پولٹری کاروبار اور معاشی مسائل

میں اکثر آپ کو پاکستان کے قرض‘ آمدن‘جی ڈی پی‘ ڈالرز‘ آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک‘ ایشین ڈویلپمنٹ بینک‘ سکوک بانڈز‘ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سمیت سینکڑوں ایشوز پر آگاہ کرتا رہتا ہوں‘ لیکن ایک معاملے نے کئی دنوں سے میری سوچ پر پنجے گاڑرکھے تھے اور میں اس پر لکھنا بھی چاہ رہا تھا لیکن ہر روز ایک نئی خبر آ جاتی ہے اور آپ کو اس بارے میں آ گاہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے مگر اس مرتبہ عید پر کچھ عجیب ہوا۔ میرا آفس بوائے کہنے لگا کہ پہلے اس کے گھر ہفتے میں ایک مرتبہ چکن پک جاتا تھا لیکن جب سے مرغی کی قیمت دو گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے اب مہینے میں ایک مرتبہ مرغی پکتی ہے۔ وہ ہر سال عید پر گھر میں بریانی بنا کر بہن بھائیوں کو دعوت پر بلاتا تھا لیکن اس مرتبہ پروگرام کینسل کر نا پڑاکیونکہ بجٹ اجازت نہیں دیتا تھا۔ اس کا مسئلہ وقتی طور پر تو میں نے حل کر دیا لیکن میں نے فیصلہ کیا کہ تحقیق کی جائے کہ اصل میں ذمہ دار کون ہے۔ آج کا کالم اسی حوالے سے ہے۔
پاکستان میں اشیا کی قیمتیں غیر ضروری طور پر بڑھنے سے روکنے کے لیے ایک ادارہ کام کرتا ہے جسےCompetition Commission of Pakistan کہتے ہیں۔ اس کا مخفف سی سی پی ہے۔ یہ ادارہ 2007ء میں پرویز مشرف نے قائم کیا تھا اور اس کا آغاز شاندار تھا۔ سب سے پہلے اس نے سیمنٹ انڈسڑی پر ہاتھ ڈالا‘ ان سے پہلی مرتبہ پوچھا گیا کہ وہ کس اصول اور حساب کے تحت سیمنٹ کی قیمتیں بڑھاتے ہیں‘ تسلی بخش جواب نہ ملنے پر ان کے خلاف کیسز درج کروائے گئے۔ اس کے بعد چینی اورفارماسیوٹیکل سمیت کئی شعبوں کے خلاف کارروائی شروع کی۔ پھر وہی ہوا جو پاکستان میں ہوتاہے۔ اس ادارے کے خلاف سٹے لے لیا گیا۔ پہلے سیمنٹ والوں نے سٹے لیا اس کے بعد چینی‘ فارماسیوٹیکل‘ آٹو موبیل‘ کنسٹرکشن سمیت درجن سے زائد سیکٹرز نے سٹے لیا جو اکتوبر 2020ء تک چلتا رہا۔ یعنی بارہ سال تک یہ ادارہ غیر فعال رہا۔ پچھلے سال بحالی کے بعد ادارے نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے مگر اس کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔
پولٹری سیکٹر میں تقریباً 700ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔پولٹری پیدا کرنے والے ممالک میں پاکستان گیارہویں نمبر پر آتا ہے لیکن مفاد پرستوں کی وجہ سے اب اس کاروبار کو چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔مرغی کی قیمتیں بڑھنے پرسی سی پی نے سوموٹو ایکشن لینے کا فیصلہ کیا اور دو ٹیمیں بنا کر لاہور اور راولپنڈی کے بڑے پولٹری فیڈ بنانے والوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ جب پولٹری فارمرز سے اس حوالے سے بات کی گئی تو وہ گلہ کرتے دکھائی دیے کہ فیڈ اتنی مہنگی ہو گئی ہے کہ سستی مرغی نہیں بیچ سکتے۔ یہ دعویٰ درست ثابت ہوا۔ جب پولٹری فیڈ بنانے والی کمپنیوں پر تحقیق کی تو ہوشربا انکشافات سامنے آئے۔2018ء سے 2020ء تک پولٹری فیڈ کی قیمتوں میں گیارہ مرتبہ اضافہ کیا گیا۔ پچاس کلو تھیلے کی قیمت میں 820 روپے اضافہ ہوا۔ ستمبر میں پی بی ایس کے مطابق فیڈکے تھیلوں میں 100 روپے فی تھیلا اضافہ ہوا جس سے چکن 18.31 فیصد اور انڈے 5.2 فیصد بڑھ گئے۔ اکتوبر میں لیئرکی قیمت میں 125 اور برائلر کی قیمت میں 175 روپے اضافہ ہوا جس کی وجہ سے چکن کی قیمت میں26.20 فیصد اور انڈوں کی قیمت میں 23.81فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح نومبر 2020ء میں فی بیگ 150 روپے کا اضافہ ہوا۔جس سے چکن کی قیمت میں 20.76 فیصد اورانڈوں میں پانچ 5.23 فیصد اضافہ ہوا۔اس کے بعد دسمبر 2020 ء میں فی بیگ کی قیمت 250 روپے بڑھ گئی جس سے چکن کی قیمت میں 3.21 فیصد اور انڈوں میں 14.1 فیصد اضافہ ہوا۔لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چکن کی قیمت بڑھنے کی وجہ توپولٹری فیڈ ہے لیکن پولٹری فیڈ کی قیمت بڑھنے کی وجہ کیا ہے؟ جب سی سی پی نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پولٹری فیڈ بنانے والی 19 کمپنیوں کا ایک واٹس ایپ گروپ بنا ہوا ہے‘ ایک ممبر نئی قیمت کا میسج کرتا ہے اور باقی تمام ممبرز اتنی ہی رقم سے فیڈ کی قیمت بڑھا دیتے ہیں جو کہ کمپی ٹیشن ایکٹ 2010ء کے سیکشن چار کے مطابق ایک جرم ہے۔ تمام کمپنیوں کے بزنس ماڈل مختلف ہیں‘ سامان کی خریداری مختلف ریٹ پر ہے‘ سٹاک اور پراسس کرنے کے عمل اور خرچ میں بھی فرق ہے تو پھر سب کمپنیاں ایک ہی وقت میں ایک ہی ریٹ سے اضافہ کس طرح کر سکتی ہیں؟ واٹس ایپ گروپ کے میسج اور قیمتیں بڑھنے کے درمیان واضع تعلق دکھائی دیتا ہے۔ اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ بھی تیار کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پولٹری فیڈ تیار کرنے کے لیے 55 سے 60 فیصد مکئی کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ تکنیکی اعتبار سے اس کا سب سے اہم خام مال ہے۔ اگر اس کی قیمت پر نظر دوڑائیں تو 2019ء میں اس کی قیمت سات فیصد کم ہو ئی اور 2021ء کے پہلے کوارٹر میں اس میں23 فیصد کمی آئی ہے۔ اس طرح پولٹری فیڈ کی قیمت کم ہونی چاہیے تھی۔ جب فیڈ پروڈیوسرز سے اس بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ مکئی کے علاوہ دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں جس کی وجہ سے فیڈ کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں لیکن تحقیقات ان دعوؤں سے متصادم دکھائی دیتی ہیں کیونکہ دیگر خام مال میں اضافہ کم شرح سے ہے۔ مکئی کی قیمت میں کمی اور دیگر خام مال کی قیمت میں اضافے کا خالص فرق نکالا جائے تو مکئی کی قیمت میں کمی کے باعث فیڈ کی قیمت کم ہونی چاہیے تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔ یہ سب حالات کے پیش نظر نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے۔ سی سی پی نے اسے جرم قرار دیا ہے اور پولٹری فیڈ بنانے والی کمپنیوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ تحقیقات ہوئی ہیں‘ واردات کے طریقہ کار کا علم ہو گیا ہے اور مجرموں کی نشاندہی بھی ہو گئی ہے لیکن مرغی کی قیمت ابھی تک کم نہیں ہوئی ۔ ماضی میں بھی ہم نے دیکھا کہ چینی کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی‘ تحقیقات ہوئیں‘ مقدمات درج ہوئے‘ مجرموں کی نشاندہی ہوئی لیکن چینی کی قیمت کم نہ ہو سکی بلکہ آج بھی بعض شہروں میں 120 روپے فی کلو بک رہی ہے اور یوٹیلیٹی سٹورز پر جو چینی ستر روپے کے ریٹ پر بیچی جارہی ہے وہ اس قدر ناقص ہے کہ عام چینی ایک چمچ سے جتنی مٹھاس پیدا کرتی ہے وہاں یوٹیلیٹی سٹور کی چینی کے دو چمچ ڈالنا پڑتے ہیں۔ خیر یہ دوسرا معاملہ ہے اصل مدعا تو یہ ہے کہ ایکشن کب ہو گا۔ آٹو موبیل سیکٹر کی مثال بھی ہماری سامنے ہے۔ جب ڈالر 170 روپے کا تھا تو گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ بتایا گیا کہ گاڑیوں کا سامان درآمد کیا جاتا ہے جس کی قیمت ڈالرز میں ادا کرنا ہوتی ہے اس لیے ڈالر کے بڑھنے سے گاڑیوں کی قیمت بڑھا رہے ہیں۔ اگر اسی اصول کو مدنظر رکھا جائے تو ڈالر کی قیمت کم ہونے سے گاڑیوں کی قیمت بھی کم کی جانی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پچھلے تین ماہ سے روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہو رہا ہے‘ ڈالر کی قیمت کم ہو رہی ہے لیکن گاڑیوں کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہیں۔ یہ کیوں بڑھ رہی ہیں‘ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سی سی پی نے اس حوالے سے بھی تحقیقات کی تھیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔کمیشن کی صلاحیت پر کوئی سوال نہیں ہے لیکن ایکشن نہ ہونے کی وجہ سے یہ ادارہ بھی مستقبل میں ایک بوجھ کی مانند ہو سکتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں