نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- چھوٹےڈاکوسےلوگ تنگ ہوتےہیں لیکن ملک تباہ نہیں ہوتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- حکمرانوں کی کرپشن سےملک تباہ ہوجاتاہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- مجھےخوف خداہےاس لیےاین آراونہیں دوں گا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- جہانگیر ترین کہہ رہےہیں ان کےساتھ انصاف نہیں ہورہا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- میں نےآج تک کسی کےساتھ ناانصافی نہیں کی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ایک روپیہ بڑھنےسےشوگرملزکو 5 ارب روپےکافائدہ ہوتاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- جب تک زندہ ہوں ملک کاپیسہ واپس لیےبغیر آپ کونہیں چھوڑوں گا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- جنہوں نےچینی مہنگی کی ان کومعاف نہیں کروں گا،چاہےمیری حکومت چلی جائے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- 5 سال میں شوگرملز نے 10 ارب ٹیکس دیااور 29 ارب کی سبسڈی لی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مافیاکونہیں چھوڑوں گالیکن ناانصافی کسی سےنہیں ہوگی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- شہبازشریف باہرجانےکی نہیں،بھاگنےکی کوشش کررہےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ان کےبچےاربوں روپےکےگھروں میں رہتےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- سب سےبڑامسئلہ مہنگائی ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- خطےمیں اس وقت پٹرول کی سب سےکم قیمت پاکستان میں ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ماضی میں مہنگےمعاہدوں کی وجہ سےآج بجلی مہنگی ہے،وزیراعظم

دھند جو بہت گہری ہے

دھند وہ نہیں جس نے فضائی آلودگی کے باعث ماضی قریب میں پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا یا ڈسکہ میں انتخابی عہدے داروں کے بیلٹ باکس اُٹھا کر بھاگ جانے کی ذمہ داربنی تھی۔ زیادہ گہری اور زیادہ خطرناک دھند ہے ‘وہ جو ہمارے دماغوں پر اس حد تک چھا چکی ہے کہ ہم نے 1977ء کے جعلی انتخابات سے ایک سبق بھی نہیں سیکھا۔وہی ذوالفقار علی بھٹو جنہوں نے 1970ء میں ایک عوامی رہنما بن کر زبردست عوامی تحریک چلائی اور یہ عظیم الشان عوامی تحریک ان کے مخالفین کو خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے گئی اور وہ برسر اقتدار آ گئے‘ مگر جب سات سال بعد عوامی عدالت میں پیش ہوئے تو وہی سلطانیٔ جمہور‘ جس کا نعرہ لگاتے لگاتے اُنہوں نے جمہور سے اُن کی قیادت کا حق حاصل کیا تھا‘ انتخابات میں دھاندلی کر کے اس سلطانیٔ جمہور کی مٹی اس طرح پلید کی کہ وہ نہ صرف اقتدار بلکہ اپنی جان بھی کھو بیٹھے۔ اقتدار اور زندگی‘یہ دونوں تو بھٹو صاحب کی اپنی تھیں مگر ان سے محرومی صرف ان کا ذاتی نقصان نہ تھا‘ قومی المیہ بھی تھا۔ اتنا بڑا المیہ کہ ہمارے جمہوری نظام کی جو گاڑی پہلی بار چلی تھی وہ سات سال بعد اس طرح پٹری سے نیچے اُتری کہ 43 سال گزرنے کے بعد بھی متوازن اور محفوظ سفر شروع نہیں کرسکی۔ دو آمروں کی غیر آئینی حکومتوں‘ نواز شریف کی تین بار‘ بے نظیر بھٹو کی دو اور ایک بار صدر بن جانے والے آصف علی زرداری کی حکومت کے پے در پے صدمے اُٹھانے کے بعد بھی مجال ہے کہ ہم نے تاریخ سے کوئی سبق سیکھا ہو۔ اس کالم نگار نے چھ ہزار میل کے فاصلے پر ڈسکہ میں ہونے والے نام نہاد انتخابات کی تفصیلات میں گولیاں چلنے سے لے کر بیس ریٹرنگ افسروں کی پرُ اسرار گمشدگی تک کی تفصیلات پڑھیں تو لندن میں ایمبولینس کا نمبر ڈھونڈ کر اہلِ خانہ کو دے دیاکہ بوقتِ ضرورت تلاش میں وقت ضائع نہ ہو۔
جب یہ سطور شائع ہو رہی ہیں ‘ ہماری پارلیمان کے ایوان بالا (Senate) کے انتخابات ہوچکے ہیں‘اور اُن لوگوں کی سادہ لوحی قابلِ رحم ہے جو اس انتخاب میں کروڑوں روپوں کے عوض ٹکٹوں کی فروخت کے سدباب کیلئے طرح طرح کے جتن سوچتے تھے اور تجویز کرتے تھے اور خفیہ بیلٹ کے آئین میں لکھے ہوئے طریق کار کو تبدیل کرنے کیلئے سپریم کورٹ جا کر انصاف کی زنجیر ہلائی یا بے حد غیر مناسب (غالباً غیر قانونی بھی) صدارتی آرڈ یننس بھی جاری کروایا‘ مگر کمال یہ ہے کہ (ایک انگریزی محاورے کے مطابق) اُنہیں کمرے میں کھڑا ہاتھی نظر نہیں آتا۔ وہ ایم پی اے اور ایم این اے جو کروڑوں روپوں لے کر اپنی پارٹی سے غداری کرنے پر تیار ہوتے ہیں انہوں نے اپنے ضمیر کا سودا کیا اور عوامی نمائندے کے قابلِ صد احترام درجے سے بہت نیچے گر گئے۔ آپ کو تفتیش کئے بغیر معلوم ہونا چاہئے کہ وہ خود لاکھوں کروڑوں روپوں کی سرمایہ کاری کر کے ایم این اے یا ایم پی اے بنتے ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان بالا (House of Lords)کے سب سے سینئر رکن اور انسانی حقوق کی کمیٹی کے چیئرمین آنجہانی Lord Eric Avebury کالم نگار کی دعوت پر اُس کے ذاتی مہمان بن کر چار بار پاکستان تشریف لائے۔ اُنہوں نے واپسی کی ایک پرواز پر مجھے جو کہا وہ ناقابلِ فراموش ہے اور وہ جملہ یہ تھا ''برطانیہ میں تو دو ایوان ہیں دارالعوام (House of Commons) اور دارالامرا (House of Lords)۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں دونوں ایوان House of Lords ہیں اور House of Commons ایک بھی نہیں‘‘۔
وہ قومی اسمبلی میں جس کا ایک بھی رکن نہ استاد ہے‘ نہ کسان‘ نہ مزدور‘ نہ محنت کش اور نہ نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا‘ متوسط طبقے کی بھی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کوئی نمائندگی نہیں۔ بڑے زمینداروں‘ جاگیرداروں‘ صنعت کاروں‘ گدی نشینوں‘ ٹھیکے داروں کا ایک کلب جس میں صحافیوں‘ دانشوروں‘ فنکاروں‘ سفید پوش عوام دوستوں کا داخلہ سختی سے منع ہے۔ یہ اسمبلی ہمیں سالانہ اربوں روپوں میں پڑتی ہے۔ سفید ہاتھی نہ PIA ہے اور نہ سٹیل مل اور نہ ہماری ریلوے بلکہ ہماری قومی اسمبلی اور سینیٹ ہیں۔ ہر ماہ کروڑوں روپوں کی تنخواہیں اور کروڑوں روپوں کی مراعات کے علاوہ ذرا پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی ڈھائی سال میں کارکردگی اور کار گزاری دیکھیں۔ وقت ملے تو پیچھے بھی جائیں‘ پھر اپنی پارلیمان کا ترقی یافتہ ممالک کی پارلیمانوں سے موازنہ کریں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ‘ افراطِ زر‘ بے روزگاری ‘ کئی ہزار ارب روپوں کا غیر ملکی قرض ‘ تعلیم اور علاج کا برُا حال ‘ مگرپارلیمان کے دونوں ایوانوں کے معزز اراکین کی بلا سے۔
عوامی رہنمائوں کی لوٹ مار‘ قانون شکنی‘ اقربا پروری‘ نالائقی‘ کرپشن ‘ کروڑوں روپوں کے ترقیاتی فنڈ ز اور قانون سازی کی ابجد سے ناواقفیت اور قانون سازی سے عدم دلچسپی کی اتنی مثالیں ہیں۔ ہزاروں نہیں لاکھوں مثالیں کہ وہ کالم کی تو کیا بساط شاید ایک کتاب میں بھی نہ سما سکیں۔ مجھے یہ خیال بھی بار بار آتا ہے کہ میں سورج کو چراغ دکھانے کی غلطی کا ارتکاب کیوں کر رہا ہوں۔ کروڑوں ہم وطنوں کو کیا بتائوں اور کیونکر بتائوں کہ اُن کے دکھوں کا ذمہ دار کون ہے؟ وہ یقینا اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہوں نے خونِ جگر جلا کر اپنے حقوق کی حفاظت کیلئے جنہیں نمائندگی کا فریضہ سونپا تھاوہ چوروں کے ساتھ مل گئے ہیں۔ شہری زمین کی خرید و فروخت اور دوائیوں کی فروخت سے لے کر گندم اور گنے کی فصلوں کی تجارت پر مجرموں کے اجارہ دار ٹولوں کا قبضہ ہے۔ وہ ٹولے اس لئے ناقابلِ تسخیر ہیں کہ ان کے ساتھی اور رفقائے کار (کاربھی وہ جو جرائم کے زمرے میں آتے ہوں) پارلیمنٹ کے دنوں ایوانوں پر قابض ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ بدقسمتی سے پارلیمانی نظام میں ہر حکومت اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کی تائید کی محتاج ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم اپنے گھنائونے ماضی اور بھتہ خوری کے علاوہ حکیم محمدسعید صاحب کے قتل اور سانحہ بلدیہ ٹائون میں 275 کارکنوں کو جلا کر راکھ کر دینے کے باوجود ہمیشہ شریک ِاقتدار رہی ۔ کیا اسے جمہوری نظام کہتے ہیں؟ کیا یہ ہوتی ہے ایک اسلامی جمہوریہ کی قانون ساز اسمبلی؟ کیا ایسے ہوتے ہیں فلاحی مملکت کے معیار؟ کیا یہ ہوتے ہیں ریاست مدینہ کے طور اطوار؟ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ہمارے ملک میں مارشل لاء لگا (جو چار بار لگا) توقومی اور صوبائی اسمبلیوں کے توڑے جانے پر ایک آنکھ بھی پرُنم نہ ہوئی۔ لوگوں نے سوچا اور بجا سوچاکہ خس کم جہاں پاک۔ آپ نے کبھی غور فرمایا کہ ایسا ہوا تو کیوں ہوا کہ ہر مارشل لا لگنے پر مٹھائیاں تقسیم ہوئیں اوربصد شوق کھائی گئیں؟ اگر عوامی نمائندے عوامی نمائندگی کا اخلاقی حق کھو بیٹھیں اگر اُن کی نالائقی اور کرپشن مل کر ہمارے قومی وجود کیلئے خطرہ بن جائے۔ اگر اتنی اندھیر نگری ہو کہ شیخ سعدی ؒ کے قول کے مطابق گری ہوئی برف کی بدولت پتھر تو منجمد اور ناقابلِ استعمال ہو جائیں اور لوگوں کو کاٹنے والے پاگل کتے آزاد پھرتے ہوں تو پھر ستائے ہوئے اور دکھوں کے مارے لوگ‘فاقہ کش‘ بے بس لاچار اور بے آواز لوگ نہ صرف آمران مطلق اور فسطائی حکمرانوں کو اپنی ٹوٹی ہوئی کمر پر کاٹھی ڈالنے کیلئے ووٹ دیتے ہیں بلکہ غیر ملکی سامراجیوں کو دعوتِ مداخلت بھی۔
مندرجہ بالا سطور تمام فاضل کالم نگاروں کیلئے لکھی گئی ہیں۔ آج کا سارا کالم اپنے برُی طرح جلے ہوئے جسم کے پھپھولوں پر روئی کے پھاہے رکھنے پر صرف ہوا۔ اگلے کالموں میں علاج تجویز کیا جائے گا۔ اُتنی دیر مین دھند‘ چار سُو پھیلی ہوئی دھند اور گہری ہو جائے گی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں