نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کیادنیاافغانستان اورخطےکوچھوڑنےکی غلطی دہرائے گی؟معید یوسف
  • بریکنگ :- پاکستان نےہمیشہ افغان مذاکرات اورسیاسی تصفیے کی حمایت کی،معید یوسف
  • بریکنگ :- پاکستان افغانستان میں جنگ کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا، معید یوسف
  • بریکنگ :- ہمیں 80 ہزارسےزائدجانی نقصان اٹھانا پڑا،معید یوسف
  • بریکنگ :- ہمیں 150 بلین ڈالر سےزائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا،معید یوسف
  • بریکنگ :- بھارت نے پاکستان کے خلاف جعلی بیانیہ بنایا، معید یوسف
  • بریکنگ :- بھارت نےافغان سرزمین کو پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئےاستعمال کیا،معید یوسف
  • بریکنگ :- افغانستان کوانسانی بحران سےبچاناعالمی برادری کی ذمہ داری ہے،معید یوسف
  • بریکنگ :- عالمی برادری کو اپنی کوششوں کو مربوط کرنا چاہیئے،معید یوسف
  • بریکنگ :- عالمی برادری کو اتفاق رائے کےساتھ آگےبڑھناچاہیئے،معید یوسف
Coronavirus Updates

افغانستان … چند معروضات

اتنا سہل نہیں جتنا نظر آتا ہے۔ اسلام کے حوالے سے ایک ملک چلانا بہت بڑا کام ہے۔ چیلنج کرنے والا! ساری دنیا کی نظریں آپ پر لگی ہیں!
وژن چاہیے۔ ایسا وژن جس کی راہ میں آشوب چشم حائل ہو نہ ککرے! سفید موتیا نہ کالا موتیا! شفاف ‘ صحت مند نظر درکار ہے! ایسی نظر جو مسلکوں کے پار دیکھ سکے اور مکاتب فکر اُسے پار دیکھنے سے روک نہ سکیں! طالبان کی خدا مدد کرے اور انہیں مسلک سے اُوپر ہو کر دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے! اگر وہ مملکت کا کاروبار چلانے میں‘ خدانخواستہ‘ خدانخواستہ‘ کامیاب نہ ہو سکے تو الزام اُن پر نہیں آئے گا! میرے منہ میں خاک! اسلام پر آئے گا!
سب سے پہلے انہیں طے کرنا ہو گا کہ انکے ستر اسی ہزار جنگجو باقاعدہ فوج میں ضم ہوں گے یا معاشرے میں پھیل کر اپنے اور اپنے خاندانوں کیلئے معاش کا انتظام کریں گے! بیس سال سے جو چھاپہ مار فوج کاحصہ رہے ہوں ان کیلئے دونوں کام آسان نہ ہوں گے! باقاعدہ فوج کی تربیت ایک الگ سائنس ہے اور اس سے بھی بڑی سائنس یہ ہے کہ زمانۂ امن میں اس فوج کو کس طرح مصروف اور تنظیم کا پابند رکھا جائے۔ رہا معاشرے میں پھیل کر معاشی سرگرمی کا حصہ بننا تو یہ اور بھی مشکل ہے‘ اس لیے کہ انہوں نے کوئی کام بھی نہیں کیا۔ کھیت کارخانہ‘ دکانداری‘ سب کچھ ان کیلئے اجنبی ہے۔
اگر ایک طرف خواہش یا پالیسی یہ ہو کہ مریض عورتوں کا علاج صرف خواتین ڈاکٹر اور خواتین نرسیں کریں اور لڑکیوں کو صرف خواتین اساتذہ پڑھائیں اور دوسری طرف عورتوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے میں بہت سے اگر مگر اور بہت سے اِفس اور بَٹس سے کام لیا جائے اور اجازت فراخ دلی اور خندہ پیشانی سے نہ دی جائے تو یہ ایسے ہی ہو گا جیسے گاڑی چلاتے وقت بریک اور ایکسی لیریٹر‘ دونوں پر بیک وقت پاؤں رکھ کر دبایا جائے۔ اگر مخلوط تعلیم نہیں پسند تو کوئی مضائقہ نہیں مگر پھر خواتین کے لیے میڈیکل کالج‘ انجینئر نگ کالج‘ ہوم اکنامکس کالج‘ ٹیچرز ٹریننگ کالج ‘ کامرس اور آئی ٹی پڑھانے والے ادارے الگ بنانے ہوں گے اور مردوں کے لیے الگ! اس اعلان نے کہ کابینہ میں خواتین کی شمولیت خارج از امکان ہے‘ پوری دنیا میں سگنلز بھیجے ہیں! ایسے سگنلز جو آنے والے دنوں کا احوال بتاتے ہیں!
نئی حکومت کو فارن سروس‘ پولیس سروس اور ضلعی انتظامیہ کے شعبے تشکیل دینے ہوں گے! ایف بی آر قائم کرنا ہو گا! قومی خزانے سے ادائیگیاں کرنے کے لیے وفاق اور ولایتوں میں اکاؤنٹس کے سیٹ اپ تشکیل دینے ہوں گے۔ ان ادائیگیوں کا آڈٹ کرنے کے لیے آڈیٹر جنرل کا محکمہ قائم کرنا ہو گا۔ تجارت کے فروغ کے لیے مردانِ کار ضرورت ہوں گے جنہیں کم از کم توازنِ ادائیگی (Balance of payment) اور توازنِ تجارت (Balance of trade) کے بارے میں علم ہو۔ مالیات کے ماہرین کی ضروت ہو گی جو افراطِ زر اور بیروزگاری کے باہمی تعلق کو بخوبی جانتے ہوں! ٹیکس عائد کرنے کے لیے ایک متناسب اور عادلانہ نظام بنانا ہو گا! بیرونی ممالک میں ان لوگوں کو سفیر بنا کر بھیجنا ہو گا جو میزبان ملکوں کی ترقی کو تنقیدی نہیں بلکہ مثبت نظر سے دیکھیں اور کار آمد پالیسیوں کا اپنے ملک میں تتبع کروائیں! خذ ما صفا ودع ما کدر!
مگر افغانستان کی شہ رگ اگر محفوظ رکھنی ہے تو سب سے اہم کام صنعت (مینو فیکچرنگ) سیکٹر کا قیام ہو گا تا کہ کم از کم بنیادی ضرورت کی اشیا مثلاً چینی‘ گھی‘ آٹا‘ سیمنٹ‘ سٹیل‘ جوتے‘ کپڑا‘ بنیادی ادویات‘ کتابیں‘ کاپیاں‘ پنسلیں‘ سکول بیگ اور دیگر سخت ضرورت کی اشیا ملک کے اندر ہی بنیں اور پڑوسی ملکوں سے چور دروازے یعنی سمگلنگ کے ذریعے نہ لانا پڑیں۔ زمانے ہو گئے افغانستان کی بنی ہوئی کوئی شے کبھی نظر نہیں آئی۔ یہاں تک کہ جراب بھی نہیں! افغانستان کو اس ناقابل رشک احتیاج سے نکلنا ہو گا۔
افغانستان پھلوں کے سلسلے میں خوش قسمت واقع ہوا ہے۔ آپ نے بازار میں تھائی لینڈ‘ فلپائن اور ملائیشیا کا انناس بند ڈبوں میں دیکھا ہو گا اور خرید کے کھایا بھی ہو گا۔ 2018ء میں صرف تھائی لینڈ نے چالیس کروڑ ڈالر کا ڈبوں میں بند انناس فروخت کیا۔ فلپائن بھی اس مد میں کروڑوں کما رہا ہے۔ اگر افغانستان اپنا خربوزہ‘ سیب‘ انار‘ خوبانی اور دوسرے پھل ڈبوں میں بند کر کے بین الاقوامی منڈی میں لائے تو کروڑوں کما سکتا ہے مگر اس کے لیے ماہرین کو بلا کر پُر کشش مراعات کی پیشکش کرنا ہو گی تا کہ وہ راغب ہو کر افغانستان کے مختلف حصوں میں پھلوں کو Process کرنے اور ڈبوں میں بند کرنے کا کام کریں! قالین افغانستان کی برآمد کا بڑا آئٹم بن سکتے ہیں بشرطیکہ مارکیٹنگ کا صدیوں پرانا نظام ترک کر کے جدید طریقے اپنائے جائیں۔
ایک جدید اسلامی مملکت صرف دُرِّ مختار‘ فتاویٰ عالمگیری‘ فتاویٰ قاضی خان‘ ہدایہ اور کنزالدقائق جیسے منابع سے نہیں چل سکتی ! انہیں شرق اوسط‘ شمالی افریقہ (المغرب) ‘ ترکی ‘ ملائیشیا‘ برونائی اور انڈونیشیا کے علما سے تبادلہ خیالات کرنا ہو گا تاکہ سوچ کا افق وسیع تر ہو اور مسائل کے متبادل حل ہاتھ آ سکیں ! یہ سب کتب بہت قیمتی اور ہمارا بہت بڑا سرمایہ ہیں مگر جو مسائل آج کی طالبان حکومت کو درپیش ہوں گے ان کے حل ان کتابوں میں نہیں ملیں گے۔ یہ کتابیں اُس وقت ترتیب دی گئی تھیں جب مسلمان دنیا کی سپر پاور تھے۔ آج کروڑوں مسلمان غیر مسلم ترقی یافتہ ملکوں میں جانے کے لیے ہاتھوں میں عرضیاں لیے کھڑے ہیں اور ہوائی جہازوں کے ساتھ چمٹ کر‘ لٹک کر‘ جانے کے لیے تیار ہیں۔ آج کے مسائل نئے ہیں‘ اس قدر نئے کہ سینکڑوں سال تو کیا‘ پچاس سال پہلے کی پالیسیاں بھی از کارِ رفتہ ہو چکیں۔ ایک مثال دیکھیے۔ اکرم خان ماہر اقتصادیات ہیں اور بین الاقوامی شہرت کے مالک۔ اگرچہ چراغ تلے اندھیرا ہے کہ اپنے ملک میں انہیں کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ ان کی شہرہ آفاق تحقیقی تصنیف: What is Wrong with Islamic Economics? کا ترجمہ عربی‘ ترکی اور انڈونیشیا کی زبان ''بھاشا‘‘ میں ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس کے دیباچے میں ایک فکر انگیز نکتہ اٹھایا ہے۔ اب تک اس بات پر تقریباً اجماع رہا ہے کہ اگر غیر مسلم میاں بیوی میں سے بیوی اسلام قبول کرتی ہے تو اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا۔ اب وہ غیر مسلم میاں کے ساتھ نہیں رہ سکتی مگر مشہور و معروف فقیہ علامہ یوسف قرضاوی‘ سوڈانی عالم حسن ترابی اور کئی دیگر علما کے نزدیک اس زمانے میں ایسا کرنے سے مغربی ملکوں میں دوسری غیر مسلم عورتیں اسلام قبول کرنے سے احتراز کریں گی اور اُس عورت کے میاں کے مسلمان ہونے کا امکان بھی ختم ہو جائے گا۔ یورپی کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ کا موقف بھی یہی ہے‘ اس مسئلے پر اور اس قبیل کے دوسرے نئے مسائل پر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے اپنی تصنیف ''مقاصد شریعت‘‘ میں تفصیل سے لکھا ہے۔ یہ انتہائی اہم کتاب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ادارہ تحقیق اسلامی نے شائع کی ہے۔
افغانستان کا ایک ایشو یہ بھی رہا ہے کہ مقامی ثقافت‘ جیسے پشتون ولی کی روایات کو اسلام کے ساتھ خلط ملط کر دیا گیا ہے حالانکہ دونوں کے درمیان واضح لکیر موجود ہے۔ افغانوں کو ‘ خواہ وہ طالبان ہیں یا غیر طالبان‘ اپنا قومی یا علاقائی لباس پہننے کا پورا حق حاصل ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے پاکستانیوں یا بنگالیوں یا سوڈانیوں کو یہ حق حاصل ہے۔ مگر کوئی پاکستانی یا بنگالی یا افغان یا سوڈانی یہ دعویٰ کیسے کر سکتا ہے کہ اس کا لباس اسلامی ہے؟ اس سیاق و سباق میں کچھ لطیفہ نما واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔ کل کی نشست میں اس پر مزید بات ہو گی!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں