پانی کی آگ خون سے بھی نہ بجھے گی!

انہتر برس پہلے جس بے سروسامانی کے عالم میں مملکت خداداد پاکستان کا قیام عمل میں آیا، وہ اب ایک مکمل تاریخ ہے اور کسی سے کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں۔سرزمینِ ہندوستان کی باقاعدہ تقسیم کے باوجود وسائل کی منصفانہ تو کجا غیر منصفانہ تقسیم بھی عمل میں نہ آسکی اور بھارت بلا شرکت غیرے متحدہ ہندوستان کے وسائل کا مالک بن بیٹھا۔مادی وسائل تو ایک جانب رہے، بھارت نے قدرتی وسائل پر بھی مختلف بہانوں کے ساتھ قبضہ جمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ قیام پاکستان کے وقت پنجاب کی تقسیم میں ایک منظم ''سازش‘‘ کے تحت ناصرف غیرمنصفانہ طور پر بھارت کو کشمیر کیلئے راستہ دیا گیا بلکہ پاکستان میں آنے والے دریاؤ ں کے ہیڈ ورکس بھی بھارتی علاقے میں رکھے گئے۔ پاکستان کے ساتھ ''آبی‘‘ چھیڑ خانی بھارت نے تقسیم کے فورا بعد ہی شروع کردی تھی، یوں بھارت نے اپریل 1948ء میں پاکستان کا پانی مکمل طور پر بند کر دیا، حتیٰ کہ کچھ عرصہ کیلئے پاکستان کو بھارت سے پانی خریدنا بھی پڑا۔ پاکستان کو بنجر بنانے کی خواہش اس قدر منہ زور تھی کہ بھارت کسی طرح بھی دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے عالمی قوانین کو تسلیم کرنے پر رضامند نہ تھا۔ پاکستان نے ہیگ میں قائم عالمی عدالت میں معاملہ لے جانا چاہا تو بھارت اپنے کمزور مقدمہ کی وجہ سے ہیگ جانے پر بھی تیار نہ ہوا۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے انتہائی شاطر دماغ پایا تھا۔ اِسی شاطر دماغ کو استعمال کرتے ہوئے جواہر لعل نہرو نے پانی کے مسئلے پر سے توجہ ہٹانے کیلئے 1948ء میں کشمیر پر لڑی جانے والی پہلی پاک بھارت جنگ رکوانے کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کیااور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کرکے جنگ بندی میں کامیابی حاصل کرلی لیکن پانی کا مسئلہ پھر بھی جوں کا توں ہی رہا۔ 
ورلڈ بینک جیسے مختلف عالمی اداروں نے معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے مختلف تجاویز پیش کیں، لیکن بھارت تمام تجاویز سے کنی کتراگیا۔ 1955ء میں اُس وقت کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے دور میں دریائی پانی کے مسئلے پر نوبت جنگ کی دھمکیوں تک جاپہنچی اور مزید کئی ماہ و سال اِسی تنازع کی نذر ہوگئے۔ آخر کار ورلڈ بینک نے ''انڈس واٹر ٹریٹی‘‘ کے نام سے خود ایک پلان تیار کرکے پیش کیا، یہ پلان صریحاً بھارت کے مفاد میں زیادہ تھا۔ پاکستان اِس معاہدے پر دل سے آمادہ نہ تھالیکن جواہر لعل نہرو نے پاکستان کے پہلے فوجی حکمران ایوب خان کو شیشے میں اُتار کرآبی وسائل کی تقسیم کا سندھ طاس معاہدہ کرہی لیا۔ ستمبر 1960ء میں طے پانے والے اس معاہدہ کے مطابق تین مشرقی دریاؤں بیاس،راوی اور ستلج کا کنٹرول بھارت کے پاس چلا گیاجبکہ تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا ۔اس معاہدے میں شروع سے ہی کئی فنی اور جیوگرافیکل نقائص موجود تھے۔ مثال کے طور پر پاکستان کے وہ علاقے جو مشرقی دریاؤں سے سیراب ہوتے تھے، اُن میں پانی کی کمی دور کرنے کیلئے مغربی دریاؤں کے پانی کو مشرقی دریاؤں کی طرف موڑدیا گیا۔ اس مقصد کیلئے دو بڑے ڈیم تربیلا اور منگلا، پانچ بیراج اور سات لنک کنال بنائی گئیں جبکہ مغربی دریا جو پاکستان کے حصے میں آئے، اُن میں بھارت کو یہ سہولت دی گئی کہ جب تک وہ بھارت سے بہہ رہے ہیں، بھارت کو گھریلو استعمال، زراعت اور پن بجلی کی پیداوار کیلئے اُن کے استعمال کی اجازت دے دی گئی۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کی تقسیم منصفانہ اور مساویانہ ہونے کی بجائے بھارت کے حق میں زیادہ تھی لیکن اس کے باوجود سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق کبھی عمل نہیں ہوا۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت نے اس معاہدے سے زیادہ فائدہ اٹھایا، جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ بھارت کے ساتھ پانی کے معاملات پر گہری نظر نہ رکھی گئی اور بھارت کو کھلی چھوٹ دی جاتی رہی۔ معاہدے کے مطابق جن تین مشرقی دریاؤں کا پانی بھارت کو الاٹ کیا گیا تھا، اُن میں سے ساڑھے 45ہزار ایکڑ فٹ پانی پاکستان استعمال کر سکتا ہے ۔ دوسری طرف دریائے سندھ، جہلم اور چناب سے 80فیصد پانی پاکستان کو حاصل ہوتا ہے اور بھارت 1.343ملین ایکڑ فٹ پانی زراعت اور دیگر مقاصد جبکہ 2.85ملین ایکڑ فٹ پانی بجلی بنانے کیلئے استعمال کر سکتا ہے، لیکن بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی شرائط سے تجاوز کرتے ہوئے 10ہزار ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کیلئے اِن دریاؤں پر پانچ متنازع ڈیموں کی تعمیر شروع کردی۔ جن میں سے وولر بیراج تین دہائیوں سے رکا ہوا ہے۔ بگلیہارڈیم کا ڈیزائن پاکستان کے اعتراض پر تبدیل کرنا پڑا اور کشن گنگا ڈیم کا معاملہ بھی عالمی ثالثی عدالت میں ہے۔
زمینی عدالتوں کے فیصلے تو نجانے کب آئیں گے لیکن برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد آسمانی عدالت نے ظلم کی چکی میں پستے کشمیریوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے جو آگ بھڑکائی ہے، اُسے بجھانے کی بجائے مودی سرکار بہانے بہانے سے مزید تیل چھڑکے چلے جارہی ہے۔ پہلے اُڑی میں فوجی ہیڈکوارٹر پر حملے کو بنیاد بناکر پاکستان کو دھمکانے کی کوشش کی گئی، لیکن جب بھارتی آرمی چیف نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں تو مودی سرکار کا جنگی جنون جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اب مودی سرکار کے سر پر سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا جنون سوار ہوگیا ہے، لیکن معاہدے کی جزئیات سامنے آنے پر ناصرف بھارتی سپریم کورٹ نے کیس سننے سے انکار کردیا ہے بلکہ ماہرین نے مہاجن سرکار کو خوب آڑے ہاتھوں بھی لیا ہے کہ جس معاہدے کا ضامن عالمی بینک ہے، بھارت اُس سے روگردانی نہیں کرسکتا۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی خواہش میں معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے قانونی پہلوؤں پر بلائے گئے اجلاس میں آبی وسائل کی وزیر اوما بھارتی نے شرکت ہی نہ کی اور مودی جی کو ''تنہا‘‘ اجلاس کرنا پڑا۔ 
قارئین کرام!! بھارت پاکستانی حصے کے دریاؤں کا پانی روک کر اِس ملک کو ایتھوپیا بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے، تاکہ اس ملک کی زمینیں فصلیں اگانا بھول جائیں اور یہاں کے لوگ اناج کے دانے دانے کو ترس کر رہ جائیں۔ لیکن بھارتی سرکار کو غالبا یہ معلوم نہیں کہ دریا کسے کہتے ہیں؟ ہر بہنے والا پانی دریا نہیں ہوتا۔ بھارتی حکمران کسی جغرافیہ دان سے ہی پوچھ لیں کہ دریا کے معنی کیا ہوتے ہیں؟دریا اپنا راستہ خود بناتے ہیں اور انسان لاکھ کوشش کے باوجود دریاؤں کو اپنی مرضی کے مطابق بہنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ پاکستان سے گزرنے والے دریاؤں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی چھیڑخانی نریندر مودی کو ایٹمی جنگ سے زیادہ مہنگی پڑسکتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم پانی کے مسئلے پر آگ کا جوکھیل کھیل رہے ہیں، شاید نریندر مودی نہیں جانتے کہ آگ تو پانی سے بجھ جاتی ہے لیکن پانی کی آگ خون سے بھی نہ بجھے گی! 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں