وَرَفعنالک ذکرک

یورپ میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ’’ محمد‘‘ دنیا کا مقبول ترین نام ہے۔ اسی سروے میں بتایاگیا ہے کہ اس وقت پندرہ کروڑ افراد کا نام محمد ہے۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ محمد نام کے لوگوں کی اصل تعداد پندرہ کروڑ سے بہت زیادہ ہوگی۔ تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی دو ارب ہے۔ اس میں سے اگر ساٹھ فیصد بھی عورتیں ہوں تو مردوں کی تعداد اسّی کروڑ بنتی ہے ۔اسّی کروڑ میں سے یقینا نصف سے زیادہ تعداد ایسے مردوں کی ہوگی جن کے ناموں کے شروع میں، یا درمیان میں یاآخرمیں محمد کا نام نامی آتا ہے۔ یہ تعداد پندرہ کروڑ یا چالیس کروڑ یا اس سے زیادہ یا اس سے کم، جتنی بھی ہے اس میں کیا شک ہے کہ یہ نام پوری دنیا پر چھایا ہوا ہے۔ یہ نام کروڑوں افراد کا تو اس لمحے میں ہے چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزرا ہے کہ ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا جب یہ نام کروڑوں افراد کا نہ ہو ۔ایسے لوگوں کی کل تعداد کا تعین خدا کی ذات ہی کرسکتی ہے، یا اس کے حکم سے اس کے فرشتے کرسکتے ہیں۔ صدیوں سے اس نام پر کرہ ارض کے مرد، عورتیں ، بوڑھے ، بچے ، درود پاک بھیج رہے ہیں ۔کتنے درود پڑھے گئے ، کتنے سلام بھیجے گئے یہ صرف اس پروردگار ہی کو معلوم ہے جس کے علم میں ریت کے ذرے، سمندر کے قطرے ، کہکشائوں کے ستارے ، درختوں کے پتے اور انسانوں کی سانسیں ہیں۔ اس نام کا کیا ہی کہنا! کتنے لوگوں نے اس نام کو لکھا اور چوما، بار بار لکھا اور باربار چوما، کتنے اس نام کو سن کر بے اختیار اپنے انگوٹھے چومنے لگتے ہیں ،کتنے ﷺ کا ورد کرنے لگتے ہیں، کتنوں کی آنکھیں بھیگ اٹھتی ہیں ،کتنوں کے دلوں کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے، کتنوں کے سینوں میں وہاں جانے کی آرزو تڑپ تڑپ اٹھتی ہے جہاں اس نام کی ہستی ؐمحو استراحت ہے کتنوں کے لبوں پر یہ نام سن کر دل کی حسرت دعا بن جاتی ہے کہ حاضری نصیب ہو! اس نام کا کیا ہی کہنا ! سبحان اللہ ! محمد ؐکے میم میں دنیا بھر کی مٹھاس ہے۔ یہ ’’ میم ‘‘ محمود ہے ، مشہود ہے ، مجتبیٰ ہے ، مصطفی ہے ، مزمل ہے ، مدثر ہے ، مصدق ہے، منصور ہے ، مصباح ہے ، مجیب ہے ، مامون ہے ، معلوم ہے ،معین ہے، منیر ہے ، مکرم ہے ، مبشر ہے ، مظہر ہے۔ اس نام کی برکات سمیٹنے کے لیے کائنات کے پھیلتے کنارے، ہر دم ہر لحظہ پھیلتے کنارے ،کم پڑرہے ہیں۔ اس کی ’’ح‘‘ حاشیہ ہے جو ساری دنیائوں کے اردگرد کھینچا گیا ہے۔ حصار ہے جس کے اندر کروڑوں اربوں دل محفوظ و مامون ہیں۔ اس ’’ح‘‘ سے حب ہے ، حجت ہے، حرارت ہے، حیات ہے۔ حریت ہے جس پر لوگ جانیں قربان کردیتے ہیں۔ حرمت ہے اور اس نام کی حرمت پر لوگ اولاد کیا ماں باپ تک نچھاور کردیتے ہیں اور ہاں محمد کی’’ح ‘‘ سے حسن ہے ، حسن جو اس نام کے قدموں میں بیٹھا ہے کہ حسن کے سارے معیار ، سارے تقاضے صرف یہی نام پورے کرسکتا ہے۔’’ح‘‘ سے حضور ہے، حق ہے ،حقیقت ہے ،حکم ہے کہ اس ذات کے حکم پر کائنات کا ہر ذرہ جھکتا اور اڑتا چلا آتا ہے۔’’ح‘‘ سے حکیم ہے ، حلیم ہے ، حیا ہے ، حوصلہ ہے ، ’’ ح‘‘ سے حیرتیں ہیں ، جن کے در یہ نام وا کرتا ہے۔ اس نام میں تقدیس سے بھرے اس نام میں ’’ میم ‘‘ دوسری بار آتا ہے۔ ’’ میم ‘‘ ماورا ہے کہ سامنے والی دنیا تو اس نام کا احاطہ ہی نہیں کرسکتی۔ یہ میم مامتا ہے کہ مائیں اپنے لخت ہائے جگر کو اس نام پر قربان کرنا فخر سمجھتی ہیں ۔یہ مانگ ہے جس سے زندگی کی زلف کا حسن دوچند ہوتا ہے۔ یہ ماہ کامل ہے جو چودہ صدیاں قبل چڑھا اور آج تک ڈوبا ہے نہ ڈوبے گا۔ یہ میلاد ہے کہ جب بھی وہ تاریخ آتی ہے جہانوں میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ یہ میم مبارک ہے، مبعوث ہے، مبسوط ہے، متاع ہے ، محافظ ہے ، محبوب ہے ، محسن ہے ، مختارہے ، مدام ہے، مدلل ہے ،مدنی ہے،مکّی ہے، مراد ہے ، مرحبا ہے ، مرصع ہے ، مزکّی ہے ، مسکراہٹ ہے ، مسلسل ہے ، مشفق ہے ، مشک ہے ، معتبر ہے، معتدل ہے ، معنبر ہے ، معجزہ ہے ، معراج ہے ، معزز ہے ، معظم ہے ، مطلوب ہے ، مفتاح ہے ، مفرح ہے ، مقبول ہے ، مقتدر ہے ، مکمل ہے ، ملائم ہے ،ممتاز ہے ، من موہن ہے اور موتی ہے۔ اس نام کی تعریف آج تک کوئی نہیں کرسکا، جس نے بھی کیا ، عجز اور بے بسی کا اظہار کیا ۔غالب جیسے نکتہ سنج نے کہا تو یہ کہا ؎ غالب ثنائی خواجہؐ بہ یزدان گذاشتیم کآن ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدؐ است کہ پروردگار خود ہی اس نام کی تعریف کرسکتا ہے۔ کسی اور کے بس کی بات نہیں۔ نظامی نے خود کو آپ کے قدموں کی خاک قرار دیا اور کہا کہ دونوں جہان آپ کے فتراک سے بندھے ہیں۔ حافظ ظہور نے تو بات ہی ختم کردی ؎ ہے شان تری اس سے کہیں ارفع و اعلیٰ جو لفظ تری شان کے شایان نظر آیا کسی نے عجز کا اظہار یوں کیا کہ منہ کو ہزاروں بار مشک و گلاب سے دھوئیں تب بھی یہ نام لینے کے لیے ادب کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ اس نام کی صفات کا شمار ممکن ہی نہیں۔ اس کے آخر میں ’’د‘‘ ہے ۔ یہ ’’ د‘‘ داد رسی ہے جو مسکینوں کی داد رسی کرتا ہے۔ یہ دارالامان ہے جہاں دنیا بھر کے ستائے سر چھپاتے ہیں۔یہ دامن ہے جس کے سائے تلے خلقت آرام پاتی ہے ،یہ دانش ہے جو عقدے کھولتی ہے اور معمے حل کرتی ہے۔ یہ دانا ہے جو راستہ بتاتا ہے۔ یہ دائرہ ہے زمان و مکان جس سے باہر نکلنے کا حوصلہ نہیں پاتے۔ یہ دائم ہے جو قیامت تک اور قیامت کے بعد بھی رہے گا۔ یہ دفتر ہے جس کے اوراق شمار سے باہر ہیں ۔ یہ دروازہ ہے خدا کی قسم وہ دروازہ جس کی چوکھٹ پر چاند ستارے سورج کہکشائیں کائناتیں جہان وقت سب دو زانو بیٹھے ہیں۔ ایسا دروازہ جو کسی پر بند نہیں ہوتا کہ وہ مجسم رحمت تو راستے میں کانٹے بچھانے والوں کی بھی دست گیری کرتے تھے۔ محمد ؐکا ’’ د‘‘ دربار ہے جہاں شہنشاہ غلاموں کی طرح حاضر ہوتے ہیں۔ درخشاں ہے جو افق افق روشنی بکھیر رہا ہے، درود ہے جو مسلسل زمینوں سے آسمانوں کی طرف جارہا ہے اور کبھی ختم نہیں ہوتا، درس گاہ ہے جہاں سقراط اور ارسطو ، افلاطون اور جالینوس ، جیسے کروڑوں حکیم ،فلسفی ،دانشور آپ کے غلاموں کے غلاموں کے جوتے سیدھے کرتے ہیں۔یہ ’’د‘‘ دریا ہے جو ہمیشہ بہتا رہے گا۔ دستاویز ہے جس میں زمانوں اور جہانوں کی ملکیت کا گوشوارہ ہے۔ دستور ہے جس سے کائنات کا نظام چل رہا ہے ،دعوت ہے جو خاص و عام کے لیے ہے، دعا ہے جس کی قبولیت کا وعدہ ہے، دعویٰ ہے جسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا ، دل آویزی اور دلکشی ہے ،دلبری اور دل بستگی ہے، دلداری اور دلگیری ہے۔ دلاسا ہے ،دلیل ہے ، دمک ہے ، دوراندیشی ہے ،دوستی ہے دیانت ہے۔ جب تک دنیا قائم ہے یہ نام بلند رہے گا۔ پھر جب حشر اٹھے گا تو ہر طرف چلچلاتی کڑکتی کوڑے برساتی قیامت ڈھاتی دھوپ ہوگی اور اس دھوپ میں صرف اس نام ہی کی چھائوں ہوگی ،وہ سب جو آج تک پیدا ہوئے اور وہ بھی جو قیامت تک پیدا ہوں گے اس نام پر درود و سلام پڑھتے رہیں گے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں