سیلاب زدگان کیلئے امداد، بھارت سے تجارت اور آئی ایم ایف

پاکستان میں قدرتی آفات کی صورت میں جب بھی کوئی مشکل وقت آیا تو عوامی ردعمل انتہائی مثبت دیکھا گیا۔ 2005ء کے زلزلے، 2010ء کے سیلاب، 2020ء میں کورونا اوراب 2022ء میں حالیہ سیلاب کے دنوں میں عوامی خدمت کے ایسے ہزاروں واقعات سامنے آئے ہیں جو دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان میں عوامی ردعمل پر حیران ہیں اور ترقی پذیر ملک ہونے کے باوجود‘ چند دنوں پر عوامی سطح پر اربوں روپوں کی فنڈنگ اکٹھا کرنے کو بطورِ مثال پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ خیرات، ڈونیشن اور مالی امداد کے نظام میں کچھ تبدیلیاں لا کر اسے مزید مؤثر اور کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔ خدمت کا یہ نظام زیادہ تر ڈاکیومنٹڈ نہیں ہے۔ جو امداد سرکاری خزانے سے کی جاتی ہے یا بڑے خیراتی ادارے جو فنڈز اکٹھا کرتے اور اسے خرچ کرتے ہیں‘ اس کا حساب کتاب تو کسی حد تک موجود ہوتا ہے لیکن سینکڑوں ایسے ادارے کام کر رہے ہیں جن کے پاس کروڑوں روپوں کی امداد پہنچ رہی ہے لیکن یہ چیک نہیں کیا جا سکتا کہ آیا وہ رقم صحیح طور پر خرچ بھی ہو رہی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ اکانومی کے بڑے حصے کے ڈاکیومنٹڈ نہ ہونے کی وجہ سے ذاتی حیثیت میں بھی جو امداد دی جارہی ہے‘ سرکار کے پاس اس کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں ہے لہٰذا امداد کے جو اعدادوشمار پیش کیے جاتے ہیں وہ تخمینوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ٹیلی تھون ٹرانسمیشنز میں سیلاب متاثرین کے لیے فنڈ اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ جس میں لوگ فون پر وعدہ کرتے ہیں کہ وہ کتنے فنڈز دیں گے۔ عوام کو یہ تو بتا دیا جاتا ہے کہ کتنے لوگوں نے فنڈز دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ وعدہ کرنے والوں میں سے کتنے لوگوں نے واقعتاً فنڈز جمع کرائے ہیں۔ عمران خان کی سیلاب متاثرین کے لیے تین گھنٹے کی انٹرنیشنل ٹیلی تھون میں دنیا بھر سے پاکستانیوں نے تقریباً پانچ سو کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ جس رقم کا وعدہ کیا گیا ہے‘ وہ ابھی تک بینک اکائونٹس میں جمع نہیں ہو سکی۔ زیادہ تر رقم چونکہ بیرونی ممالک سے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے‘ اس لیے وہ سٹیٹ بینک کے ذریعے ہی پاکستانی بینکوں میں جمع کروائی جا سکتی ہے جس کا ریکارڈ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس محفوظ ہوتا ہے۔ خان صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے پر بھی میڈیا پر آ کر بات کریں۔ اگر وعدہ کی گئی رقوم حاصل ہو چکی ہیں تو اس کے ثبوت عوام کے سامنے لائیں اور اگر ابھی تک فنڈز بینکوں میں جمع نہیں ہوئے تو بتائیں کہ اس کی کیا وجوہات ہیں۔ عمران خان سماجی کارکن کے ساتھ ساتھ ایک سیاستدان‘ ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ اور ملک کے سابق وزیراعظم بھی ہیں۔ مخالفین کی جانب سے ان پر کچھ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں؛ تاہم ہمارے ملک میں سیاسی فوائد حاصل کرنے اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کی روایت عام ہے۔ اس طرح کی ٹیلی تھون ٹرانسمیشن میں پلانٹڈ فون کالز پر کروڑوں روپے کے وعدے کیے جانے کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی شک نہیں کہ اگر عمران خان صرف ایک سماجی کارکن ہوتے تو شکوک و شبہات کے امکانات کم تھے لیکن ان کے سیاست دان ہونے کی وجہ سے ان پر اس طرح کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان سوالات کی اہمیت تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے آئی ایم ایف پیکیج کے راستے میں مبینہ طور پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بعد بڑھ گئی ہے۔ گو کہ قرض کی منظوری ہو چکی ہے اور اگلے ہفتے سے قبل آئی ایم ایف کی جانب سے اگلی قسط پاکستان کے اکائونٹ میں منتقل ہو جائے گی لیکن شوکت ترین کی تیمور جھگڑا اور محسن لغاری کے ساتھ مبینہ آڈیو یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے گروہی فوائدحاصل کرنے یا مخالف کو سیاسی نقصان پہنچانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ یہ وقت مل بیٹھ کر ملک کو مسائل سے نکالنے کا ہے نہ کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا۔
ان حالات میں وزیراعظم کا اپوزیشن کو اکٹھے مل کر سیلاب متاثرین کے لیے کام کرنے کی دعوت دینا مثبت اقدام ہے۔گو کہ سیلاب متاثرین کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس میں تحریک انصاف کو مدعو نہیں کیا گیا لیکن بین الاقوامی میڈیا کے سامنے وزیراعظم کا عمران خان کو ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت دینا دراصل دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ حکومت ایمرجنسی کی صورتحال سے نکلنے کے لیے سنجیدہ ہے اور سخت سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی بیٹھنے کو تیار ہے۔ اس سے پہلے وزیراعظم صاحب تحریک انصاف کو میثاقِ معیشت کی بھی دعوت دیتے رہے ہیں لیکن تحریک انصاف کی جانب سے کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آ سکا بلکہ سیلاب فنڈز میں کرپشن کے الزامات لگانے کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں سیلاب متاثرین کی امداد کے نام پر حاصل کیے گئے فنڈز میں شفافیت لانے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کیا اقدامات کرتی ہیں اس حوالے سے کوئی دعویٰ کرنا قبل از وقت ہے لیکن زیادہ امکانات یہ ہیں کہ جس طرح ماضی میں قدرتی آفات کے متاثرین کے فنڈز کے استعمال کی شفافیت پر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں‘ اس مرتبہ بھی انہی سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر بھارت سے سبزیاں درآمد کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہو گی کیونکہ اس سے مارکیٹ میں سبزیاں مزید مہنگی ہونے کا راستہ بند کیا جا سکتا ہے۔ فی الوقت یہ فیصلہ شاید درست ہے لیکن بھارت سے تجارت مستقل بنیادوں پر کھولنا پاکستانی کسان کیلئے زیادہ اچھی خبر نہیں ہو گی۔ بھارت میں سبزیاں اور دیگر اشیائے خور ونوش پاکستان کی نسبت سستی ہیں کیونکہ مزدوری کا ریٹ کم ہونے اور بجلی سستی ہونے کی وجہ سے بھارتی کسانوں کی لاگت کم ہے۔ اگر بھارت سے تجارت مکمل طور پر اور غیر معینہ مدت تک کھول دی جاتی ہے تو پاکستانی کسانوں کو سبزیاں لاگت سے کم ریٹ پر بیچنا پڑ سکتی ہیں جس سے وہ مزید مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ایک طرف سیلاب سے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے قرض پیکیج بحال کر دیا ہے۔ مشکل حالات میں یہ خبر تازہ ہوا کا وہ جھونکا ہے جس کے لیے اہلِ وطن نے بھاری قیمت ادا کی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید قیمت بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ فی الحال ڈالر کی قدر میں کمی آ رہی ہے، سٹاک مارکیٹ میں بہتری آئی ہے اور جلد ہی دوست ممالک اور دیگر مالیاتی ادارے بھی پاکستان کی مالی امداد کے لیے آگے آئیں گے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ ہو گا اور ڈالر کا ریٹ مزید نیچے جا سکے گا لیکن پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ کرنٹ اکائونٹ خسارے کو ختم کر کے اسے سرپلس میں تبدیل کرنا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ابھی حکومت کو بجلی کی قیمت مزید بڑھانی ہے‘پالیسی ریٹ میں اضافہ بھی کرنا پڑ سکتا ہے جس سے مہنگائی کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ آئی ایم ایف نے مہنگائی میں کمی لانے کی شرط بھی عائد کر رکھی ہے۔ حکومت یہ اہداف کس طرح حاصل کرے گی‘ اس بارے کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا لیکن حالات کے پیش نظر یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ آئی ایم ایف اور دیگر اداروں سے قرض مل جانامسائل کا حل نہیں ہے۔ ممکنہ طور پر اس قرض سے چار سے پانچ ماہ ہی بہتر طور پر گزر سکیں گے لیکن اس کے بعد پھر مالی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت برآمدات بڑھانے پر توجہ دے۔ ٹیکس اہداف آسانی سے حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن اس سے بھی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ بیرونی سرمایہ کار کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف، دیگر اداروں اور ممالک کو سیلاب کی صورتحال سے صحیح معنوں میں آگاہ کر کے مزید ریلیف لیا جا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے قانون کے مطابق‘ قدرتی آفات کی صورت میں ترقی پذیر ممالک ایک ارب ڈالر ہنگامی بنیادوں پر حاصل کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں۔ کورونا میں بھی آئی ایم ایف نے یہ امداد جاری کی تھی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اس صورتحال سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھایا تھا اور ملک میں ترقی کا پہیہ چلنے لگا تھا۔ موجودہ حکومت اس صورتحال کو کس طرح ڈیل کرتی ہے‘ اس کا علم چند دِنوں میں ہو جائے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں