وزیر اعظم کی تقریر اور حکومت کی معاشی پالیسیاں

اقتدار کے ایوانوں سے لے کر گھروں کے ڈرائنگ رومز تک عمران خان صاحب کی حالیہ تقریر زیر بحث ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ لیٹر سکینڈل آنے والے دنوں میں ملکی سیاست میں اہم اور نئے موڑ لا سکتا ہے۔ بظاہر یہ خفیہ دستاویز ہے لیکن جس کثرت سے اسے موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے ایسا لگتا ہے کہ اب یہ خفیہ معاملہ نہیں رہا۔ خاص طور پر عمران خان صاحب کی آٹھ اپریل کی تقریر میں اس کے کئی پہلو سامنے لائے گئے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ دانستہ طور پر کیا گیا یا انجانے میں' اہم معلومات‘ کا ذکر کردیا گیا؟ میرے خیال میں یہ سب سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا کیونکہ وزیراعظم کی تقریر ریکارڈ کی گئی تھی‘ اسے ایڈٹ کیا گیا تھا اور پھر چلایا گیا یعنی وہ براہ راست عوام تک نہیں پہنچی بلکہ وزیراعظم سے منظور ہونے کے بعد آن ایئر کی گئی۔ عمران خان کا بطور وزیراعظم 42 ماہ کا کیرئیر صاف اور شفاف گزرا لیکن جاتے ہوئے اسمبلیاں توڑنے اور سیکرٹ معلومات ڈھکے چھپے الفاظ میں سامنے لانے سے کئی سوالات پیدا ہو گئے ہیں ۔ اپوزیشن اسے مسئلہ بنا کر قانونی کارروائی کر سکتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مشیروں نے آخری دنوں میں منصوبہ بندی کے ساتھ غیر مقبول اور آئین سے متصادم فیصلے کروائے ہیں جنہیں موجودہ اپوزیشن مستقبل میں انتقام کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ ذہن نشین رہے کہ پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے فیصلے کے خلاف (ن) لیگ نے عدالتوں کا رخ کیا تھا اور عدالت نے پرویز مشرف کو سزا سنا دی تھی۔ ان ایشوز کو معمولی مت سمجھا جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی قصوری قتل کیس کو معمولی سمجھا تھا لیکن وہی کیس ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ اس وقت ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانے کی
ضرورت ہے۔فی الحال وزیراعظم صاحب نے آج رات احتجاجی جلسے کی کال دے رکھی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے؟ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے وہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کوڈرا دیں گے تو یقینا یہ بڑی غلط فہمی کی بات ہے ۔ ان کی شہرت ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ نہیں ۔ ان کے جلسے بھٹو کے جلسوں کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں‘ مگر بھٹو صاحب کے ساتھ جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ طاقت کی سیاست میں ایوان کے اندر نمبرز اہم ہوتے ہیں‘ سڑکوں پر جلسے نہیں۔ مبینہ طور پرخان صاحب کی پارٹی کے مزید تیس لوگوں کا فارورڈ بلاک بن چکا ہے۔ ان کی کیبنٹ کے وزیروں کے بارے بھی کہا جارہا ہے کہ اپوزیشن سے رابطے میں ہیں اور جانے کے لیے درخواستیں جمع کروا چکے ہیں۔ عدالتی فیصلے‘ مقتدرہ کے بیانات اور میڈیا کے رویے سب ان کے خلاف دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ وقت آگے بڑھ کر لڑنے کا نہیں بلکہ رک جانے یا دو قدم پیچھے ہٹنے کا ہے۔ جب آندھی آ جائے تو بہادری یہی ہوتی ہے کہ کچھ دیر کے لیے رک جایا جائے۔ اسی میں سمجھداری ہے۔
نئی حکومت فوری الیکشن کروانے کے لیے راضی دکھائی نہیں دے رہی۔بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی مقبولیت کو کم کرنے کی کوشش کر ے گی اور اسی وقت الیکشنز میں جانے کا فیصلہ کریں گے جب وہ حالات اپنے لیے موافق سمجھیں گے ۔ اس میں چھ ماہ لگتے ہیں یا ڈیڑھ سال میں یہ مقصد حاصل ہوتا ہے‘ اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ فی الحال غلط فیصلے کر کے مزید مسائل پیدا نہ کریں بلکہ سیاسی سپرٹ کا مظاہرہ کریں۔خبروں میں بتایا جارہا تھا کہ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد پر ووٹنگ کو دو تین دن تک ٹالنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے‘ لمبی تقریریں کر کے وقت ضائع کیا جائے گا جو کہ افسوسناک ہے۔ تحریک عدم اعتماد کو ایجنڈے میں چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پروسیجرز میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ سپیکر مزید تین دن تک عدم اعتماد کو لٹکا سکتے ہیں‘لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے کیا حاصل ہو گا؟ کیا عدم اعتماد ناکام ہو جائے گا یا سپریم کورٹ کے فیصلے بدل جائیںگے؟ سبھی جانتے ہیں کہ ایسا کچھ بھی ہونے والا نہیں۔ تین دن بعد بھی حالات یہی ہوں گے جو آج ہیں۔
اگر ہم حقائق پر نظر ڈالیں تو وزیراعظم کے اسمبلیاں توڑنے کے فیصلے نے معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ تین دنوں میں ڈالر تقریباً آٹھ روپے بڑھ گیا۔سٹاک ایکسچینج ایک دن میں آٹھ سو پوائنٹس نیچے گر گئی۔ عوامی
جذبات بھی خلاف دکھائی دے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے پر سٹاک ایکسچینج میں شاندار کاروبار ہوا۔ ڈالر ایک دن میں اڑھائی روپے نیچے آ گیا اور کاروباری طبقے نے بھی سکون کا سانس لیا۔ اگریہ بات درست مان بھی لی جائے کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے پیچھے کوئی بیرونی سازش ہے تو یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں اپنی بات صرف وہی منوا پاتے ہیں جن کی بنیادی ضرورتیں پوری ہو رہی ہوں۔ پاکستانی عوام کا نظریہ تو روٹی‘ کپڑا اور مکان ہے جبکہ ملکی قرضوں کا 70 فیصد امریکہ کے مرہون منت ہے۔ اگر کوئی ہمیں مالی بحران سے نکالنے کا وعدہ کر رہا ہے تو یہ خوش آئند ہے۔ اس صورتحال کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے کیونکہ پہلے بھی ہم نے انا کی بہت قیمت ادا کی ہے۔حالیہ معاشی ابتر صورتحال میں سٹیٹ بینک نے شرح سود میں اڑھائی فیصد اضافہ کر دیا۔ ملک میں آج تک سب سے زیادہ شرح سود اکتوبر 1996ء میں 19 فیصد اور سب سے کم مئی 2016ء میں پونے چھ فیصد رہی۔اس وقت ملک میں شرح سود 12.25 فیصد ہے جو کہ تشویش ناک ہے۔ سٹیٹ بینک کا اجلاس19 اپریل کو شیڈول تھا لیکن ملک میں سیاسی عدم استحکام کے باعث ہنگامی اجلاس سات اپریل کو بلایا گیا۔ صرف ایک دن میں روپے کی قیمت پانچ فیصد کم ہوئی ۔ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر ایک ہفتے میں 728 ملین ڈالرز کم ہو کر تقریباً 11 ارب 30 کروڑ ڈالرز رہ گئے ہیں۔ بینکوں کے ذخائر ملا لیے جائیں تو تقریبا ً17 ارب 40 کروڑ ڈالرز بنتے ہیں جبکہ چھ ماہ قبل زرمبادلہ کے ذخائر تقریبا ً27 ارب ڈالرز تک بڑھ گئے تھے لیکن درآمدات کی
کمزور پالیسیز کے باعث ڈالرز کی مقدار کم ہوئی ہے۔ زیادہ پریشانی کا معاملہ یہ ہے کہ 11ارب 30 کروڑ ڈالرز میں سے سعودی عرب کے تین ارب ڈالرز اور چین کے تقریبا ً4 ارب ڈالرز استعمال کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ درآمدات بڑھنے کے علاوہ قرضوں کی ادائیگی اور مائننگ منصوبے سے متعلق آربریٹریشن ایوارڈ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ بنے۔ اطلاعات کے مطابق ممکنہ نئی حکومت نے معاشی اصلاحاتی بجٹ بھی تیار کر لیا ہے اور اسے منظوری کے لیے پیش بھی کر دیا گیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی تک مفتاح اسماعیل وزارت ِخزانہ سنبھالیں گے۔ ان کے منصوبے میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کم کرنا ترجیح ہے۔ جی ڈی پی کا ہدف چھ فیصد رکھا گیا ہے۔ بجلی کے ریٹ کم کرنے کا منصوبہ بھی بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ ماضی میں آئی ایم ایف اور اسحاق ڈار کے درمیان اچھا تعلقِ کار رہا ہے۔ ان کے دور میں آئی ایم ایف پروگرام کو وقت پر احسن طریقے سے مکمل کیا گیا تھا جبکہ حالیہ دور میں ساری شرائط آئی ایم ایف کی مانی گئیں اور پروگرام بھی مکمل نہیں ہوسکا۔ اس کے علاوہ تقریبا ًتمام ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات خراب کر لیے گئے ہیں جنہیں بحال کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں انا کے مسائل جلد حل ہو سکیں گے اور ملک کو انقلابی دعوے کرنے والوں کی بجائے ایک کامیاب معیشت دان نصیب ہو سکے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں