بجلی کی قیمتیں، ادھار پیٹرولیم اور گورنرسٹیٹ بینک کی تنخواہ

حکومت نے 343 ارب روپے کا منی بجٹ منظور کروانے کے بعد بجلی کی قیمتوں میں 3 روپے 9پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے تا کہ 30 ارب کا اضافی بوجھ صارفین پر ڈال کر 2 کھرب 48 ارب روپوں کے گردشی قرضوں میں کمی لائی جا سکے۔ اس پالیسی کے تحت گردشی قرضوں کے بڑھنے کا راستہ روکنا اور انہیں کم کرنے میں کامیابی ملنا مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ سٹریٹیجی اور پالیسی میں تبدیلی نہیں آ رہی۔ اگر گردشی قرضوں کے حوالے سے تحریک انصاف کے 3 سال پانچ ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو نتائج زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ اگست 2018ء میں گردشی قرضے 1 کھرب 14 ارب روپے تھے جو جنوری 2022ء میں بڑھ کر 2 کھرب 48 ارب روپے تک پہنچ چکے تھے۔ یہ اضافہ 100 فیصد سے بھی زیادہ ہے جبکہ انہیں کم کرنے کے نام پر بجلی کی قیمتوں میں دو سوفیصد سے زیادہ اضافہ کیا جا چکا ہے۔ آنے والے دن بھی ماضی سے مختلف دکھائی نہیں دیتے کیونکہ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے علاوہ دوسری کوئی پالیسی موجود نہیں ہے۔ اسی ہفتے کابینہ نے بجلی کی بلوں کی ذریعے 292 ارب روپوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کا فیصلہ کیا جو جون 2022 ء تک بتدریج وصول کیے جائیں گے۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ یہاں رکے گا نہیں بلکہ جولائی 2022ء میں بجلی 2 روپے 71 پیسے مزید مہنگی کر دی جائے گی۔ حکومت کے مطابق اس فیصلے سے جون 2022ء کے بعد بھی تقریباً 206 ارب روپے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں اور گردشی قرضے مزید کم ہو سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس فیصلے سے عارضی طور پر گردشی قرضے نیچے لائے جا سکتے ہیں لیکن یہ اتنی ہی تیزی سے واپس بڑھ جائیں گے کیونکہ مسئلے کی اصل جڑ پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ بجلی چوری نہیں روکی جا رہی۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اپنے اہداف حاصل نہیں کرپا رہیں لیکن حکومت تصویر کے اس رخ کی جانب دیکھنے سے گریزاں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تقسیم کار کمپنیوں کے احتساب اور ان کی کارکردگی بہتر بنائے بغیر بجلی کی چوری نہیں روکی جا سکتی۔ اس کے بغیر جو مرضی کر لیں‘ گردشی قرضے کم نہیں ہوں گے اور چوری ہونے والی بجلی کی قیمت عام سادہ لوح عوام کو ہی ادا کرنا ہو گی۔
حکومت کے اپنے دیے گئے اعدادوشمار کے مطابق سرکار نے مالی سال 2020-21ء کی پہلی ششماہی میں 357 ارب روپے گردشی قرضوں کی نذر کر دیے جن میں سے 100 ارب سے زیادہ پالیسی بنانے اور لاگو کرنے میں تاخیر کی وجہ سے ادا کرنا پڑے۔ 67 ارب روپے آئی پی پیز کو تاخیری ادائیگیوں کی وجہ سے سود ادا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کی وجہ سے بھی 45 ارب روپے اضافہ ہوا جو تشویش ناک ہے۔ حکومت رپورٹ جاری کرکے اس طرح مطمئن دکھائی دے رہی ہے کہ جیسے اس کی ذمہ داری پوری ہو گئی ہو‘ حالانکہ حکومتوں کا کام صرف رپورٹس دینا نہیں بلکہ ان رپورٹس کی بنیاد پر ماضی میں ہونے والی غلطیوں سے سبق سیکھنا اور مستقبل میں ان سے بچنے کے لیے نظام تشکیل دینا ہے۔ سرکار شاید اس لیے غیر سنجیدہ ہے کہ اضافی بوجھ عوام نے ادا کرنا ہے۔ سیاستدان، بیورو کریٹس اور سرکاری افسران نے یہ بلز اپنی جیب سے ادا نہیں کرنے بلکہ ان کے بلز بھی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ادا ہوتے ہیں۔
گورنر سٹیٹ بینک کی تنخواہوں اور مراعات کے بارے میں وزارتِ خزانہ نے جو اعدادوشمار اسمبلی میں پیش کیے ہیں‘ ان کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک کی ماہانہ تنخواہ 25 لاکھ روپے ہے۔ دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں۔ ماضی میں سٹیٹ بینک کے گورنرز کی تنخواہ کیا رہی‘ اس حوالے سے وزارتِ خزانہ تفصیلات دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے لیکن جب میں نے سابق گورنر سٹیٹ بینک عشرت حسین صاحب سے استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ 1999ء سے 2005ء تک ان کی تنخواہ 60 ہزار روپے ماہانہ تھی جس میں چھ سال تک کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اگر ڈالر کے ریٹ کے مطابق دیکھا جائے تو اس وقت ایک ڈالر 60 روپے کا تھا اور آج اس کی قیمت تقریباً 200 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ اس حساب سے فروری 2021ء میں یہ تنخواہ کم و بیش 1 لاکھ 80 ہزار روپے ماہانہ بنتی ہے۔
ایک اور سابق گورنر سٹیٹ بینک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کی تنخواہ 8 لاکھ 50 ہزار روپے تھی لیکن انہیں اس طرح کی مراعات نہیں ملتی تھیں۔ ذرائع کے مطابق رضا باقر سے پہلے گورنر طارق باجوہ کی تنخواہ اور مراعات بھی بہت کم تھیں۔ واضح رہے کہ نئے قانون کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک جب چاہے اپنی تنخواہ بڑھا سکتا ہے۔ اس حوالے سے ظفر پراچہ صاحب کی رائے مختلف ہے۔ ان کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک کی تنخواہ نجی بینکوں کے صدور کی نسبت اب بھی بہت کم ہے‘ اس میں مزید اضافہ ہونا چاہیے۔ ظفر صاحب کی رائے محترم ہے لیکن یہ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ ان کے ٹیکس کے پیسوں سے 25 لاکھ ماہانہ تنخواہ درست ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت مہنگائی 13فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، شرحِ سود پونے دس فیصد ہے اور ڈالر 176 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ان حالات کے پیشِ نظر عوامی سطح پر یہ رائے تقویت اختیار کرتی جارہی ہے کہ حکومت شاید بے بس ہو چکی ہے۔
یکم فروری کوحکومت نے تیل کی قیمتیں نہیں بڑھائیں‘ اس اقدام کو عوامی سطح پر مثبت نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے لیکن حالات کے پیش نظر اس میں زیادہ خوشی والی کوئی بات نہیں ہے۔ فی الحال پٹرول پر سوا 16 فیصد اور ڈیزل پرتقریباً پونے14فیصد سیلز ٹیکس کم کیا گیا ہے اور پٹرولیم لیوی کو بڑھایا نہیں گیا جو آئی ایم ایف کی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔ ماضی میں سرکار اسی طرح سیلز ٹیکس کم کر کے عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ کرتی رہی ہے لیکن بعد ازاں آئی ایم ایف کے دبائو میں آکر قیمتیں بڑھانا پڑیں۔ موجودہ حالات بھی اسی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ممکنہ طور پر 15فروری کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںیکمشت زیادہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت اسے ٹالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ اسے ایک ماہ سے زیادہ برداشت نہیں کر سکے گی۔ بعض حکومتی حلقے یہ دعویٰ کرتے بھی دکھائی دے رہے ہیں کہ پاکستان کو معاہدے کے مطابق‘ مارچ 2022ء میں سعودی عرب سے ادھار تیل ملنا شروع ہو جائے گاجس سے پاکستان میں تیل کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔ یہ دعویٰ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے کیونکہ سعودی عرب تیل ادھار دے رہا ہے‘ سستا نہیں بلکہ اس پر تقریباً 4فیصد سود بھی دیا جائے گا۔ حساب کتاب میں یہ تیل معمول کے مطابق ملنے والے تیل سے مہنگا پڑے گا۔ اس کے علاوہ تیل ادھار ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے پر عمل درآمد رک جائے گا۔وہ معاہدہ اپنی جگہ قائم ہے۔ فی الحال حکومت آئی ایم ایف کی جانب سے قسط منظور ہونے اور پاکستان کا آئی ایم ایف پروگرام معطل نہ کرنے کے فیصلے کاعارضی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے‘ جس میں وہ شاید زیادہ کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ بجلی کی قیمتیں،گورنر سٹیٹ بینک کے اختیارات و مراعات اور پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے سامنے آنے والے حقائق یہ پیغام دے رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں کوئی انقلاب نہیں آنے والا۔ پی ٹی آئی حکومت کا باقی ماندہ ڈیڑھ سال بھی اسی طرح پورا کرے گی اور آنے والے دن عوام کے لیے مزید مشکل ثابت ہوں گے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں