شہدأ کی قربانیوں کا بھرم!

یہ تو یقینی ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ انشاء اللہ ہر حال میں مکمل ہوکر رہنا ہے اور یہ بھی یقینی ہے کہ ترقی کی اِس راہداری کے ذریعے ناصرف چینی مصنوعات نے کم وقت اور کم فاصلے سے ہوتے ہوئے مغربی دنیا تک پہنچنا ہے بلکہ اِسی راہداری کے ذریعے سے پاکستان سمیت پورے خطے کی تقدیر بھی بدلنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جانب جہاں اس منصوبے کی جلد تکمیل کیلئے کروڑوں لوگوں کی دعائیں شاملِ حال ہیں تو وہیں بہت سے بدخواہ نہیں چاہتے کہ اس راہداری کے ذریعے اُن کی سرداریوں اور چودہراہٹوں کیلئے چیلنجز پیدا ہوں۔ اِن بدخواہوں میں علاقائی اور عالمی ''تھانیدار‘‘ بھی شامل ہیں اور مقامی غنڈے بھی موجود ہیں۔ ایسے ہی بدخواہوں نے ناصرف پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ کے متعلق بہت سے افسانے تراش رکھے ہیں بلکہ گوادر بندرگاہ کے بارے میں بھی منفی پراپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔ دشمن کے منفی ہتھکنڈوں اور علاقے میں منافرت کے بیج بونے کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بلوچستان میں واقعی احساس محرومی پایا جاتا ہے۔گزشتہ پندرہ برس میں آنے والی کوئی بھی حکومت اس تاثر کو ختم نہیں کرسکی کہ جو انفرا سٹرکچر بلوچستان میں قائم ہو رہا ہے، اس میں بھی بلوچوں کا استحصال کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کا منفی پراپیگنڈا اس وقت بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے اور بلوچستان میں انفرا سٹرکچر پر حملوں کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اداروں پر بھی حملے ہورہے ہیں۔ مکران ڈویژن، جہاں گوادر بندگاہ ہے، اُسے گزشتہ برسوں میں شورش کا مرکز بنانے کی کوشش اور پہلے سے موجود انفرا سٹرکچر اور تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ کئی غیرملکی ایجنسیاں بلوچستان میں سرگرم ہیں اور اِن ایجنسیوں کی اس وقت جو زیادہ سرگرمیاں محسوس کی جاسکتی ہیں وہ بھی گوادر منصوبے کو روکنے کے لیے ہیں۔ 
اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں کہ گوادر بندرگاہ اور سی پیک منصوبے مکمل ہو گئے تو بھی بلوچستان کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ الزام اس اعتراض کی حمایت میں یہ لگایا جاتا ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو تکنیکی تعلیم فراہم نہیں کی گئی اور گوادر پورٹ پر سرگرمیاں شروع ہوئے کئی سال ہوچکے ہیں لیکن بندرگاہ کے انفراسٹرکچر اور انتظام میں کہیں مقامی بلوچ شامل نہیں ہیں، دلیل تو یہ بھی دی جاتی ہے کہ گوادر کا منصوبہ شروع ہونے کے بعد ابھی تک اگر بلوچ تکنیکی ماہرین کی کوئی تربیت یافتہ ٹیم بلوچستان میں دستیاب نہیں ہے ، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ حکومت کی پالیسی میں خامیاں ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اِن خامیوں پر قابو پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو بڑے تعلیمی و تربیتی اداروں میں تربیت دلوائی جائے۔ انہیں پورٹ قاسم لے جایا جائے تاکہ گوادر کی بندرگاہ میں بلوچ نوجوانوں کے لیے بھی مواقع پیدا ہوں۔اگر بلوچ نوجوانوں کو مواقع نہیں ملتے تو وہ گوادر پورٹ کو اسلام آباد اور چین کی طرف سے نو آبادی قائم کرنے کی کوشش تصور کریں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو اس منصوبے کا حصہ بنانے کے لیے نوکریاں دے کر اُن میں احساس ملکیت (اونرشپ کا احساس) پیدا کیا جائے۔ طویل مدت میں اس منصوبے کے فوائد بلوچ آبادی کو بھی جائیں گے اور دیگر صوبوں سے آکر آباد ہونے والوں کو بھی ملیں گے، اس لیے ضروری ہے کہ سی پیک منصوبے اور گوادر بندرگاہ پرترقیاتی کام تیزی سے مکمل کیے جائیں۔ اس کے علاوہ امن و امان کی صورتحال کی بہتری کے لیے بھی مقامی بلوچوں کی نمائندگی ضروری ہے، جس کیلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان کی مقامی آبادی کو گوادر کی بندرگاہ کے معاملات چلانے اور شرپسندی کے خلاف کارروائیوں کی تربیت بھی دی جائے اور کارروائیوں میں شامل بھی کیا جائے۔
یہ سب کچھ بالکل بجا ہے ! یقینا ایسا ہی ہونا چاہیے،لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ بلوچستان کیلئے ابھی تک کچھ کیا ہی نہ گیا ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ کچھ برسوں سے حکومتوں کی یہ پالیسی رہی ہے کہ دو سو سے ایک ہزار بلوچی طلباء بلوچستان سے باہر دوسرے صوبوں کے تعلیمی اداروں میں لائے جاتے ہیں تاکہ انہیں سائنس اور انجینئرنگ کے مضامین کی تعلیم اور تربیت دی جائے۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ ایک وقت ایسا آئے جب بلوچستان میں اتنا انسانی سرمایہ اور تکنیکی مہارت جمع ہوجائے کہ باہر کی افرادی قوت پر انحصار کم ہوجائے۔ یقینا گوادر کی بندرگاہ کی صورت میں بلوچستان میں ایسا مرکز بھی ہوگا جہاں وہ تکنیکی اور انسانی سرمایہ کام آئے گا تو قدرتی طور پر ایک دوسرے پر انحصار بڑھے گا اور بلوچستان کو اس سے یقینا سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔
جہاں ایک جانب گوادر بندرگاہ سے متعلق بلوچوں میں احساس ملکیت پیدا کرنے کیلئے دشمن کے منفی پراپیگنڈا کا توڑ ضروری ہے، تو وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ جو لوگ پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ کے معاملے کو اچھال رہے ہیں، اُنہیں مدلل انداز میں سمجھایا جائے۔ اس سوال کے جواب میں کہ گوادر سے کاشغر جانے والی سڑک کا مجوزہ روٹ صرف سندھ اور پنجاب سے کیوں گزرے گا؟روٹس کے معاملے پر سی پیک کی مخالفت کرنے والوں کو سمجھایا جانا چاہیے کہ جو روٹ پہلے بن رہے ہیں، اُن کا فیصلہ صرف تکنیکی وجوہات پر کیا گیا ہے، کیونکہ جب ایسے معاشی روٹ بنتے ہیں تو ارد گرد کے علاقوں کے ساتھ رابطے کے لئے سڑکیں اور نقل و حمل کے ذرائع پیدا ہو جاتے ہیں، چونکہ مغربی روٹ کا بہت سا حصہ پہلے سے موجود ہے، اسی لیے جلد معاشی فوائد اٹھانے کیلئے اسے پہلے مکمل کرنا بھی ضروری ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں صرف چین کی 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہی شامل نہیں ہے بلکہ اس منصوبے کی بنیادوں میں سکیورٹی اداروں کے جوانوں اور پاکستانی عوام کے اُن ہزاروں شہداء کا خون بھی شامل ہے، جو گزشتہ پندرہ برسوں میںکہیں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے، کہیں بدامنی کا شکار ہوئے تو کہیں ٹارگٹ کلنگ میں جان سے گئے۔ یہ اُن شہدا کا خون تھا، جنہوں نے کسی لالچ میں اپنی جانیں قربان کی تھیں نہ ہی انہیں یہ تمنا تھی کہ اُن کے بعد اُن کے مزار بنیں گے،بلکہ وطن سے محبت اور وفا کو نبھانے والے یہ وہ لوگ تھے، جو روشن صبح کی امید میں تاریک راہوں میں مارے گئے! اُن شہداء کو آس تھی تو بس اتنی سی کہ اِن تاریک راہوں کے دوسرے کنارے پر قوم کا روشن مستقبل موجود ہے۔اُن شہدا کے بعد ہماری ذمہ داری اب صرف اتنی سی ہے کہ شہداء کی قربانیوں کا بھرم رکھتے ہوئے باہمی اختلافات بھلاکر پاک چین اقتصادی راہداری کو کامیاب بنانے کیلئے تن، من اور دھن ایک کردیں۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں