نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:نجی ایئرلائن کی پروازمیں مسافرکی خاتون فضائی میزبان سےبدتمیزی
  • بریکنگ :- نجی ایئرلائن کی پروازلاہورسےکراچی آرہی تھی
  • بریکنگ :- پائلٹ نےلینڈنگ سےقبل کنٹرول ٹاورسےرابطہ کرکےصورتحال سےآگاہ کیا
  • بریکنگ :- اےایس ایف کی مسافرکوحراست میں لینےکی کوشش،ملزم ہجوم کافائدہ اٹھاکرفرار
  • بریکنگ :- مسافرکےکوائف اورسی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی گئی،سی اےاے
  • بریکنگ :- کراچی:سول ایوی ایشن حکام نےمسافرکانام لاک لسٹ میں ڈال دیا،ذرائع
Coronavirus Updates

قراقرم کا پرندہ

نام تھاJohn Silvester ۔ ساری عمر بلند و بالا پہاڑوں پر Paraglide کرتے اور پرندوں کی طرح فضائوں میں اُڑتے گزری۔ 23 مئی کا دن چڑھا تو مذکورہ جان کے جسم کی نہیں بلکہ روح کی پرواز کی باری آگئی۔ اُس کا کردار ایک سادھو یا بھکشو جیسا تھا جس نے تمام دنیاوی ضرورتوں اور آسائشوں کو ترک کر دیا ہو۔یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پہلے کوہ پیمائی کی پھر Paragliding کے توسط سے پہاڑوں پر لمبی اور اُونچی پروازیں۔ پھر اس تجربہ پر کمال کی فلم بنائی۔ 2008 ء میں بنائی گئی فلم کا نام تھا:Birdman of the Karakoram۔ فلم نمائش کیلئے پیش کی گئی تو دیکھنے والوں نے داد و تحسین کے پھول برسائے۔ فلم میں نہ صرف دلفریب برفانی مناظر دکھائے گئے بلکہ ہنزہ وادی کے لوگوں کی ناقابل فراموش اور بے مثال مہمان نوازی کی قدرتی مناظر سے بھی زیادہ متاثر کرنے والی عکاسی۔ آپ کبھی قراقرم کی چوٹیوں کو دیکھ کر واہ واہ کہتے ہیں اور کبھی وہاں رہنے والے قابلِ صد احترام اور قابلِ فخر لوگوں کی مہمان نوازی دیکھ کراَش اَش کرتے ہیں۔
آپ مذکورہ بالا فلم دیکھیں تو وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ پرواز کرنے والوں کوپیش آنے والے سنگین خطرات کو دیکھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ تیرہ برس لندن میں یہ فلم نمائش کیلئے پیش کی گئی تو میرے مرحوم دوست Lord Aveburyکی سفارش پر مجھے بھی دعوت نامہ ملا۔ جان (جو اس فلم کا ہیرو تھا) ناقابل بیان انکساری سے سر جھکائے ہال کے ایک کونے میں پچھلی نشستوں پر بیٹھا تھا۔ دُبلا پتلا‘ بکھرے ہوئے بال‘ بے حد سادہ لباس۔ چہرے پر بچوں والی سادگی اور شرمیلی مسکراہٹ۔ نہ کوئی غرور نہ خودنمائی۔ میں نے اپنا تعارف کرایا تو جلدی سے اُٹھ کھڑا ہوا اور دیر تک میرا ہاتھ گرم جوشی سے تھامے رہا۔ میں نے مذاق سے کہا کہ آپ کی طرح میں نے بھی قراقرم کی چوٹیوں کو دورانِ پرواز دیکھا ہے۔ فرق یہ ہے کہ آپ اپنے Gliderپر پرواز کر رہے تھے اور میں PIA کے جہاز پر بطور مسافر۔ جان نے مجھے بتایا کہ وہ 1987 ء میں پہلی بار پاکستان گیا تھا تاکہ Lady Finger Peak کے جنوب مشرق میں 18 ہزار فٹ بلند پہاڑی پر کوہ پیمائی کرتے ہوئے چڑھنے کا کارنامہ سرانجام دیا جا سکے۔ اس میں ناکامی ہوئی تو جان وہاں اگلے سال پھر گیا مگر اس بار اُس کے سامان میں پیرا شوٹ بھی تھی۔ اُس نے چوٹی سر کرنے کی دوسری کوشش کی۔ پھر ناکامی ہوئی تو اُس نے پیرا شوٹ استعمال کرتے ہوئے چھلانگ لگا دی اور مرتے مرتے بچا۔ وہ آسمان سے گرا تو کھجور ( گلیشیر) میں اٹک گیا۔ ہم نے تو یہ محاورہ کتابوں میں پڑھا مگر یہ جان کی ہڈ بیتی ہے۔
کریم آباد کی وادی میں خرابی بسیار کے بعد پہنچا تو مہمانوں کی بے تکلف مہمان نوازی نے اُس کا اتنی محبت اور اپنائیت سے استقبال کیا کہ مہمان اُن کا نمناک آنکھوں سے ذکر کرتا اور اُن کی خیر خیریت کی دعائیں مانگتے اور اپنی نیک تمنائوں کا بار بار اظہار کرتے تھکتا نہ تھا۔ اس تاریخی ملاقات کا دورانیہ دو منٹ سے زیادہ نہ ہوگا۔ تیرہ برس بھی گزر چکے ہیں۔ آنکھیں بند کروں تو جان نظر آتا ہے۔ اُس کی دھیمی‘دوستانہ آواز کانوں میں گونجتی ہے۔ بدقسمتی سے جان کو ورثے میں نہ صرف نحیف و نزار جسم بلکہ ایک غیر صحت مند دل بھی ملا۔ جسمانی کمزوری پر تو اُس نے اپنی بے خوفی اور بہادری سے غلبہ پالیا مگر دل کا جانا ٹھہر گیا تھا۔ وہ 23 مئی کو چلتے چلتے رک گیا۔ جونہی گوشۂ گمنامی میں رہنے والے کوہ پیما اور کوہ ہمالیہ کی بلندیوں پر گیارہ پروازیں (روزانہ 30 سے لے کر 60 میل) کرنے والے اور عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے پیراگلائیڈر کی 61 برس کی عمر میں وفات کی خبر نشر ہوئی تو برطانیہ میں صف ِماتم بچھ گئی۔ اخبارات میں تعزیت نامے لکھے گئے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ماتمی اجلاس منعقد نہ ہو سکے مگر Timesجیسے بڑے اخبار نے لکھا کہ اس کی وفات سے برطانیہ ایک بہادر‘ بلند ہمت‘ اعلیٰ درجے کے کوہ پیما اور عظیم انسان سے محروم ہو گیا۔ ٹیلی وژن کے ایک انٹر ویو کے دوران اُس سے پوچھا گیا کہ اُس کی وہ کون سی خواہش ہے جو ابھی اُس کی دل میں بطور ارمان مچل رہی ہے مگر وہ اُسے سب سے زیادہ خوشی دے سکتی ہے؟ جان نے بے ساختہ جواب دیا ''کاشتکاری کا پیشہ اپنانا تاکہ جب میں صبح کو جاگوں تو میں زمین کھود کر وہ آلو نکال سکوں جو میں شام کو کھانا چاہتا ہوں۔ ‘‘
آج کے کالم کے دوسرے حصے میں ہم اپنے وطن کی طرف چلتے ہیں۔ شمال مغربی پنجاب کے اُس علاقے کو جسے پوٹھوہار کہتے ہیں۔ اٹک ‘ جہلم‘ راولپنڈی اور چکوال کے اضلاح جغرافیائی طور پر اُن چھوٹی پہاڑیوں کی وجہ سے پنجاب کے میدانی علاقوں سے جداگانہ شناخت رکھتے ہیں جو دامن کوہ (Foot Hills) کے زمرہ میں آتے ہیں۔ پوٹھوہار نے قبل مسیح سکندر اعظم کی حملہ آور فوج کے خلاف میدان جنگ میں اُترنے والے راجہ پورس کو جنم دیا‘ وہ جنگ تو ہار گیا مگر اپنی بہادری کی وجہ سے تاریخ پر اپنا لازوال مقام بنا گیا۔ راجہ پورس کی اس قابلِ فخر روایت کو جن دو قبائل نے زندہ رکھا وہ ہیں گگھڑ اور جنجوعہ ہیں۔ اُنہیں بجا طور پر مردانِ کوہستان کہا جا سکتا ہے۔کالم نگار اپنی زندگی کے آخری سالوں میں جو کتابیں لکھنا چاہتا ہے ان میں سے ایک گگھڑ قبیلہ پر ہوگی۔ آج راجہ حسن اختر زندہ ہوتے تو میرا کام کتنا آسان ہو جاتا۔ آپ جانتے ہوں گے کہ غوری شاہی خاندان کا ایک فرد انہی گگھڑوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا بھلا ہو کہ اُنہیں جب پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے سے فرصت ملی تو اُنہوں نے اس قتل ہو جانے والے غوری بادشاہ کی کچی قبر پر مزار تعمیر کروایا۔
جنجوعہ قبیلہ سے میرا ذاتی تعلق جناب ایم کے (محمد خان) جنجوعہ مرحوم کی وجہ سے قائم ہوا۔ برطانیہ میں قیام کے پہلے گیارہ برس (1967 تا 78ء ) اُن کی بزرگانہ شفقت کے سایہ میں گزرے۔ پاکستان بنا تو وہ ایئر کموڈور تھے او رپاک فضائیہ کے سینئر ترین افسران میں سے ایک۔ راولپنڈی سازش کیس میں ملوث ہونے کے الزام میں قید کی سزا پائی۔ سابق چیف آف سٹاف آف آصف جنجوعہ مرحوم اُن کے قریبی عزیز تھے۔ میرے برطانیہ آنے سے سات برس قبل 1960 ء میں کالم نگار کے والدین صحرائے تھل کے کنارے ایک شہر جوہرآباد میں آباد ہوئے تو میری وہاں رہنے والے تین بڑے اچھے شاعروں سے دوستی ہوئی۔ ایک تھے شکیب جلالی اور دوسرے تھے احمد ہمیش اور اُن دونوں کے استاد تھے۔ ملک عبدالغفور (جوہر نظامی)۔ ان کا ایک بیٹا (حسن اختر جلیل مرحوم میرا ہم عصر تھا۔) صحرائے تھل کے کنارے آباد نخلستان کو چھوڑے ہوئے 54 سال گزر چکے۔ وہاں اب میری والدہ مرحومہ اور چھوٹابھائی جاوید ابدی نیند سو رہے ہیں اور یہ رشتہ جوہرآباد سے قریبی تعلق قائم رکھنے کیلئے کافی ہے۔ آپ میری حیرت اور خوشی کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ جب جوہرنظامی مرحوم کے ایک ہونہار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹے راجہ صفدر حسین صاحب نے اپنی لکھی ہوئی ایک بڑی اچھی کتاب (تاریخِ جنجوعہ) مجھے تحفتاً بھیجی توبندئہ صحرائی کا بوڑھا دل مردِ کوہستانی کیلئے تشکرکے جذبات سے کس قدر بھر گیا ہوگا۔ میں نے یہ کتاب رات جاگ کر پڑھی۔ جب سویا تو پوٹھوہار کے حسین خواب دیکھے۔ صبح دیر سے جاگا تو محسوس ہوا کہ جنجوعہ قبیلے کی صدیوں پر پھیلی ہوئی بہادری کی داستانوں کا مطالعہ پیکرِ خاکی میں وہ جاں پیدا کرسکتا ہے جو سچائی‘ حق و انصاف اور مساوات کیلئے عمر بھر جدوجہد کرنے والے کے ترکش کا پہلا تیر ہوگا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں