصل کرسکتا ہے اور کچھ نہیں۔ چلے گئے عدل کے وہ مینار‘ جن کی چھائوں تلے کرپشن کے سوتے پھوٹتے تھے‘ جو حکمرانوں کی ادائوں پر انصاف کو ایسے نچاتے تھے کہ تمیز کرنا مشکل ہو جائے کہ سرورِ عدل کی یہ محفل میخانوں میں جا لگی ہے یا ایوانوں میں۔
انسان اگر منزل شوق سے آگے نکل جائے تو شاہکار بن جاتا ہے۔ انصاف کے شاہکار کو ہم نے پاناما لیکس کے فیصلے میں بھی دیکھا ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ جیسے منصف طاقت کے مافیا کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر طاقت کے درجے سے اتاردیتے ہیں۔اترنے والا یا تواس مرتبے کا حق دار ہی نہیں تھا‘ یا پھر اگر منصب تک پہنچ بھی گیا تو اولوالعزم نہیں تھا۔ احتساب تو خیر بشمول میڈیا ہر شخص کا ہونا چاہیے کہ انصاف کے پیمانے دو ہو نہیں سکتے۔ خاکی کے تن پہ جو کپڑے بھی ہوتے ہیں‘ ان میں بُنا ہر ایک دھاگہ تن پہ لگتے ہی پکارتا ہے کہ خمیر حلال ہے یا حرام۔ حق ملکیت ثابت کرنے کیلئے بشر کو ڈیڑھ سے دو سال درکار نہیں کہ منی ٹریل کا خمیر اگر جائز ہو تو یہ قطر کے کسی امیر زادے کا خواب و خیال نہیں۔ نواز شریف صاحب کی نااہلیت اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ وفاق کی علامت ایک اور پارٹی موروثیت کی سرخیل ہونے کے ناطے وقت سے پہلے ہی تباہی کی طرف رواں دواں ہے۔ اخلاقیات کے مدارج طے کرنے سے اگریہ قوم قاصر ہے تو اس ملک میں حکمرانی کا وہی تسلسل رہے گا جو کم و بیش 1970ء سے قائم و دائم ہے۔
اقوام کی تاریخ اٹھا کے دیکھئے کہ عروج اس وجہ سے مقدر نہیں بنا کہ وہاں بسنے والا ہر شخص سچاتھا یا پھر سچا ہے۔ وہ اس لئے آگے نکل گئے کہ طاقت کے نشے میں چُور وہاں کا حاکم اگر ٹریفک کے قانون کی معمولی سی خلاف ورزی کرتا ہوا پکڑا جائے تو رات کے کئی پہر اسے حوالات میں ہی گزارنے پڑتے ہیں۔ جن تہذیبوں میں انصاف جھکتا نہیں‘ وہ انصاف کے پیشہ وروں کو اپنی جرأت اخلاق سے ہی تہس نہس کر دیتی ہیں۔ پاکستان جیسا معاشرہ جہاں آج بھی جھوٹ معاشرتی کامن سینس ہو‘ جہاں میڈیکل انٹری کے پرچے 20,20لاکھ میں بکتے ہوں‘ جہاں رمضان کے مہینے میں بھی ملاوٹ کا کاروبار پھلتا پھولتاہو‘ ایسے ملک کے حکمران بس فاسق ہی ہو سکتے ہیں۔
حق تو یہ ہے کہ انصاف کے ہر صنم خانے کو باطل کے ہر بت سے پاک کر دیں‘ مگر اب کیا کریں یہاں ایک جمود طاری ہے کہ جمہوریت کی بھی اپنی ایک مجبوری ہے۔
میاں محمد نواز شریف کی ساری سیاست اور خدمات ایک طرف اور ان کا عدلیہ پر بیانیہ دوسری طرف۔یہ بیانیہ اس ملک میں صرف اور صرف عام آدمی کی نظر وں میں عدالت عظمیٰ کی تضحیک کا سبب بن رہا ہے۔ ایک خطرناک روش ہے جو سابق وزیراعظم نے چنی ہے۔ آپ کی نااہلی کے بعد آپ کے نزدیک پاکستان کی کوئی عدالت ایسی نہیں جو انصاف کا سرچشمہ ثابت ہو۔ آپ کی صاحبزادی سپریم کورٹ کو تماشا گاہ سمجھتی ہیں جہاں ہر روز انصاف کا ایک تماشا لگتا ہے۔ جہاں پہلے سے لکھے لکھائے فیصلے پڑھے جاتے ہیں۔ جہاں مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کا ذریعہ بننے والا اقامہ شریف فیملی کے نزدیک نا اہلی کا جواز اس لئے نہیں ہو سکتا کیونکہ سچ اور جھوٹ کے درمیان اگر کسی ایک کو چننا پڑ جائے تو شریف فیملی نواز شریف کو صرف اس لئے چنے گی کہ اس کے نزدیک حق وہی ہے جو ''شریف‘‘ ہوتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں