نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ثاقب نثارکاہرلفظ گزشتہ چندسال میں ہونیوالےواقعات سےمطابقت رکھتاہے،مریم نواز
  • بریکنگ :- یہی واقعات ثبوت ہیں جن سےثاقب نثارانکارنہیں کرسکتے،مریم نواز
  • بریکنگ :- دنیاکی کوئی عدالت ان واقعات کوجھٹلانہیں سکتی،مریم نواز
  • بریکنگ :- حساب اورجواب تودیناپڑےگا،نائب صدر(ن) لیگ مریم نواز
Coronavirus Updates

تریاق کی تلاش…(1)

تریاق کا لفظ شیخ سعدیؒ کے لکھے ہوئے مقولہ میں استعمال ہوا جو اب محاورہ کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ سانپ کے زہر کا علاج تریاق کہلاتا ہے جو عراق میں دستیاب ہوتا تھا۔ مذکورہ بالا لفظ فارسی زبان کا ہے اور اُردو میں اس کا کوئی نعم البدل نہیں‘ مگر آج کے کالم کا مقصد اس لفظ کو آپ سے متعارف کرانا نہیں بلکہ آپ کی توجہ اُس دوڑ کی طرف دلانا ہے جو گھڑی اور مریض کی بگڑتی ہوئی حالت میں ہو رہی ہے۔ شیخ سعدیؒ نے فرمایا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عراق سے تریاق منگوانے میں اتنی دیر ہو جائے کہ سانپ کا کاٹا ہوا مر جائے۔ لگتا ہے کہ صدیوں قبل جب ایرانی شاعر‘ داستان گو‘ مفکر اور حکیم نے اتنا قیمتی مشورہ قلمبند کیا تھا اور اُسے اپنے شاہکار مجموعہ کلام (گلستان اور بوستان) کا حصہ بنایا تھا تو اُن کے مخاطب میرے ہم وطن یعنی اہل پاکستان تھے۔ اُونٹ کی طرح ہماری کوئی کل سیدھی نہیں۔ قیام پاکستان کے وقت (74 سال پہلے) ہمیں دو صدیوں پر پھیلے ہوئے برطانوی نوآبادیاتی راج سے ورثہ میں بہت کچھ ملا تھا۔ ایک وہ تھا جو اتنا مفید تھاکہ ہمیں اُسے نہ صرف برقرار‘ قائم و دائم‘ زندہ و تابندہ رکھنا چاہئے تھا بلکہ اسے ہر قیمت پر خوب سے خوب تر بنانا چاہئے تھا۔ اس صف میں ریلوے کا نظام‘ دیانتدار‘ قابل اور باکردار لوگوں پر مشتمل سول سروس‘ اُنہی خوبیوں کی مالک عدلیہ‘ نظام تعلیم‘ نظام صحت‘ اعلیٰ معیار کا امن و امان‘ ناقابل تصور شہری‘ صفائی اور مقامی روایات کا احترام شامل کر سکتے ہیں۔ یہ تو تھا تصویر کا ایک رُخ جو روشن ہے‘ خوبصورت ہے‘ دلکش اور دلفریب ہے‘ مگر ایک دوسرا رُخ بھی ہے جو ایک آزاد مملکت کیلئے ہرگز قابل قبول نہیں ہونا چاہئے۔ وہ ہے انگریزی زبان کا طوطی بولنا‘ انگریزی زبان بولنے والوں کی بالادستی۔ عام آدمیوں (90 فیصد آبادی) کا درجہ شہری کا نہیں بلکہ وہ جو ایک غلام ملک میں رعایا کا ہوتا ہے۔ سرکاری ملازمین کا رعایا کا خدمت گزار ہونے کے بجائے اُن کا حاکم ہونا جو عوام کو جانوروں کا ریوڑ سمجھ کر اُنہیں ڈنڈے کے زور پر ہانکنے کو بہترین طرزِ حکمرانی سمجھتے ہیں۔ ہر چڑھتے ہوئے سورج کی پرستش کرنا۔ شیشہ گران فرنگ کے احسان اُٹھانے کو اپنی خوش بختی اور سعادت مندی سمجھنا۔ لکیر کے فقیر بنے رہنا۔ بقول اقبال آئین نو سے ڈرنا اور طرزِ کہن پر اُڑنا۔ دورِ غلامی کے فرسودہ‘ گلے سڑے اورعوام دُشمن نظام کو جوں کا توں قائم رکھنا۔ کتنا بڑا المیہ ہے یہ کہ ہمیں انگریز سے ورثے میں ملی ہوئی جن اچھی چیزوں کو سنبھال کر رکھنا اور بہتر بنانا چاہئے تھا‘ ہم نے اُن کا حلیہ بگاڑ دیا (مثال کے طور پر ریلوے‘ سرکاری سکول اور کالج‘ عدالتیں‘ سرکاری ہسپتال) اور جن چیزوں کو جلد از جلد ختم کر دینا چاہئے تھا‘ اُنہیں خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی پیشانی (جو شرمندگی کے پسینہ سے شرابور بھی نہیں) کا جھومر بنا کر رکھا ہے۔ ہم نے ہر ہتھکڑی‘ پائوں کی ہر بیڑی اور دورِغلامی کی نشانی کو اپنے سَروں (جنہیں احساس ندامت سے جھکا ہونا چاہئے تھا) پر کلغی بنا کر سجایا ہوا ہے۔ ریلوے‘ سکولوں‘ کالجوں‘ یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں سے لے کر پولیس‘ محکمہ مال اور نظام عدل تک سب نالائقی‘ بدعنوانی اور کرپشن کے سرطان کے مریض بن چکے ہیں۔ ہم نے تین بار آئین بنائے: 1956‘ 1961 اور 1973 میں اور ہر بار 1935کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کا چربہ بڑی دھوم دھام سے (پرانے برتن پر قلعی پھیر کر) اپنایا۔ لاکھ جتن کے باوجود یہ ہمیں سلطانیٔ جمہور‘ قانون کی حکمرانی‘ انصاف اور مساوات سے ہزاروں میل دُور ہونے سے بچا نہیں پایا۔
برطانوی راج ان گنت مظالم سے داغ دار ہے‘ جنوبی ہند میں موپلہ بغاوت اور سندھ میں ہاری بغاوت کو کچلنے سے لے کر قصہ خوانی بازار اور جلیانوالہ باغ میں قتل عام تک‘ مگر اُس میں نہ کوئی رائو انوار تھا اور نہ عابد باکسر۔ کراچی تھا مگر اُس میں کوئی سانحہ کراچی (12 مئی 2007ء) رُونما نہ ہوا۔ ساہیوال کا نام اگرچہ منٹگمری (جو اُس کے انگریز فاتح کا نام تھا) تھا مگر اُس میں ایک معصوم اور بے گناہ گھرانہ کے سرِعام قتل کا کوئی سانحہ رُونما نہ ہوا۔ سر گنگا رام کا بنایا ہوا ماڈل ٹائون تھا مگر سانحہ ماڈل ٹائون کبھی رُونما نہ ہوا۔ برطانوی راج میں لوگ گھروں میں لکڑیاں‘ کوئلے اور اُپلے جلا کر کھانا پکا لیتے تھے‘ ہزاروں سالوں میں ایک بھی چولہا اس وجہ سے ٹھنڈا نہ ہوا کہ آگ جلانے کا سامان ناپید تھا۔ گرمیوں میں موسم (میرے ہم عمر لوگ) دن کو ہاتھ کے پنکھے کی بدولت اور رات کو چھت پر سو کر بخوبی گزار لیتے تھے۔ جتنی بجلی کی کھپت ہوتی تھی اُتنی انگریزپیدا کر لیتا تھا۔ اگر میرا حافظہ میرا ساتھ دے رہا ہے تو میں وثوق سے لکھ سکتا ہوں کہ ہمارے ملک میں توانائی کا بحران ماضی قریب میں پیدا ہوا۔ داغدار اُجالے کے 74 برسوں کے پہلے نصف حصے میں ہمارے نظامِ حکومت کا بھرم باقی تھا۔ نہ گیس کی کمی تھی‘ نہ بجلی کی اور نہ پینے کے صاف پانی کی۔ آپ پشاور سے کراچی تک ریل کا سفر (جام شہادت نوش کئے بغیر) مکمل کر لیتے تھے۔ نہ لینڈ مافیا تھا اور نہ گندم مافیا اور نہ شوگر مافیا۔ پروفیسر غفور احمد‘ مولوی فرید احمد‘ غوث بخش بزنجو‘ ڈاکٹر مبشر حسن‘ میر علی احمد تالپور‘ رسول بخش تالپور‘ مولوی تمیزالدین خاں‘ معراج خالد‘ حسین شہید سہرودی اور میاں محمود علی قصوری جیسے بڑے لوگ قومی اسمبلی کے رُکن ہوتے تھے جبکہ میاں افتخارالدین‘ میاں عبدالباری اور سائیکل چلانے والے درویش صفت ایم حمزہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے رُکن تھے۔ بلوچستان کے رہنما نواب اکبر بگتی اور سردار عطااللہ خان مینگل تھے۔ پختون خوا کے عبدالولی خان اور مفتی محمود صاحبان۔ اب آپ آج کے اراکین اسمبلی کو دیکھیں۔ ایسی بلندی کے بعد ایسی پستی۔ چار سُو نظر دوڑائیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ ریل کی پٹڑی اُکھڑ گئی۔ میو ہسپتال لاہور میں چوکیدار آپریشن کرنے لگا۔ لاہور میں قانون دانوں نے قلبی امراض کے ہسپتال اور اسلام آباد میں عدالت پر دھاوا بول دیا۔ بچے مین ہول میں گر کر ہلاک ہونے لگے۔ بارش کے سیلابی پانی میں چلنے والوں کو بجلی کے کھمبوں نے مار ڈالا۔ جج صاحبان حصول انصاف کی خاطر خودسائل بن گئے۔ ایک چیف جسٹس نے دو بار (بالکل غیر قانونی طور پر) برطرف ہو کر گھر میں نظر بند ہونے کا عذاب سہا۔ دو وائس چانسلر گرفتار ہوئے اور ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کئے گئے۔ کراچی اور سندھ کا جو برُا حال ہے‘ وہ آپ چیف جسٹس کے (15 جون کی کارروائی میں) عدالتی تبصرے میں خود پڑھ لیں۔ وہی ملک جو پہلے (امریکی اشیرباد سے) افغانستان میں رُوس کے خلاف جہاد کرنے والوں کا سرپرست بنا‘ پھر (وہی امریکہ کے حکم پر) افغان طالبان پر جارحانہ حملہ کرنے والوں کا ممدومعاون بنا۔ (غالب کی طرح) کعبہ ہمارے پیچھے ہے تو کلیسا ہم آگے۔ ہمارے ایک طرف افغانستان وسط میں ایران اور دُوسری طرف سعودی عرب کے حلیف ہیں۔ عالمی سیاست کی بساط پر چین اور امریکہ (دو متحارب قوتوں) کے بہترین دوست ہیں۔ انگریزی محاورہ کے مطابق ہم خرگوش اور شکاری کتے کے ساتھ بیک وقت بھاگ رہے ہیں۔ کیا اسے حکمت کہتے ہیں یا دانش مندی؟ عاقبت اندیشی یا معاملہ فہمی؟ پاکستان نہ کسی عسکری قوت نے بنایا تھا‘ نہ ہی سرکاری افسروں نے۔ پاکستان عوام نے‘ کاشتکاروں نے‘ محنت کشوں نے‘ متوسط طبقہ نے‘ علی گڑھ اور اسلامیہ کالج (لاہور اور پشاور) کے طلباء نے اور پیر صاحب مانکی شریف جیسے مذہبی رہنمائوں نے بنایا اور وہ بھی ایک سال میں۔ ایک عظیم رہنما اور بجا طور پر قائداعظم کہلانے والے شخص کی قیادت میں جس ملک کو عوام نے بنایا تھا۔ وہی اسے بچائیں گے۔ وُہی اس کی اصلاح کریں گے۔ وہی اسے ہر مافیا سے خون چوسنے والی ہر جونک سے ۔ ہر Dracula اور ہر غلاظت سے پاک کریں گے۔ (جاری)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں