نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- جنرل مکینزی کی امریکی سینیٹ کی آرمڈسروسزکمیٹی کوبریفنگ
  • بریکنگ :- افغانستان کی طرف سےپاکستان پردباؤبڑھ سکتاہے،امریکی کمانڈرسینٹرل کمانڈ
  • بریکنگ :- آنےوالےدنوں میں پاکستان کےلیےمشکلات میں اضافہ ہوسکتاہے،جنرل مکینزی
  • بریکنگ :- امریکی فوج افغانستان میں رہنی چاہیےتھی،جنرل مکینزی
  • بریکنگ :- امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ
  • بریکنگ :- ایک سال کےدوران القاعدہ کےحملےکاخدشہ ہے،جنرل مارک ملی
  • بریکنگ :- القاعدہ دوبارہ منظم ہوکرامریکاپرحملہ آورہوسکتی ہے،جنرل مارک ملی
  • بریکنگ :- ایک سال قبل کہاتھاجلدبازی میں نکل گئےتوطالبان حکومت میں آسکتےہیں،جنرل مارک
Coronavirus Updates

بھولی بسری شخصیت‘راجہ صاحب محمود آباد

بھارت کے صوبہ اُتر پردیش (راج کے دنوں میں United Provinceیعنی U.P ) میں ایک ریاست‘ پانچ سو سے زائدداخلی طور پر خود مختار ریاستوں میں سے ایک۔ کالم نگار اپنی اس ناکامی کا اعتراف کرتا ہے کہ اُسے پتا نہیں چل سکا کہ یہ ریاست مغلیہ دور کی پیداوار تھی یا انگریزوں نے اپنے وفادار جاگیرداروں کو جنگ آزادی کے بعد جو انعام دیے تھے‘ یہ اُن میں سے ایک تھی۔ اگر محمد امیر احمد خاں نامی شخص محمود آباد کا راجہ نہ ہوتا اور آل انڈیا مسلم لیگ کے (پاکستان بن جانے تک) خزانچی کا وہ عہدہ قبول نہ کرتا جو انگریزی محاورے کے مطابقThankless Job کے زمرے میں آتا ہے تو ہم محمود آباد کا نام کبھی نہ سنتے۔ محمد امیر احمد کی وجہ سے اُن کے والد راجہ محمد علی محمد خاں کو بھی اتنی شہرت ملی کہ مورخین نے ہمیں یہ بتانا ضروری سمجھا کہ جب قائد اعظم محمد علی جناح کی رتی بائی سے شادی ہوئی تو رسم نکاح جن گواہوں کی موجودگی میں سرانجام پائی اُن میں سے ایک وہ بھی تھے۔
راجہ محمد امیر احمد صاحب 1914ء میں محمود آباد میں پیدا ہوئے۔ 59 برس عمر پائی اور 1973ء میں لندن میں فوت ہوئے جہاں وہ 1967ء کے بعد مستقل طو رپر رہنے لگے تھے۔ تعلیم کے تمام مدارج لکھنؤ ہی میں ہوئے۔ اگر لیاقت علی خاںقائداعظم کا ایک بازو تھے تو راجہ صاحب محمود آباد دوسرا۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ محمود آباد اتنی خوشحال ریاست تھی کہ اُس کے حکمران کا شمار بڑے دولتمند افراد میں ہوتا تھا۔ راجہ صاحب نے مسلم لیگ کے خزانہ کو اپنی دولت کا اتنا بڑاحصہ برس ہا برس بطور عطیہ دیا کہ وہ بالکل قلاش ہو گئے۔ جب پاکستان بن گیا تو راجہ صاحب کے ہاتھ سے محمود آباد کی ریاست بھی جاتی رہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان میں ایک انچ زمین الاٹ نہ کرائی نہ کوئی کارخانہ لگایا‘ نہ کسی قسم کا مالی فائدہ اُٹھایا‘نہ کوئی پرمٹ حاصل کیا‘ نہ کوئی سرکاری عہدہ لیا‘ نہ سفارت و وزارت۔ وہ سیاست سے ریٹائر ہو کر گوشہ نشین ہو گئے۔ وہ ملک جس کے بنانے میں اُن کا کردار ہر اول دستے کے چوٹی کے رہنمائوں میں تھا‘ بن گیا تو وہ اپنے خواب اور ٹوٹا ہوا دل اور پُرنم آنکھوں سے پاکستان سے رضا کارانہ جلا وطن ہو کر برطانیہ جا بسے اور دیارِ غیر میں ابدی نیند سوگئے۔
1935 ء کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت 1937 ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے اور وہ بھی جداگانہ حلقہ بندیوں کی بنیاد پر (ہندوئوں اور مسلمانوں کے حلقہ انتخابات جداگانہ تھے)۔ مسلم انتخابی حلقوں کی کل تعداد 489 تھی جن میں سے مسلم لیگ کو 104 نشستیں ملیں۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ مسلم لیگ ان صوبوں میں‘ جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی‘ ہارگئی اور ہندو اکثریت والے صوبوں میں اس کا ریکارڈ مقابلتاً بہتر رہا۔ لیاقت علی خان 12 اپریل1936 ء کو مسلم لیگ کے اعزازی جنرل سیکرٹری چنے گئے مگر صرف سات ماہ بعد (11 نومبر1936 ء کو) اُنہوں نے مسلم لیگ کے پارلیمانی بورڈ سے استعفیٰ دے دیا تو انتخابات میں بطور آزاد امیدوار حصہ لیا۔ مسلم لیگ الیکشن ہار کر بھی حزب مخالف کے بینچوں پر بیٹھنے کیلئے رضا مند نہ تھی اور صوبائی کابینہ میں حصہ دار بننا چاہتی تھی۔ مشکل یہ آن پڑی کہ کانگرس زمینداری نظام کو جڑ سے اُکھاڑنا چاہتی تھی جبکہ مسلم لیگ زرعی اصلاحات سے ایک قدم آگے بڑھنے کو تیار نہ تھی۔ انگریز گورنر نے اپنی سیاسی جماعت ( Agriculturist Party ) کے سر پر اقتدار کا تاج رکھا۔ وزیر اعلیٰ نواب آف چھتاری بنالیے گئے۔ اُنہوں نے مسلم لیگ کو اپنی حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی جسے صرف اقلیتی ارکانِ اسمبلی کی تائید حاصل تھی مگر لیاقت علی خان نہ مانے۔ گورنر نے مجبور ہو کر کانگرس کو وزارت سازی کی دعوت دی جو اُس نے قبول کر لی مگر اُس میں مسلم لیگ کو شامل نہ کیا گیا۔ یہاں پہلی دراڑ پڑی۔ مسلمان بچوں کو بھی سکولوں میں چندر چیٹرجی کا لکھا ہوا گیت (بندے ماترم) گانا پڑا تو ناراضی اور بڑھی۔ ستم بالائے ستم کہ سکولوں میں اُردو کے بجائے ہندی پڑھائی جانے لگی۔ ہندو مسلم فسادات کی آگ بھڑک اُٹھی۔ مسلمانوں کی شکایات‘ گلے شکوئوں،امتیازی سلوک‘ زیادتیوں اور ناانصافیوں کا پٹارہ کھل گیا۔ یہ تھے حالات جن کے پس منظر میں 15 سے لے کر 18 اکتوبر1937 ء تک لکھنؤ میں مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس منعقد ہوا۔ راجہ صاحب آف محمود آباد میزبان تھے‘ اُنہوں نے اپنی جیب سے 30 لاکھ روپے خرچ کئے۔ راجہ صاحب نے نہ صرف مالی بوجھ اُٹھایا بلکہ آگرہ اور مظفر نگر کے گائوں گائوں جا کر اتنے لوگوں کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی کہ جب قائداعظم تشریف لائے تو اُن کے استقبالی جلوس نے تین میل کا فاصلہ چار گھنٹے میں طے کیا۔ 1937 ء کے سال کا سورج طلوع ہوا تو مسلم لیگ کی سیاسی پوزیشن بہت کمزور تھی مگر ماہِ اکتوبر تک اس کا ستارہ گردش سے نکل آیا اور اُس کے بعد مسلم لیگ نے مڑ کر پیچھے نہ دیکھا۔ اس تاریخ کا رُخ موڑ دینے کا سہرا بجا طور پر راجہ آف محمود آباد کے سر باندھا جا سکتا ہے۔
قائداعظم کی ہمالہ جتنی بلند خوبیوں میں مردم شناسی بھی شامل تھی مگر وہ بے حد کفایت شعار تھے۔ بہت کم لوگوں کو گھر چائے پر بلاتے تھے۔ قائداعظم اپنی روایت کے برعکس زندگی کی جس سب سے بڑی دعوت میں میزبان بنے وہ راجہ صاحب کے اعزاز میں دی گئی۔ مہمانوں کی تعداد 400تھی۔ میزبان نے اپنے مہمان کی شان میں جو قصیدہ پڑھا وہ بے مثال ہے مگر بدقسمتی سے اس دن سے قائداعظم اور اُن کے قابل اعتماد اور پیارے ساتھی کے راستے جدا ہونے لگے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ محمود آباد یوپی کی سب سے بڑی جاگیر تھی مگر اُس کا راجہ اسلامی سوشلزم کی بات کرتا تھا۔ وہ مساوات‘ انصاف اور احترامِ آدمیت کا علمبردار تھا۔ وہ ایک عوام دوست‘غیر منصفانہ اورEgalitarianنظام کے خواب کی پاکستان میں عملی تعبیر دیکھنا چاہتا تھا۔1946ء کے فسادات کے بعد راجہ صاحب صوبہ سرحد گئے جہاں اُنہوں نے ہتھیار خریدے تاکہ وہ مسلمانوں کو اپنے دفاع کیلئے دیے جا سکیں تو قائداعظم کی پیشانی پر غصے کی کئی لکیریں اُبھریں اور اُنہوں نے راجہ صاحب کی سخت الفاظ میں سرزنش کی۔14 اگست1947ء کو راجہ صاحب کراچی سے سو میل کے فاصلے پر حیدر آباد سندھ میں تھے‘ وہ جشن آزادی میں شریک نہ ہوسکے‘ بعد میںوہ عراق چلے گئے۔ دس برس بعد پاکستان لوٹے‘ یہاں دس برس رہے اور پھربرطانیہ چلے گئے اور وہاں سے اگلے جہان۔ راجہ صاحب نے مسلم لیگ کے اندر رہتے ہوئے 1961 ء میں اپنی اسلامی پارٹی بنا لی۔ نظریاتی اختلافات اپنی جگہ مگر قائداعظم نے روزنامہ ڈان کی صورت میں مسلم لیگ کا ترجمان شائع کرنے کا پلان بنایا تو ایک بار پھر راجہ صاحب پیش پیش تھے۔
اسکندر مرزا‘ ایوب خان اور یحییٰ خان نے اُنہیں بڑے بڑے عہدوں کی پیشکش کی مگر درویش صفت‘ صوفی مزاج‘ اُصول پسند‘باضمیر اور انجیل مقدس کے الفاظ میں Salt of the Earth کے قدم نہ ڈگمگائے۔ 19 مارچ 1958 ء کو اُنہوں نے کراچی میں مہاجروں کے ایک بہت بڑے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اُنہیں کھری کھری سناتے ہوئے کہا بنگالی اور پنجابی نہیں بلکہ وہ نسلی اور علاقائی تعصب کا زہر پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔ راجہ صاحب بسترمرگ پر تھے تو اُنہیں بھوپال کی شہزادی عابدہ سلطان ملنے گئیں۔ راجہ صاحب کے آخری الفاظ یہ تھے ''میری ساری عمر انگریزوں کے خلاف لڑتے گزری اور آج میں اپنی زندگی کے آخری سانس ان کے مہربان ہاتھوں میں لے رہا ہوں‘‘۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں