نیلسن منڈیلااور بل کلنٹن

گزشتہ سال جب نیلسن منڈیلا فوت ہوئے تو سینیٹ میں کچھ وقت کیلئے خاموشی اختیار کر کے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ حسب معمول ایوان بالا کے شعلہ بیان مقررین نے نیلسن منڈیلا کی تعریف کر کے اپنے قد کاٹھ میں اضافہ کرنے کی کوشش کی۔کچھ مقررین نے انہیں نہ صرف ایک سیاسی لیڈر تسلیم کیا بلکہ انہیں عدم تشدد کے پیامبر اور نسلی امتیاز کے خلاف کامیاب تحریک کے ہیرو بھی قرار دیا۔نیلسن منڈیلا کو فوت ہوئے ایک سال بیت چکا ہے۔انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں نفرت، انتقام اور امتیاز کے ایندھن سے محبت،مفاہمت، برداشت اور درگزر کے چراغ روشن کیے۔ نیلسن منڈیلا پر بے شمار کتب لکھی گئی ہیں۔ مزید بھی لکھی جائیں گی۔ان کو امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا۔ تاریخ انہیں فراموش نہ کر پائے گی۔ نیلسن منڈیلاکون تھے؟ ان کا فلسفہ حیات کیا تھا؟ سوالات کا مفصل جواب اس گفتگو سے ملتا ہے جو امریکی صدر بل کلنٹن اور افریقی صدر نیلسن منڈیلا کے مابین اس وقت ہوئی جب امریکی صدر بل کلنٹن سرکاری دورہ پر افریقہ گئے ہوئے تھے۔ امریکی صدر بل کلنٹن اپنی سوانح حیات ''میری زندگی‘‘ میں کہتے ہیں۔''میں امریکہ کا پہلا صدر تھا جو جنوبی افریقہ کا دورہ کر رہا تھا۔ میں کیپ ٹائون پہنچا کیونکہ میں نے جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ سے خطاب کرنا تھا۔ میں افریقہ کے دورے اور پارلیمنٹ کے خطاب سے اپنی امریکی عوام کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ تعصب کی عینک اتار کرنئے افریقہ کو دیکھیں۔ انہوں نے اپنا ماضی نہیں بھلایا تھا، ان کی آنکھوں میں ''اختلاف‘‘ واضح تھا ۔ اس کے باوجود وہ اپنا مشترکہ مستقبل بنانے میں پراعتماد نظر آ رہے تھے۔ ان مثبت جذبوں کا سہرا نیلسن منڈیا کو جاتا تھا جس نے نسلی امتیاز پر قائم دو متحارب سماجوں میںمفاہمت کی روح پھونکی تھی۔ میں نے منڈیلا کو اس عظیم کارنامے پر خراج تحسین پیش کیا‘‘۔بل کلنٹن کہتے ہیں کہ ''اگلے روز نیلسن منڈیلا مجھے جزیرہ روبن(Island Robben )کے دورے پر لے گئے جہاں انہوں نے اٹھارہ سال تک قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کی تھیں۔ میں نے وہ پہاڑیوںپر وہ عقوبت خانہ بھی دیکھا جہاں پر منڈیلا سے جبراً پتھرتوڑوانے کے بعد انہیں پھرقید کر دیا جاتا تھا ۔ بہت کم وقت میں میری منڈیلا کے ساتھ دوستی ہو گئی۔ یہ اس لئے نہیں کہ اس نے ستائیس سال کی طویل قید میں نفرت سے مفاہمت کا ایک کٹھن اور مشکل سفر طے کیا، بلکہ، اس لئے ، بھی کہ وہ ایک نہایت مضبوط اعصاب کا مالک اور عظیم سیاستدان تھا۔ اس کے اندر کبھی بھی محبت کرنے والا انسان نہیں مرا ۔ اس نے طویل قید کے باوجود نجی زندگی میں دلچسپی ختم نہیں کی۔ اس نے ظلم و ستم کے دوران بھی محبت، دوستی، شفقت اور رحم کے جذبوں کو اپنے اندر ختم نہیں ہونے دیا‘‘۔بل کلنٹن مزید کہتے ہیں کہ ''دریں اثناء، ہم نے نہایت عمدہ اور بامقصد گفتگو کی۔ میں نے پوچھا: ''مودیبا (یہ منڈیلا کا قبائلی نام تھا۔ منڈیلا نے کہا کہ میں اس سے اس نام سے مخاطب ہوا کروں) میں جانتا ہوں کہ تم نے حلف کے موقعہ پر اپنے سابق جیلر کو مدعو کر کے بہت بڑا کام کیا تھا ( جب نیلسن منڈیلا نے افریقہ کے صدر کا حلف اٹھایا تھا تو اس نے اپنے سابق جیلر کو بھی مدعو کیا تھا) کیا واقعی تم ان سے نفرت نہیں کرتے جنہوں نے تمہیں اذیت ناک قید میں رکھا ہے؟‘‘
اس نے کہا:''یقینا میں کرتا تھا، میں کئی سالوںتک ان سے نفرت کرتا رہا۔ کیونکہ انہوں نے میری زندگی کا خوبصورت
ترین حصہ برباد کر دیا، مجھ سے چھین لیا۔ انہوں نے مجھے جسمانی اور ذہنی اذیتیں دیں۔ میں اپنے بچوں کو بڑا ہوتے نہ دیکھ سکا۔ میں ان سے نفرت کرتا تھا۔ پھر ایک دن جب میں جیل میں پتھر توڑ رہا تھا تو میں نے محسوس کیا کہ انہوں نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا ہے۔ لیکن وہ مجھ سے میرا ذہن اور دل نہ چھین سکے۔ یہ وہ میرے اثاثے ہیں جو وہ میری اجازت کے بغیر نہیں چھین سکتے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں انہیں یہ کبھی بھی نہیں چھیننے دوں گا۔‘‘...اور پھر اس نے میری طرف دیکھا، وہ مسکرایا اور کہا ''اور آپ بھی نہ چھیننے دینا۔‘‘
میں نے ایک لمبا سانس لیا ۔ پھر دوسرا سوال کیا:'' جب تم آخری بار جیل سے باہر آ رہے تھے تو کیا تم نے ایسا محسوس تو نہیں کہ وہ نفرت جو تم ختم کر چکے تھے ایک بار پھر تمہارے اندر عود کر آئی ہو؟ ''یقینا، ایک لمحے کیلئے ایسا ہی ہوا‘‘ اس نے جواب دیا، ''تب میں نے خود کو سمجھایا۔ انہوں نے مجھے ستائیس سال قید کئے رکھا۔ اگر میں نے ان سے نفرت جاری رکھی تو میں کبھی بھی ان کی قید سے آزاد نہیں ہو سکوں گا۔ میں آزادی چاہتا ہوں، آزاد ہونا چاہتا ہوں۔ لہٰذا میں نے نفرت کے ابھرتے جذبے کو
ختم کر دیا۔‘‘ وہ ایک بار پھر مسکرایا، مجھے دیکھا... اور... پھر کہا: ''اور تمہیں بھی ایسا ہی کرنا ہے‘‘۔
امریکہ اور افریقہ کے صدور کے مابین یہ اس وقت کی گفتگو کا متن ہے جب نیلسن منڈیلا افریقہ کے دہشت گرد نسل پرست سیاستدان سے افریقہ کا متفقہ صدر بن چکا تھا جبکہ امریکہ کا صدر بل کلنٹن امریکہ میں مانیکالونسکی سکینڈل میں اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کا سامنا کر رہا تھا ۔ نیلسن منڈیلا بل کلنٹن کو ہر بار اپنا فلسفہ محبت بیان کرنے کے بعد تاکید کر رہے تھے کہ تم نے بھی اپنے مخالفین سے نفرت نہیں کرنی، ورنہ تم ہار جائو گے، وہ جیت جائیں گے۔ انہیں اپنے دل و دماغ چھیننے کی اجازت مت دینا۔ کیونکہ یہی انسان کے انمول اثاثے ہوتے ہیں۔ یہ انسان کے پاس رہنے چاہئیں۔ انسان ان کے بغیر دشمنوں کی قید سے آزاد نہیں ہو سکتا، خواہ، وہ بظاہر کسی ملک کا سربرا ہ ہی کیوں نہ ہو۔
وہ نیلسن منڈیلا‘ جس نے تین عشروں تک آزادی کی جنگ لڑی اور کامیاب ہوا‘ وہ نیلسن منڈیلا جس نے کال کوٹھڑیوں میں بھی روشنی دیکھی‘ زندگی کی تمازت محسوس کی‘اس نے امید، محبت، مفاہمت اور صلح جوئی کے جذبے کو ختم نہ ہونے دیا ۔ہمارے عظیم سیاستدان ، جو پارلیمان میںدنیا کی عظیم شخصیتوں کے بارے میں روایتاً جو کچھ فرما رہے ہوتے ہیں کیا اس کو واقعی عقلی و ذاتی طور پر پسند بھی کر رہے ہوتے ہیں؟

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں