نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پاک بھارت ٹاکرا،بابراعظم کی قومی اسکواڈکی حوصلہ افزائی
  • بریکنگ :- ورلڈکپ جیتناہے،صرف یہ مائنڈسیٹ رکھیں،بابراعظم
  • بریکنگ :- مثبت رہیں اورمثبت کھیلیں،کپتان بابراعظم
  • بریکنگ :- گیم کوانجوائےکریں،بابراعظم کی کھلاڑیوں کوتلقین
Coronavirus Updates

بھولی بسری شخصیات…چار چشتی

آج کے کالم کی ابتدا جس ہستی کے ذکر سے کیا جاتا ہے اُن کا اسم گرامی تھا سید معین الدین اجمیریؒ، جو صوفیاکے سلسلہ چشتیہ کے بانی اور سربراہ تھے۔ 1141ء میں وہ جہاں پیدا ہوئے اس جگہ کا نام چشت تھا۔ اُنہوں نے 75 سال عمر پائی اور 1236ء میں اجمیر میں وفات پائی۔ قریباً نو سو برس گزر گئے مگر اُن کے مزار پر زائرین کا ہجوم ایک لمحہ کیلئے کم نہیں ہوتا۔ کالم نگار کو ان کے مزار پر حاضری دینے کی سعادت تین بار حاصل ہوئی۔ اجمیر شریف میں تو ہر سال اُن کا عرس بہت دھوم دھام سے منایا جاتا ہے مگر کتنے دکھ کی بات ہے کہ پاکستان میں اُن کے اعزاز میں کبھی ایک تقریب بھی منعقد نہیں کی جاتی۔ مجھے لگتا ہے کہ نئی نسل تو اُن کے نام اور کام سے بھی واقف نہ ہوگی۔ کیا یہ قصور پرانی نسل کا نہیں؟ خواجہ صاحبؒ سیستان کے علاقے سنجرستان میں پلے بڑھے۔ حضرت عثمان ہارونیؒ کے شاگرد بنے۔ روحانی تربیت ابراہیم قلندرؒ سے حاصل کی جن سے متاثر ہو کر وہ دنیاوی مال و اسباب سے بے نیاز ہو گئے۔ اوائل عمر میں حج کا فریضہ ادا کیا۔ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ہندوستان کب ‘ کس کے ساتھ او رکن حالات میں تشریف لائے۔ اجمیر کو مستقل ٹھکانہ بنانے سے پہلے‘ وہ کچھ سال دہلی رہے۔ جہاں تاریخی روایات کے مطابق اُنہوں نے سات سو ہندوئوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔ خواجہ صاحبؒ کی تعلیم کی بنیاد انسان دوستی‘ نرمی‘ رحم دلی‘ ہمدردی‘ بقائے باہم اور دل و دماغ کو ہر قسم کے تعصب کے زہر سے پاک کرنے پر تھی۔ اُن کی نظر میں ذات پات‘ رنگ و نسل اور مذہبی تفریق بالکل بے معنی تھی۔ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ مسلمان بادشاہوں (تغلق خاندان) کو خواجہ صاحب جیسے بزرگان دین اور روحانی رہنمائوں کی مقبولیت اور عوام سے قربت برُی طرح کھٹکتی تھی اور وہ ان کے در پے آزار رہتے تھے۔ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ (1175 تا 1265) خواجہ صاحبؒ کے قریباً ہم عصر تھے۔ خواجہ صاحب اتنی سخاوت کرتے تھے اور ذاتی عسرت کے باوجود ضرورت مندوں کی اتنی مدد کرتے تھے کہ خواجہ غریب نواز کہلاتے۔ اُن کی وفات کے بعد ہندوستان پر خوش قسمتی سے دو بڑی روحانی شخصیات کا مبارک سایہ رہا‘ حضرت نظام الدین اولیاءؒ (1238 تا 1324 ) اور خواجہ نصیر الدینؒ (1277 تا 1356)جو چراغِ دہلی کہلائے۔ موخر الذکر کو سلطان محمد تغلق نے تشدد کا نشانہ بنایا مگر وہ اس کے دربار میں حاضری پر رضا مند نہ ہوئے۔ ملتان میں ایک بڑے روحانی بزرگ شیخ بہاء الدین زکریاؒ (1182 تا 1262 ) بھی خواجہ صاحبؒ کے ہم عصر تھے مگر وہ بغداد میں حضرت شہاب الدین سہروردیؒ کی خدمت میں حاضر ی دے کر صوفیا کے دوسرے بڑے روحانی سلسلہ (سہروردی) سے منسلک ہوئے۔ خواجہ صاحبؒ کی عظمت کا راز یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی تفریق اور امتیاز سے بالاتر ہو کر بنی نوع انسان کی خدمت کو عبادت پر ترجیح دیتے تھے۔ اُنہوں نے خداوندتعالیٰ کو اُس کے بنائے ہوئے بندوں سے محبت اور اُن کی خدمت کے توسط سے پہچانا اور اپنے خالق کے محبوب بنے۔ صرف خالق کے نہیں مخلوق کے بھی۔ نو سو سال بعد بھی اور یقینا قیامت تک۔
میں 1952 ء میں لائل پور میں رہنے لگا تھا۔ میرے مرحوم والد صاحب وہاں ڈاکٹر تھے۔ گورنمنٹ کالج نزد دھوبی گھاٹ میں داخل ہوا۔ وہاں کسی سماجی تقریب میں جس شخص سے تعارف ہوا اُس کا نام اعجاز چشتی تھا۔ اُنہوں نے سرگودھا روڈ پر مائی دی جھگی کے علاقہ میں ایک پرائمری سکول کی بنیاد رکھی تھی جس کا نام جامعہ چشتیہ رکھا گیا۔ میں بھی رضا کارانہ طور پر پڑھانے والے اساتذہ میں شامل ہو گیا۔ یہ خدمت دو سال سرانجام دی۔ اُس وقت پرائمری سکول کا نام جامعہ چشتیہ مضحکہ خیز لگتا تھا مگر خوشی کی بات ہے کہ اب وہ کامیاب کالج بن گیا ہے۔ میں نے اپنی طویل زندگی میں اعجاز چشتی صاحب سے زیادہ ذہین اور باشعور لوگ بہت کم دیکھے ہیں۔ صد افسوس کہ جواں مرگ نے انہیں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع نہ دیا۔ وہ لائل پور بلدیہ کے بطور کونسلررکن بنے۔ صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں بھی حصہ لیا مگر سہگل خاندان کے ایک فرد سے شکست کھائی۔ اُن کے دو بھائی ذہانت میں اُن سے بھی دو قدم آگے تھے۔ ایک تھے جناب ریاض عرفی اور دوسرے تھے پروفیسر افتخار چشتی صاحب۔ کالم نگار ان تینوں کی مغفرت کیلئے دعاگو ہے۔ وہ تینوں میرے محسن ہیں۔ انہوں نے میری ذہنی تربیت میں جو کردار ادا کیا اُس کا احسان اُتارا نہیں جا سکتا۔ یہ صرف ایک احسان کی بات نہیں‘ میرے خیال میں ہر احسان اتنا منفرد ہوتا ہے کہ اُسے اتارنا ممکن نہیں ہوتا۔ احسان اتارنے کی ترکیب ہی غیر منطقی‘ غیر عقلی اور غیر شریفانہ ہے۔ وہ وزن یا بوجھ نہیں کہ اُتارا جا سکے۔ وہ ایک مقدس امانت ہے اور ہر شخص کا سب سے قیمتی سرمایہ۔
اب ہم جس تیسرے چشتی کی طرف چلتے ہیں۔ اُن کا نام ہے فیض علی چشتی۔ 13جون 1927ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول سے حاصل کی اور فیروز پور کے رام سُکھ داس کالج میں پائی۔ 1946 ء میں فوج میں بھرتی ہوئے اور اگلے برس توپ چلانے کی تربیت حاصل کر کے برطانوی فوج میں کمیشن افسر بنے۔ 1965 ء اور 1971 ء کی پاک بھارت جنگوں میں حصہ لیا۔ بھٹو صاحب کے دورِ حکومت میں وہ راولپنڈی کے کور کمانڈر تھے۔ ڈاکٹر عائشہ جلال کی مرتب کردہ کتاب کے صفحہ نمبر89 کے پہلے کالم کی سطور (12تا14) کے مطابق وہ اُس سازش کے مرکزی کردار تھے جس نے بھٹو صاحب کو اقتدار سے محروم کر کے مارشل لا لگایا ۔وہ ضیاء الحق کے قریب ترین ساتھیوں میں سے تھے۔ وہ اپنی کتاب ''بھٹو‘ ضیا اور میں ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جنرل ضیا اُنہیں اپنا مرشد کہتے تھے۔ وہ جنرل ضیا الحق کی کابینہ کے تین برس رکن بھی رہے‘ مگر ان کی کتاب کے پانچ سو صفحات پڑھنے کے بعد بھی یہ پتا نہیں چلتا کہ مرشد اور مرید میں وجۂ اختلاف کیا تھی؟
چوتھے اور اس کالم کے آخری چشتی گمنامی کے معیار پر پورا اُترتے ہیں۔ اُن کا نام غیر رواجی تھا اور وہ تھا محرم علی۔ 1861 ء میں پیدا ہوئے۔ 73 برس کی عمر پا کر 1934 ء میں فوت ہوئے۔ وہ بیک وقت وکیل‘ صحافی اور سیاست دان تھے۔ لاہور کے ایک متمول گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔43سال وکالت کی۔ ''رفیق ہند‘‘ کے نام سے اُردو اخبار نکالا جس کے وہ مدیر بھی تھے۔ وہ قوم پرست تھے۔ شروع میں کانگریس کے حامی رہے اور سرسید احمد خان کے مخالف۔ 1920 ء میں پنجاب قانون ساز کونسل کے انتخابات میں ملک برکت علی کو شکست دے کر قانون ساز کے رکن بنے۔ بعد ازاں وہ مسلم لیگی بن گئے اور اتنے ہی پکے جتنے کانگریسی تھے۔ وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر 1937 ء اور 1945 ء کے انتخابات میں بھی کامیاب رہے۔ اُنہوں نے عدیم الفرصتی کے باوجود ایک کتاب بھی لکھی ‘نام تھا'' اسلامی زندگی کے دنیاوی پہلو‘‘۔ موصوف سے زیادہ یہ کتاب لکھنے کا کون اہل ہو سکتا تھا جو اچھے مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی میں بھی اتنے ہی کامیاب رہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں