نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سابق کپتان محمد حفیظ کا کرس گیل کےبیان کاخیرمقدم
  • بریکنگ :- ویسٹ انڈیزچیمپئن کےلیےپاکستان سےڈھیرساری محبتیں،محمدحفیظ
Coronavirus Updates

چوہدری رحمت علی: تاریخ پاکستان کا گم گشتہ کردار

آج ہم چوہدری رحمت علی سے ملیں گے جنہوں نے 16 نومبر1897 ء کو پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے ایک گائوں بالا چور میں درمیانے درجے کے کاشتکار گوجرگھرانے میں آنکھ کھولی اور36 سال کی عمر میں ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کی آنکھیں کھول دیں۔ ہم نہیں جانتے کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سفید پوش والدین نے اپنے ذہین بچے کو کس طرح برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ رحمت علی نے انگلستان جانے سے قبل ہوشیار پور میں کہاں تعلیم حاصل کی۔ تاریخ کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ اُنہوں نے 1940 ء میں Cambridge سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اُنہوں نے بی اے کی ڈگری بھی کیمبرج سے حاصل کی۔1943 ء میں رحمت علی بیرسٹر بنے۔ وہ Middle Temple Inn کے رکن تھے۔ اُنہوں نے 28 جنوری 1933 ء کو اپنا شہرہ آفاق پمفلٹNow or Never (اب یا کبھی نہیں) انگلستان میں قیام کے دوران شائع کیا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم شروع کرنے سے کئی برس پہلے برطانیہ آ گئے تھے۔ لاکھوں طالب علموں کی طرح اُنہوں نے غالباً کئی سال محنت مزدوری کر کے اتنی رقم پس انداز کر لی کہ اپنی فیس اور رہائش کے اخراجات ادا کر سکیں۔ میرے دوستوں عبداللہ ملک (مرحوم) اور احمد سلیم کا بھلا ہو کہ اُنہوں نے افسانوی شہرت کے اعلیٰ سرکاری افسر مسعود کھدر پوش پر کمال کی کتاب لکھی تو اُس کاتیسرا باب مسعود صاحب کی رحمت علی سے انگلستان میں ملاقاتوں اور ان میں ہونے والی بحثوں کی تفصیل بیان کرنے کیلئے وقف کر دیا۔ چوہدری رحمت علی نے اپنے مذکورہ بالا کتابچہ میں ہندوستان میں (پاکستان کے نام سے) آزاد اور خود مختارریاست کے قیام کے حق میں دلائل دیے تھے۔ مسعود کھدر پوش گورنمنٹ کالج لاہور میں طالب علمی کے دوران یہ کتابچہ پڑھ چکے تھے اور اس کے مندرجات سے بے حد متاثر تھے اور یہ لکھنے والے کو دل و جان سے اتنا چاہتے تھے کہ 1949 ء میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے انگلستان پہنچے تو اوّلین فرصت میں چوہدری رحمت علی سے ملنے گئے۔ چوہدری رحمت علی 1940 ء میں کراچی آئے۔ احمد سلیم لکھتے ہیں کہ پروگرام کے مطابق اُنہیں لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں وہ تاریخی قرار داد پیش کرنا تھی جو بعد میں ''قرار دادِ پاکستان‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی لیکن نامعلوم وجوہ کی بنا پر رحمت علی لاہور میں ہونے والے تاریخی اجلاس میں شریک ہوئے بغیر واپس انگلستان چلے گئے اور یہ قرار داد شیرِ بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ 1948 ء میں (قائداعظم کی وفات کے بعد) پاکستان آئے تو مسلم لیگی قیادت سے مایوس ہو کر انگلستان واپس چلے گئے۔ مسعود کھدر پوش کراچی میں ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز تھے مگر وہاں ان پرانے دوستوں کی ملاقات نہ ہوسکی۔ دو برس بعد مسعود صاحب انگلستان دوبارہ گئے تو اُنہیں چوہدری رحمت علی سے کئی ملاقاتوں کا موقع ملا۔ مسعود صاحب کی لکھی ہوئی یادداشتوں کے مطابق رحمت علی پاکستان پر برطانوی / امریکی بلاک کی بالا دستی کے شدید مخالف تھے اور چاہتے تھے کہ پاکستان روس (سوویت یونین) کا قریبی حلیف بن جائے۔ رحمت علی کو روس کے دورہ کی سرکاری دعوت بھی ملی تھی جسے وہ خرابیٔ صحت کی وجہ سے قبول نہ کر سکے۔
1930 ء اور 1932 ء میں برطانوی حکومت نے لندن میں مسلم لیگ اور کانگریس کے رہنمائوں سے تین مفصل ملاقاتیں کیں جو گول میز کانفرنس کہلاتی ہیں۔ پہلی کانفرنس 28 نومبر1930 ء سے لے کر 19 جنوری 1931 ء تک ہوئی۔ دوسری 7 ستمبر سے یکم دسمبر1931 ء تک اور تیسری 17 نومبر سے 24 دسمبر1932 ء تک۔ گول میز کانفرنس کو اتنی اہمیت دی گئی کہ پہلے سیشن کا افتتاح بادشاہ جارج پنجم نے کیا۔ ہندوستانی وفد پانچ افراد پر مشتمل تھا اور سر آغا خان اس کے قائد تھے۔ اس سیشن کے دوران چھ ہزار میل دور الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس سے علامہ اقبال مخاطب ہوئے۔ دوسرے سیشن میں علامہ اقبال اور پنڈت موہن مالویہ اور مہاتما گاندھی (کانگریس کے واحد ترجمان) شریک ہوئے۔ دوسرا سیشن ختم ہوا اور اقبال ہندوستان لوٹ کر آئے تو اُنہوں نے مسلمانوں کے نمائندوں (خصوصاً حیدر آباد دکن کے وزیراعظم سر اکبر حیدری) اور برطانوی حکومت کے وزراء پر کڑی تنقید کی۔ قائداعظم کو آخری سیشن میں شرکت کی دعوت نہ دی گئی تھی چونکہ وہ اپنا 14 نکاتی پروگرام پیش کر چکے تھے جو برطانوی حکومت کو قابلِ قبول نہ تھا۔ چوہدری رحمت علی گول میز کانفرنس کے ہر سیشن میں سرگرم عمل رہے اور مسلم لیگی رہنمائوں کو سمجھاتے تھے کہ وہ کسی صورت کانگریس کے پلان (متحدہ ہندوستان) کو قبول نہ کریں۔ تاریخی ریکارڈ گواہی دیتا ہے کہ گول میز کانفرنس کے انعقاد کے دنوں میں قائداعظم پاکستان کو ایک ایسا خواب سمجھتے تھے جس کی عملی تعبیر ممکن نظر نہیں آتی تھی۔ قائداعظم کے اس بیان پر کاتب تقدیر مسکراتا ہوگا کہ یہ بات کہنے والا نہیں جانتا کہ نہ صرف 15 برس بعد پاکستان بن جائے گا بلکہ اسی شخص کے ہاتھوں بنے گا اوریہی اس کا پہلا سربراہِ مملکت ہوگا۔ یہ سطور پڑھنے والے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ رحمت علی کے مجوزہ پاکستان پلان پر فرقہ پرست‘ تنگ نظر اور متعصب ہندو رہنما اور اخبارات کتنے ناراض ہوئے ہوں گے اور اُنہوں نے کتنے سخت الفاظ میں رحمت علی کے نظریات کی مذمت کی ہوگی۔ ابھی وہ آتش زیر پا اور غصے کی آگ میں جل رہے تھے کہ رحمت علی نے ایک دوسرا (اور اتنا ہی مدلل) کتابچہ شائع کر دیا۔ چار برس بعد (1937ء میں) عالمی سطح پر قابل صد احترام Encyclopedia of Islamشائع ہوا تو اُس میں چوہدری رحمت علی کا تذکرہ بھی شامل تھا جو ایک بہت بڑا اعزاز تھا اور یقینا رحمت علی کی تالیفِ قلب کا موجب بنا ہوگا۔
بیسویں صدی کے پہلے حصے کے مسلمان رہنمائوں کی طرح چوہدری رحمت علی عبادت گزار مسلمان تھے۔ ناک نقشہ سے درست چہرہ پر چھوٹی داڑھی اور سر پر تُرکی ٹوپی۔ دل میں ہندی مسلمانوں کیلئے بے پناہ خیر خواہی کا جذبہ مگر دماغ میں مایوسی‘ تلخی اورخدشات۔ رحمت علی نے بیرسٹر ہونے کے باوجود انگلستان میں بطور وکیل کبھی کوئی ایسا مقدمہ نہیں لڑا جس کا اب سرکاری ریکارڈ میں سراغ لگایا جا سکے۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ انگلستان میں اُن کا ذریعہ آمدنی کیا تھا؟ ہمیں مسعود کھدر پوش بتاتے ہیں کہ ایک نحیف و نزار کھانستی ہوئی (غالباً تپ دق کی مریضہ) ادھیڑ عمر انگریز عورت بطور سیکرٹری اور باورچن ان کا خیال رکھتی تھی مگر رحمت علی اُسے جاسوس سمجھتے تھے اور اُس کی طرف سے بہت بدگمان رہتے تھے۔ اس خاتون نے رحمت علی کی جو خدمت کی وہ اپنی جگہ مگر اُس نے رحمت علی کو تپ دق کا مریض بنا کر ہروقت کھانسنے والا بنا دیا۔ یہ خاتون ہسپتال میں داخل ہوئی تو رحمت علی کو ایک ایسے گھر منتقل ہونا پڑا جہاں اس کی رحم دل مالکہ ان سے دو کمروں اور کھانے کے بدلے صرف تین پائونڈ کرایہ لیتی تھی۔
رحمت علی پر خدا کی رحمت ہو کہ اُنہوں نے غربت‘ بیماری‘ تنہائی‘ بے بسی اور بے کسی اور غیر مقبولیت کے باوجود وہ پرچم (جو اُنہوں نے تن تنہا 1933ء میں بلند کیا تھا) تین فروری 1951 ء کو دنیا سے رخصت ہونے تک اُٹھائے رکھا۔ ہمت اور بہادری سے‘ اولوالعزمی سے‘ نیک نیتی سے‘ ہر قسم کے مفاد سے بالاتر ہو کر۔ بقول اقبالؔ‘ وہ میرِکارواں تھے جس کا رختِ سفر کیا ہوتا ہے؟ نگاہِ بلند‘ سخن دلنواز‘ جان پرُ سوز۔کالم نگار شرمسار ہے کہ وہ دلی خواہش کے باوجود کئی سالوں سے لندن سے صرف دو گھنٹوں کا سفر کر کے کیمبرج جا کررحمت علی کی قبر پر پھول رکھنے اور جنت میں ان کے درجات کی بلندی کی دعا مانگنے کی سعادت حاصل نہیں کر سکا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں