نئی ڈالر اور آٹو پالیسی کے ملکی معیشت پر اثرات

بزرگوں سے سن رکھا ہے کہ جب تک کتا کنویں میں سے نہ نکالا جائے‘ پانی صاف نہیں ہو سکتا۔ یعنی جب تک بنیادی وجوہ پر توجہ نہ دی جائے‘ مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ہمارے ہاں مسائل حل کرنے کے لیے رسمی کارروائی کرنے کا رواج عام ہے جس سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کام ہو رہا ہے اور مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے جا رہے ہیں۔ اکثر اوقات یہ محنت اصل مدعے سے توجہ ہٹانے کے لیے کی جا رہی ہوتی ہے۔تحریک انصاف کی معاشی پالیسی بھی اسی اصول کے تحت کام کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ملک کو درست معاشی سمت کی طرف گامزن کرنا، اسے صحیح راستے پر چلانا اور اس سے مثبت نتائج حاصل کرنا تحریک انصاف کا منشور رہا ہے۔ درست معاشی سمت کا تعین کرنے میں ڈالر کو بنیادی اہمیت حاصل ہے لیکن بدقسمتی سے موجودہ حکومت ساڑھے تین سالوں میں اسے کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایسی پالیسیاں بنائی جاتی رہی ہیں جن سے ڈالر مافیا پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا اور وہ طبقہ‘ جو صحیح معنوں میں کاروبار کرتا ہے‘ اس کے لیے مسائل پیدا ہوئے اور آج بھی وہ کرب میں مبتلاہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت سخت اصول و ضوابط طے کیے گئے ہیں‘ اینٹی منی لانڈرنگ قوانین بنا دیے گئے ہیں‘ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل درآمد کیا جارہا ہے‘ ڈالر کی خریدوفروخت کا نظام کافی حد تک شفاف ہو گیا ہے اور ایف آئی اے بھی عقاب کی نظر رکھے ہوئے ہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چوری روکنے کے نام پرقلعے کی دیواریں روز بروز مضبوط اور بلند کی جارہی ہیں لیکن چوری کا دروازہ بند نہیں کیا جا رہا ہے۔
سٹیٹ بینک نے پہلے پانچ سو ڈالر خریدنے کے لیے بائیومیٹرک اور شناختی کارڈ کی شرط لازمی قرار دی تھی۔ اس کے علاوہ منی ایکسچینج کرنے والوں کو پابند کیا کہ کیمروں کی نگرانی میں‘ اپنے آفس کے علاوہ کسی اور جگہ پر ڈالر کی خریدوفروخت نہ کریں۔ سرکار کا خیال تھا کہ اپنی شناخت ظاہر ہونے کے ڈر سے ڈالر کی طلب میں کمی واقع ہو گی لیکن نتائج اس کے برعکس نکلے ہیں۔ ڈالر کی فروخت میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ یہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اب سرکار نے ڈالر کے لین دین پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ کوئی پاکستانی یومیہ دس ہزار اور سالانہ ایک لاکھ سے زیادہ ڈالرز نہیں خرید سکتا۔ صحت اور تعلیم جیسے مقاصد کے لیے ڈالر خریدنے کی سالانہ حد ستر ہزار رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار ڈالر کی خریدوفروخت کے لیے وجہ بتانا اور لیٹر ہیڈ لگانے کی شرط رکھی گئی ہے۔اس طرح کے اقدامات کاروباری طبقے کے لیے مسائل پیدا کرنے کے مترادف ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ان اقدامات سے ڈالر کی قیمت میں کمی واقع ہو سکتی ہے؟ اگر یہ طریقہ اتنا ہی مؤثر ہے تو ماضی میں بننے والے نئے اصول و ضوابط سے ڈالر کی قیمت کم کیوں نہ ہو سکی۔ دراصل حقیقی وجوہات کی طرف توجہ نہیں دی جارہی۔
اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہنڈی حوالہ کا کاروبار ہے۔ آج غیر قانونی طریقے سے ڈالر ملک سے باہر بھیجنا یا ملک میں منگوانا آسان ہو چکا ہے۔ بظاہر پانچ سو ڈالر شناختی کارڈ اور انگوٹھوں کے نشان کے بغیر خریدے نہیں جا سکتے لیکن حقیقت میں آپ پانچ سو سے لے کر پچاس لاکھ ڈالرز تک‘ بغیر شناختی کارڈ کے حاصل کرسکتے ہیں البتہ اس کا ریٹ مارکیٹ سے زیادہ ہو گا۔ اگر ڈالر 181 روپے میں مل رہا ہے تو بغیر شناختی کارڈ کے یہ 189 روپے میں ملے گا اور اس کی ڈِلیوری بھی منی ایکسچینج دفاتر کے بجائے آپ کے گھر پر یا کسی اور مقام پر کی جائے گی۔ اس دھندے میں مبینہ طور پر منی ایکسچینج کرنے والے، بینک اور درآمدکندگان شامل ہیں‘ درآمدات کرنے والے عام کاروباری لوگ ہیں۔ اگر سٹیٹ بینک کی طے شدہ حد سے زیادہ ڈالرز باہر بھجوانے ہوں تو ہنڈی کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن نہیں بچتا۔ کم ریٹ ظاہر کر کے کنٹینر منگوائے اور کلیئر کروائے جاتے ہیں۔ بینکنگ چینلز کے ذریعے بھجوائے گئے ڈالرز کاغذات کے مطابق ہوتے ہیں‘ بقیہ ڈالرز ہنڈی کے ذریعے بذریعہ افغانستان پہلے دبئی اور پھر مطلوبہ ملک میں بھجوا دیے جاتے ہیں۔ دبئی کا ذکر ہوا تو تازہ خبر بھی آپ کے ساتھ شیئر کرتا چلوں؛ پاکستان میں آن لائن کاروبار یا فری لانسنگ سے ڈالرز کمانے والے پاکستانی ڈالرز پاکستان منگوانے کے بجائے دبئی سے ہی کیش کروا رہے ہیں اور وہاں سے کیش ہنڈی کے ذریعے پاکستان بھجوا رہے ہیں کیونکہ اس وقت دبئی سے ڈالرز کیش کروانے میں انہیں فائدہ ہو رہا ہے۔ جو ڈالر پاکستان میں 180 روپے کا فروخت ہوتا ہے‘ اسی ایک ڈالر کے بدلے دبئی میں 187 پاکستانی روپے مل جاتے ہیں۔ بیرونِ ملک آمدن سے بینک کے ذریعے ایک فیصد ٹیکس کٹوتی نہیں ہوتی اور معاملات سرکار کی نظروں سے بھی اوجھل رہتے ہیں۔ اس سب کا نقصان پاکستانی معیشت کو ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی کرنسی افغانستان سمگل ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ پاکستان سے ڈالر خریدنے کے لیے افغان کرنسی استعمال نہیں کی جا سکتی‘ اس لیے پہلے پاکستانی کرنسی افغانستان سمگل کی جاتی ہے‘ وہاں پر افغان شہری پاکستانی روپیہ خریدتے ہیں اور بارڈر کے راستے پاکستان لا کر ڈالرز خریدے جاتے ہیں جو انہیں شناختی کارڈ کی شرط کے بغیر بآسانی دستیاب ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سرکار کی ناک نیچے اربوں ڈالرز کی ہنڈی کا کاروبار چل رہا ہو اور مشیرِ خزانہ کو علم نہ ہو۔ اگر ایک عام پاکستانی ہنڈی سے منسلک اداروں، جگہوں اور دفاتر کو جانتا ہے تو سرکار کا خود کواس سے لا علم قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔
اب ایک نظر آٹو انڈسٹری پر ڈال لیتے ہیں۔ آٹو موٹیو ڈویلپمنٹ پالیسی 2016تا 2021ء ایکسپائر ہو چکی ہے۔ سرکار نے 2021 سے 2026 کے لیے نئی آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی منظور کی ہے جس کے مطابق کارساز کمپنیاں آئندہ سال دو فیصد‘ 2024ء تک چار فیصد اور 2025ء تک سات فیصد گاڑیاں برآمد کرنے کی پابند ہوں گی۔ یہ اہداف پڑھنے، سننے اور بولنے میں اچھے محسوس ہوتے ہیں لیکن اصل سوال یہ ہے کہ انہیں حاصل کیسے کیا جا سکے گا۔ پاکستان میں گاڑیاں بنانے کی صنعت درآمدات سے منسلک ہے‘ گاڑیوں کے سپیئر پارٹس منگوا کر یہاں انہیں محض جوڑا جاتا ہے۔ ابھی تک پاکستان اچھی گاڑیاں بنانے کے حوالے سے خودمختار نہیں ہو سکا۔ ایسی صورتحال میں برآمدات کرنا کیسے ممکن ہو سکے گا؟ دوسری طرف سٹیٹ بینک نے اس عرصے میں شرحِ سود میں تقریباً پونے تین فیصد اضافہ کر دیا ہے جس کے باعث گاڑیوں کی فروخت میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ گاڑیاں برآمد کرنے کے لیے انڈسٹری میں توسیع کی ضرورت ہے۔ بڑھتی ہوئی شرحِ سود کے پیش نظر کار کمپنیوں کے کاروبار میں پھیلاؤ مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ آٹو انڈسڑی شرحِ سود میں اضافے سے براہِ راست متاثر ہونے والی صنعتوں میں شامل ہے۔ پچھلے مہینے گاڑیوں کی فروخت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق بینکوں سے گاڑیوں کی لیز میں تقریباً چالیس فیصد کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اون منی کو ختم کرنے کے لیے حکومت مزید سخت اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو بے سود دکھائی دیتے ہیں کیونکہ حکومتی اقدامات گاڑیوں پر اون منی کو سپورٹ کرنے کے مترادف ہیں۔ ماضی کے قوانین کے مطابق ایک شخص ایک شناختی کارڈ پر ایک سال میں صرف ایک گاڑی بُک کروا سکتا تھا۔ سرکار نے یہ قانون ختم کردیا۔ اب ایک سال میں تقریباً دس کروڑ روپے تک کی گاڑیاں ایک ہی شناختی کارڈ پر بُک کرائی جا سکتی ہیں جس کے باعث اون منی کا کاروبار بڑھ رہا ہے۔ ممکنہ طور پر اس کاروبار میں سیاستدانوں اور بیوروکریٹس سمیت بعض ادارے بھی ملوث ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کئی اعلانات اور دعووں کے باوجود اون منی کا کاروبار کم نہیں ہو رہا بلکہ مزید بڑھ رہا ہے۔سرکار سے گزارش ہے کہ مکھی پر مکھی مارنے کے بجائے نتائج دینے والی ایسی پالیسیاں بنائے جس سے مافیاز کے بجائے ملک اور عوام کو فائدہ ہو۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں