تین مارچ کوکراچی کے علاقے عباس ٹاؤن میں دو خو ف ناک بم دھماکوں کے باعث بچوں او رخواتین سمیت 50جاں بحق اور 146 زخمی ہوگئے۔مجلس وحدت المسلمین نے دس روزہ اورتحفظ عزاداری کونسل نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ۔آئی جی سندھ نے تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی اوررینجرز نے شہر میں دہشت گردوں کے خلاف بھر پور کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔مذہبی رہنماؤ ںمیںاسلم سلیمی،طاہر القادری،فضل الرحمن، ساجدمیر، حافظ سعید نے دھماکوں کی شدید مذمت کی ۔ افسوس !اس انتہائی گھمبیر مسئلے کو سادہ طور پر لیا جارہا ہے۔ایک دن تعلیمی ادارے بند کرنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا بلکہ تعلیمی اداروں کے بارے میں آنکھیں کھولنی ہوںگی۔مذہبی اور عام تعلیمی اداروں کے نصابات کا جائزہ لینا ہوگا۔ ہمارے اندر تعصبات نے اپنی جڑیں اس قدر گہری کیسے کر لی ہیں کہ بے گناہوں پر ظلم ہوا، اس پر صرف چند تنظیمیں ہی کیوں زیادہ متحر ک ہوئیں؟فرامین نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو یہ ہیں کہ : ’’ اہل ایمان کے ساتھ ایک مومن کا تعلق ویسا ہی ہے جیسا سر کے ساتھ جسم کا ۔ وہ اہل ایمان کی ہر تکلیف کو اسی طرح محسوس کرتا ہے جس طرح سرجسم کے ہر حصے کا درد محسوس کرتا ہے۔‘‘ (مسند احمد)’’ جو شخص کسی پر رحم نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس پر بھی رحم نہ کیا جائے گا۔‘‘ (بخاری، کتاب الآداب) عباس ٹاؤن کے ظلم پر سب کا درد ایک جیسا کیوں نہ ہوا؟ آئی جی سندھ نے تحقیقات کے لیے خفیہ ایجنسیوں کے افسران پر مبنی کمیٹی قائم کر دی۔ لیکن ایک اور علمی اور سماجی تحقیقاتی کمیٹی بھی بننی چاہیے جو یہ جاننے کی کوشش کرے کہ رویوں میں یہ خوف ناک تضاد کیسے پیداہوگیا؟شہروں کی دیواروں پر باہمی نفرت و عداوت او رکفر کے فتووں پر مبنی عبارتیں کیسے لکھ دی جاتی ہیں ؟ اگر اس خونی کھیل کے پیچھے بیرونی دشمن بھی کارفرما ہیں تو ہمارے لوگ ان کے آلہ کار کیسے بن جاتے ہیں؟ محترم اسلم سلیمی،ڈاکٹرطاہر القادری،مولانا فضل الرحمن، پروفیسرساجدمیر، حافظ سعید صاحب کی جانب سے خالی مذمت کافی نہیں۔ ایسی مذمت تو سیاست دانوںاورحکمرانوں نے بھی کی۔ آپ علمائے دین ہیں۔آپ نبیوںکے وارث ہیں۔ آپ سیاست دانوں او رحکمرانوںسے بلند تر لوگ ہیں۔ آپ کھل کر کفر او رقتل کے فتوے دینے والوں کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟کفر و قتل کی علمی دکانوں کے خلاف علمی کریک ڈاؤن کیوں نہیں کرتے؟سوال یہ ہے کہ اہلِ مغرب کی طرح ہمارے اندر جیو اور جینے دو کا مزاج کیوں نہیں پیدا ہوتا۔ کتاب ہدایت کو محض ایصال ثواب او رحصول ثواب کا ذریعہ بنا کر ہی کیوںرکھ دیا گیا ہے؟اگر قوم اسے سمجھ کر پڑھنا شروع کر دے توکیا اللہ کی یہ رسی پارہ پارہ امت کو وحدت کی لڑی میں پرونے کا اہتمام نہیں کر سکتی؟اسرائیل ،امریکہ اور بھارت تو قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے نہیں روکتے۔اور اس کے بعد اس پر بھی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ دنیا کی ہر کتاب میں الفاظ اور عبارات کا مفہوم طے کرتے وقت ان کا سیاق وسباق دیکھا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں عقل عام پر مبنی یہ اصول قرآن مجید پر لاگو کیوں نہیں کیا جاتا؟آیات کو سیاق وسباق سے کاٹ کر ان کی تشریح کیوں کی جاتی ہے اور ان کا اطلاق کبھی اپنے گروہ پر اور کبھی دوسرے گروہ پر کیوں کر دیا جاتا ہے۔ایک دفعہ کسی عالم دین کی تقریر سننے کا درد ناک اتفاق ہوا۔اس نے قرآن مجید کی سورہ الکا فرون کاحوالہ دیا اور کہا کہ ہمارے رسول نے کہا کہ’’اے کافرو۔‘‘اور پھر اپنے مخالف مذہبی گروہ پر اس کا اطلاق کرتے ہوئے کہا کہ کافر کہنا تو میرے نبی کی سنت ہے۔اور یہ بتایا ہی نہیں کہ یہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم قریش کے لیڈروں کواتمام حجت کے بعد مخاطب کیا تھا۔اتمام حجت کے بعد یعنی دینِ حق کواپنی بے مثل اعلیٰ ترین اخلاقی شخصیت، تبلیغ اور دلیل کے ذریعے سے پوری طرح واضح کرنے کے بعد ۔اللہ کی رحمتیں نازل ہوں مولانا امین احسن اصلاحی پر ۔ اپنی تفسیر تدبر قرآن میں کیسا اعلیٰ تدبر کیا ہے اورکس قدر احسن طریقے سے اس آیت کا اطلاق سمجھایاہے۔سورہ الکافرون کی پچھلی سورتوں میں تمام تر بحث قریش کے لیڈروں ہی سے رہی ہے۔ الکا فرون، سور ہ نمبر 109 ہے۔ اس سے پیچھے 106 نمبر سورہ کا نا م ہی قریش ہے۔جس میں قریش کو سمجھا یا جا رہا ہے کہ انھیں عرب میں جو وقار حاصل ہے اس میں اصل دخل ان کی ذہانت و قابلیت اور ان کے حسن تدبیر کو نہیں بلکہ بیت اللہ کے ساتھ ان کے تعلق او ر اس کے خادم ہونے کو ہے۔ ان کی معاشی زندگی میں خون کی گردش انہی تجارتی سفروں سے ہے جن کی کامیابی کی ضمانت ان کو بیت اللہ کے متولی ہونے کی بدولت حاصل ہے۔ا س لیے وہ دنیوی کامیابیوں کے نشہ میں ان حقوق وفرائض کو نہ بھول بیٹھیں جو خانہ کعبہ اور اللہ سے تعلق ہونے کے حوالے سے ان پر عائد ہوتے ہیں۔ سورہ الکافرون سے قبل خطاب قومی اور انسانی بنیاد پر ہوا کہیں قریش کو کافر نہیں کہا گیا۔اتمام حجت کے بعد ہجرت ہوئی۔اللہ تعالیٰ رسول کو ہجرت کا حکم اسی وقت دیتا ہے جب قوم کے رویے سے واضح ہوجاتاہے کہ اس کے اندر ایمان قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی۔اندیشہ ہوتاہے کہ کہیں قوم اپنی سرکشی میں آکر رسول کی جان لینے کی کوشش کرے گی۔چنانچہ رسول کو حکم دیا جاتاہے کہ وہ قوم سے کامل بیزاری کا اعلان کر کے ہجرت کرے اور قوم سے الگ ہوجائے۔چنانچہ جب ان کفار کو سزا کے طور پر قتل کیا گیا تو اللہ نے کہا:’’تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انھیں قتل کیا۔‘‘(سورئہ انفال، آیت نمبر 17) دین مکمل ہوگیا۔اب تمام تر ہدایت قرآن،سنت او رحدیث میں ہے۔ نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا؛ چنانچہ اب وحی والہام کا دروازہ بھی ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا ۔اب وحی کے ذریعے سے کسی مذہبی رہنما کو اللہ کی طرف سے پیغام نہیں مل سکتا کہ اس کا اتمام حجت کا عمل مکمل ہوگیا۔ فلاں مدعو یا مخاطب گروہ کے اندر ایمان قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی اوروہ ہجرت کر جائے ۔لاریب یہ سارے معاملات رسول کے ساتھ خاص تھے ۔اب کوئی عالم دین کسی کو کیسے کافر کہہ سکتاہے؟ان نکات پر علمی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ شاید مسئلے کی ایک اہم وجہ اور حل اسی میںپوشیدہ ہو۔