سیاست اور پٹرول کی قیمتوں کے معاشی اثرات

بزرگوں سے سن رکھا ہے کہ سیاست عبادت ہے لیکن آج کل کی سیاسی صورتحال کے مطابق اس دعوے پر یقین کم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ شاید ہمارے موجودہ سیاستدان وہ کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں رہے جسے عبادت سے تشبیہ دی جا سکے۔ ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور چور‘ ڈاکو‘ لٹیرے جیسے القابات کے دو طرفہ مسلسل استعمال سے معاشرے میں ایک ایسی نسل پروان چڑھتی دکھائی دے رہی ہے جو الزامات لگانے اور دوسروں کو لعن طعن کرنے کو ہی سیاست سمجھنے لگی ہے۔ جو کہ افسوس ناک ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئی نسل کی درست تربیت کیسے ممکن ہے۔ کیا ملک پاکستان کے پاس ایسی سیاسی قیادت موجود ہے جسے مثالی کہا جا سکے۔ کیا پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ موجود ہے جو نئی نسل کو یہ تربیت دے سکے کہ اچھا سیاستدان کسے کہتے ہیں۔ کیا ہمارا تعلیمی نظام یہ پڑھاتا اور سکھاتا ہے کہ ہمیں ووٹ دیتے وقت کن خوبیوں اور خامیوں کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ شاید اہلِ اقتدار کے لیے یہ موضوع اہم نہیں ہے۔ ممکنہ طور پر عوامی سطح پر صحیح اور غلط کا شعور آ جانا سیاستدانوں کے لیے شاید زیادہ اچھی خبر نہیں ہوتی۔ اس لیے سیاسی تربیت کے سکول اور کالجز بنانے پر توجہ نہیں دی جا سکی۔ اگر حالات کا درست جائزہ لیا جائے تو شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ تھانے اور کچہری کے معاملات میں مہارت رکھنے والے طبقے کو سیاست کے لیے زیادہ اہل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سیاست کی کتابوں میں سیاستدان کی تعریف مختلف ہے۔ سیاست شاید نظریے کے گرد گھومتی ہے۔ اس کا مقصد طاقت کے حصول سے زیادہ عوام کی خدمت کرنا ہوتا ہے۔ یہ ایک مقدس پیشہ ہے جس میں مخالفین کو چور‘ ڈاکو اور غدار پکارنے کے بجائے ان کی تربیت کرنے کا تصور موجود ہے تا کہ ایک ایسا معاشرہ قائم ہو سکے جس میں انسان ایک دوسرے کا مددگار ہو۔ جو نفرت کو کم کر سکے اور محبت بانٹنے کا باعث بنے۔ ملک پاکستان میں ایسا معاشرہ کب قائم ہو گا‘ اس بارے میں کوئی دعویٰ کرنا شاید مناسب نہیں ہے۔ فی الحال آج الیکشن کے نتائج آنے کے بعد دھاندلی‘ میر جعفر‘ میر صادق اور نیوٹرل کے نام لے کر الزامات لگانے کے خدشات موجود ہیں۔ الیکشن کے نتائج کچھ بھی ہوں لیکن دھاندلی ہونے کا جس طرح پہلے سے ہی شور مچایا جا رہا ہے‘ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ پارٹیوں کو معلوم ہے کہ وہ شاید الیکشن نہیں جیت سکتیں۔ الیکشن کا کیا نتیجہ آتا ہے اس بارے میں آج رات تک علم ہو جائے گا‘ فی الحال میں سرکار کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے کچھ گزارشات کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
ایک فلم میں راجیش کھنا منتری کا کردار ادا کر رہے تھے۔ نان بائیوں کا ایک وفد راجیش کھنا کے پاس آیا اور عرض کی کہ وہ روٹی کی قیمت تین روپے بڑھانا چاہتے ہیں۔ راجیش کھنا نے کہا کہ تم قیمت پانچ روپے بڑھا دو۔ سیکرٹری نے کہا کہ منتری جی عوام ہمیں جوتیاں ماریں گے۔ اس پر راجیش کھنا نے جواب دیا کہ عوام کی نظر میں مسیحا بننے کے لیے چند دنوں میں روٹی کی قیمت دو روپے کم کر دیں گے۔ فلم کے اس سین کو حکومتِ پاکستان کے پٹرول کی قیمتیں 100روپے سے زیادہ بڑھانے اور الیکشن سے دو روز پہلے اسے 18روپے کم کرنے کے فیصلے سے جوڑ کر دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر یہ رائے تقویت اختیار کرتی جا رہی ہے کہ یہ ایک سیاسی چال اور عارضی ریلیف ہے۔ الیکشنز کے بعد پٹرول کی قیمت دوبارہ بڑھنے کے قوی امکانات ہیں۔ اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے میں نے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر شبر زیدی سے گفتگو کی تو انہوں نے بتایا کہ عمومی طور پر عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کے تقریباً دو ماہ بعد عوام کو ریلیف دیا جاتا ہے۔ کیونکہ آج کے دن میں خریدے گئے تیل کی ادائیگی تقریباً دو ماہ بعد کی جاتی ہے۔ حکومت کا عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے چند دن بعد ہی عوام کو ریلیف منتقل کرنا تکنیکی اعتبار سے غلط فیصلہ ہو سکتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ تیز ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بڑھ بھی رہی ہیں اور کم بھی ہو رہی ہیں۔ لہٰذا قیمتیں کم کرنے کا فیصلہ اتنا جلدی کرنا مزید مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ حکومت کو الیکشنز کے بعد تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنا پڑے۔ اگر سرکار نے عالمی مارکیٹ کی قیمتوں میں کمی کو بنیاد پر بنا کر تیل کی قیمتوں میں کمی کی ہوتی تو ممکنہ طور پر یہ 18روپے فی لیٹر سے کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 139ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر تقریباً 99 ڈالر فی بیرل تک آئی ہیں۔ جس کے مطابق ریلیف کی رقم کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ شاید حکومت کی دلچسپی عوام کو ریلیف دینے کے بجائے سیاسی پوائنٹس سکورنگ کی طرف زیادہ ہے۔ شبر زیدی صاحب کی رائے کافی حد تک درست معلوم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر پہلوؤں پر بھی نظر ڈالے جانے کی ضرورت ہے۔
عوام کو کسی بھی قیمت پر ریلیف دینا وقت کی اہم ضرورت معلوم ہوتا ہے۔ لیکن شاید تیل کی قیمتیں کم ہونے سے عوام کی معاشی صورتحال پر زیادہ فرق نہ پڑ سکے۔ کیونکہ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں جو اضافہ ہوا تھا اس کے کم ہونے کے زیادہ امکانات دکھائی نہیں دے رہے۔ بسوں کے کرائے‘ آٹا‘ دال‘ چاول اور گھی کی قیمتیں کم ہونے کی توقع انتہائی کم ہے۔ ماضی کے تجربات کے مطابق قیمتیں کم ہونے کی امید کرنا عبث ہے۔ کیونکہ مبینہ طور پر پرائس کنٹرول کمیٹیاں تقریباً غیر فعال ہیں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ کسی نہ کسی بہانے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ گیس کی قیمتیں 235 فیصد تک بڑھا دی گئی ہیں اور ابھی بجلی کی قیمتیں مزید بڑھائے جانے کی تیاری ہے۔ دوسری طرف آئی ایم ایف کی جانب سے بجٹ سرپلس کا ہدف اشاریہ 2فیصد سے بڑھا کر اشاریہ 4فیصد کر دیا گیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ نئے ٹیکسز لگائے جا سکتے ہیں اور عوام کو دیے گئے ریلیف واپس لیے جا سکتے ہیں۔ لہٰذا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر عوامی سطح پر معمولی خوشی بھی شاید زیادہ عرصہ تک برقرار نہ رہ سکے۔ آئی ایم ایف نے غالباً اگست کے تیسرے ہفتے میں اجلاس بلایا ہے جس میں پاکستانی قرضے کی حتمی منظوری ملنے کی امید ہے۔ اس سے پہلے دو مرتبہ تیل کی قیمتیں مزید بڑھائے جانے کی اطلاعات بھی موجود ہیں۔
موجودہ صورتحال میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں‘ ڈالر کی اڑان اور آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے کے درمیان تعلق پر بات کرنے کے لیے میں نے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جزل سیکرٹری سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ تیل کی قیمتیں کم کرنے کو آئی ایم ایف اور ڈالر کے ساتھ جوڑ کر دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے آئی ایم ایف کو اعتماد میں لے کر تیل کی قیمتیں کم کی ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ درست ہو لیکن مارکیٹ کی صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ حکومت کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کے اعلان کے بعد ڈالر کی قیمت بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ جبکہ مفتاح اسماعیل بتا رہے ہیں کہ آئی ایم ایف سے سٹاف لیول پر معاہدہ ہو گیا ہے۔ اس سے بازار میں بہتری آنی چاہیے تھی لیکن ڈالر کا بڑھنا اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ شاید آئی ایم ایف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے پرخوش نہیں ہے۔ سرکار نے وقت سے پہلے قیمتیں کم کر دی ہیں جس کا بوجھ خزانے پر پڑ سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ آئی ایم ایف نے روپے کی قدر مزید گرانے کے لیے دباؤ ڈالا ہو لیکن اس کے امکانات کم ہیں۔ اور جہاں تک تیل کی قیمتیں کم کرنے سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا معاملہ ہے تو یہ بات کافی حد تک درست دکھائی دیتی ہے۔ ملک کی صورتحال نازک ہے اور ان حالات میں سیاسی چوکے چھکے مارنے کے بجائے ملکی مفاد میں فیصلے کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں