سیاست، ریکوڈک اور آئی ایم ایف

ملکی سیاست میں اس وقت پاکستان تحریک انصاف ایک مضبوط سیاسی جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے۔ پنجاب اسمبلی اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں توڑنے کے بعد اس کی سیاسی حیثیت مزید مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ پنجاب کو (ن) لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف نے یہ اعزاز اس سے چھین لیا ہے۔ (ن) لیگ کی سندھ میں پوزیشن پہلے ہی کمزور تھی‘ اب خیبرپختونخوا میں بھی اس کا ووٹ بینک نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ بلوچستان میں اس کی نمائندگی کے لیے مضبوط سیاسی افراد موجود نہیں ہیں۔ اس حساب سے اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت (ن) لیگ ملک کے چار بڑے صوبوں میں کمزور سیاسی جماعت بن چکی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ اگر وفاقی حکومت پر نظر ڈالیں تو (ن) لیگ ایم کیو ایم کی بدولت ہی وزارتِ عظمیٰ کی مسند پر براجمان ہے۔ اگر آج یہ سپورٹ ختم ہو جائے تو وزارتِ عظمیٰ بھی شاید (ن) لیگ کے پاس نہ رہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پارٹی خاندانی اختلافات کی وجہ سے موجودہ صورتحال سے گزر رہی ہے۔ دوسری جانب چودھری پرویز الٰہی نے نہ صرف اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیا‘ بلکہ صوبائی اسمبلی تحلیل بھی کر دی لیکن لندن میں مقیم مسلم لیگ نواز کی قیادت کی جانب سے مطلوبہ ردِ عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف چونکہ موجودہ حالات میں حکومت سنبھالنے کے قائل نہ تھے‘ اس لیے وہ موجودہ حالات کا ذمہ دار شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو سمجھتے ہیں۔ پارٹی کی دھڑے بندی بھی اس دوران واضح طور پر نظر آئی اور موجودہ ناکامی کو شہباز شریف گروپ کی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے نہ کہ میاں نواز شریف گروپ کی۔ ممکنہ طور پر پارٹی میں موجود گروپ بندی کی وجہ سے ہی حالات اس نہج تک پہنچے ہیں۔ میں یہاں اس بات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں کہ جب مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ تھے تو ان کے ہر فیصلے پر بڑے میاں صاحب کی جانب سے ردِعمل آتا تھا لیکن اسحاق ڈار کے وزیر خزانہ بننے کے بعد زرِمبادلہ ذخائر کا کم ہونا، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں کامیابی نہ ملنا اور ڈالر ریٹ پر قابو نہ پانے کے باوجود بھی سرزنش نہیں کی جارہی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ڈار صاحب نواز شریف گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور مفتاح اسماعیل صاحب کا تعلق شہباز شریف گروپ سے ہے۔ موجودہ حالات میں میاں صاحب ملک واپسی کا ارادہ بھی نہیں رکھتے حالانکہ پارٹی کی جانب سے ان پر دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) کے نمائندے عوامی حلقوں میں جانے سے گریزاں ہیں۔ عوام مہنگائی اور بیروزگاری کے ساتھ پارٹی لیڈرشپ کے واپس نہ آنے پر بھی نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تاثر عام ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین گولیاں لگنے کے باوجود بھی ملک میں موجود ہیں اور علاج کے بہانے سے باہر نہیں گئے جبکہ میاں صاحب اب تندرست ہونے کے باوجود بھی ملک واپس نہیں آ رہے ہیں بلکہ یورپ کی سیروسیاحت میں مصروف ہیں۔ ایسے حالات میں پنجاب میں الیکشن مہم چلانا شاید آسان نہ ہواور خدشہ ہے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی اکثریت اپنے حلقوں سے جیت نہیں پائے گی۔ آنے والے دنوں میں لیگی قیادت کیا فیصلہ کرتی ہے‘ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ مخدوش سیاسی حالات میں ملک کے لیے کچھ اچھی خبریں بھی آئی ہیں‘ آئیے! ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
دنیا میں تانبے اور سونے کے بڑے ذخائر میں سے ایک پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہیں۔ ریکوڈک نامی منصوبے پر کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے اور متعلقہ کمپنی کے مطابق 2028ء سے 2032ء کے دوران سالانہ تقریباً سات ہزار 800 کلوگرام سونا اور 19 کروڑ کلوگرام تک تانبے کی پیداوار متوقع ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ اس وقت منصوبے کے 2010ء اور 2011ء کی فیزیبلٹی کو توسیع دینے کا کام کر رہی ہے، جو 2024ء تک مکمل ہو جائے گا اور پیداوار 2028ء تک شروع ہونے کا امکان ہے۔اس منصوبے کی کل مالیت ایک ہزار ارب ڈالر کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور بیرک گولڈ کے چیف ایگزیکٹو نے بلوچستان حکومت کو کمپنی کی جانب سے 30 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی دستاویزات پر دستخط کیے اور یہ رقم اس ماہ بلوچستان حکومت کومنتقل کر دی جائے گی۔ اس موقع پر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے یہ الفاظ کافی حوصلہ افزا تھے کہ ہم صرف سرمایہ کاری کے لیے نہیں آئے بلکہ بلوچستان کو سرمایہ کاری کے لیے دنیا کے سامنے کھولنا ہماری ترجیح ہے۔اس منصوبے کا عبوری جائزہ لینے کے بعد یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ریکوڈک پاکستان خصوصی طور پر بلوچستان کے عوام کے لیے خوشحالی لانے کا سبب بن سکتا ہے لیکن اس کے لیے بلوچستان کے سیاستدانوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا اور اس منصوبے کے فوائد عام آدمی تک پہنچانے کے لیے راستے ہموار کرنا ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق یہ دنیا میں تانبے اور سونے کا ایک بڑا منصوبہ بننے جارہا ہے۔ اندازے کے مطابق اس کان میں سات کھرب ڈالر کی معدنیات کی موجودگی کا امکان ہے۔اس منصوبے کا 50 فیصد حصہ بیرک کمپنی، 25 فیصد حصہ وفاقِ پاکستان کی تین کمپنیوں اور 15 فیصد بلوچستان کا ہو گا، جبکہ صوبے کو 10 فیصد مزید حصہ بھی دیا جائے گا۔اس منصوبے کا دورانیہ40 سال پر محیط ہو سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق‘ سالانہ اس کان سے آٹھ کروڑٹن تانبا اور سونا نکالا جا سکتا ہے۔لیکن سیکرٹری خزانہ کا کہنا ہے کہ ریکوڈک کے حوالے سے اصل صورت حال اس وقت واضح ہو گی جب مائننگ کامعاہدہ تکمیل کو پہنچے گا۔سونے کی مالیت کا اندازہ اکثر تانبے کی پیداوار کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اوران کی قیمتوں میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ پانچ سال قبل تانبے کی قیمت 10 ہزار ڈالر فی ٹن تھی جو بعد میں کم ہو کر چار ہزار ڈالر فی ٹن ہو گئی۔بیرک گولڈ کمپنی کے مطابق اس منصوبے کے دوران ساڑھے سات ہزار افراد کو ملازمت دی جائے گی؛ تاہم جب پیداوار شروع ہو جائے گی تو یہ تعداد چار ہزار ہو جائے گی۔ کمپنی ملازمتوں میں مقامی افراد کو ترجیح دے گی۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ منصوبہ اپنی اصل شکل میں مکمل ہو پائے گا یا نہیں؟ حالیہ دنوں میں مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کی نئی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سی پیک منصوبے میں چینی سٹاف کی سکیورٹی بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے‘ یہاں تک کہ چینی صدر نے کئی مرتبہ وزیراعظم پاکستان سے چینی شہریوں کی سکیورٹی پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔بلوچستان میں جاری ان اہم منصوبوں کے حوالے سے حکومت کو فول پروف سکیورٹی یقینی بنانا ہو گی وگرنہ ملک و قوم کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
آئی ایم ایف کے حوالے سے خبر یہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ معاملات ابھی تک طے نہیں ہو سکے ہیں۔ حکومت تقریباً دو سو ارب روپے کے نئے ٹیکسز کے لیے منی بجٹ لانے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن ڈالر کی قیمت پر پیشرفت نہ ہونے کی وجہ سے معاملات التوا کا شکار ہو رہے ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی بھی تیاری ہے۔ علاوہ ازیں درآمدات پر کیپٹل ویلیو ٹیکس مزید بڑھانے کی تیاری ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ درآمدات اور لگژری سامان پر مزید ٹیکس لگانے سے آمدن میں اضافہ ہو گا یا کمی ہو گی؟ اشیا کی قیمتوں میں حد سے زیادہ اضافے سے درآمدات میں کمی ہوتی ہے اور ٹیکس آمدن بھی کم ہونے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ جو لوگ ٹیکس نیٹ میں ہیں‘ انہی پر ٹیکس بوجھ ڈالتے جانا بہتر فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ آئی ایم ایف اگر ٹیکس بیس بڑھانے کے حوالے سے حکومت پر دباو ڈالے تو بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی کی قیمتیں بڑھانے کے حوالے سے بھی ایک معیار طے کیے جانے کی ضرورت ہے۔ سرکار بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیے جا رہی ہے مگر نقصانات پھر بھی پورے نہیں ہو رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ قیمتیں بڑھانے سے حل نہیں ہو گا بلکہ بجلی کے نظام کی خامیاں دور کرنے، بجلی چوری روکنے اور بہتر مینجمنٹ سے ہی یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں