کیا اس میں کوئی شک ہے کہ گزشتہ تین سال میں بالخصوص پاکستان نے پوری دنیا سے زیادہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوشش کی ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارت کے ساتھ ایل او سی اور سرحدی تناؤ کے باوجود پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں ہونے والی ''ہارٹ آف ایشیا‘‘ کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا، جس کابنیادی مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات متاثر نہ ہوں، لیکن افغان صدر اشرف غنی بھارت میں افغانستان سے زیادہ بھارت کی زبان بولتے رہے، جو افسوسناک ہی نہیں بلکہ قابل مذمت بھی تھی۔ اوقات تو بھارت نے بھی دکھائی کہ میزبان ہونے کے باوجود پاکستانی وفد کے ساتھ امرتسر میں انتہائی بدسلوکی کا مظاہرہ کیا گیا، جس ہوٹل میں پاکستانی وفد کا قیام تھا وہاں کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔حد تو یہ ہے کہ مشیر خارجہ کو بھارت میں پریس کانفرنس کرنے دی گئی نہ ہی پاکستانی میڈیا کو پاکستانی ہائی کمشنر سے ملاقات یا گفتگو کرنے کی اجازت دی گئی۔ ایک موقع پر جب بھارتی سکیورٹی حکام نے روکا تو پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط خان نے اُسے باقاعدہ جھاڑ پلادی جس پر وہ افسر کھسیانا ہوکر وہاں سے چل دیا۔ دوسری جانب ''ہارٹ آف ایشیا‘‘ کانفرنس کے دوران بھارتی میڈیا نے لشکرِ طیبہ،جیشِ محمد اور حقانی نیٹ ورک کے بارے میں بات کر کے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔
بھارت پاکستان کے ساتھ سینگ پھنسانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، حالانکہ سفارتی محاذ کے علاوہ بھارت پاکستان کے خلاف میدان جنگ میں بھی چار دفعہ باقاعدہ سامنے آچکا ہے، لیکن ہر بار عملی طور پر ہزیمت کے سوا بھارت کے حصے میں کچھ نہیں آیا۔ بھارت نے جنگ عظیم دوم کے بعد چھمب اور چونڈہ میں پاکستان کے خلاف ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی لڑ کر بھی دیکھ لی۔ اس لڑائی میں پاکستانی فوج کے شیر دل جوانوں نے سینکڑوں بھارتی ٹینک تباہ کرکے اپنی پیشہ ورانہ برتری کی دھاک بٹھادی تھی۔بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل ریٹائرڈپی سی لال نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ ''1965ء کی جنگ میں بھارتی بری فوج اور بھارتی فضائیہ کے درمیان کوآرڈینیشن کی کمی کی واضح طور پر محسوس کی گئی۔ ایک جانب بھارتی بری فوج نے بھارتی فضائیہ کو اپنے وار پلان سے آگاہ ہی نہیں کیا تو دوسری جانب بھارتی وزارت دفاع اور بھارتی بری فوج نے جو ''وار پلان‘‘ تیار کیا تھا، اس میں بھارتی فضائیہ کا کوئی کردارسرے سے رکھا ہی نہ گیا تھا۔ بھارتی بری فوج کا ادارہ جاتی برتری کا یہی خناس اُسے لے ڈوبا‘‘۔دوسری جانب پاکستانی بری فوج اور پاک فضائیہ کے مثالی کوارڈینیشن اور جوابی جنگی حکمت عملی نے بھارت کو ناکوں چنے چبوادیے تھے۔پاک فضائیہ کے ہونہار سپوت ایم ایم عالم نے سیسنا جیسے فرسودہ جنگی طیارے میں بیٹھ کر بھی شجاعت اور جوانمردی کی ایسی داستانیں رقم کیں جورہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔یوں پاکستانی جوانوں نے انتہائی بے سرو سامانی کے عالم میں بھی جرأت و بہادری کی وہ درخشاں مثالیں قائم کیں جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔
پچاس سال پہلے بھی بھارتی فوج کو یہی وہم اور زعم تھا وہ راتوں رات پاکستان کے اہم علاقوں پر قبضہ کرلے گی ، لیکن یہ شاید اُس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ شیر سویا ہوا ہو تو پھر بھی شیر ہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جونہی اس شیر کو پتہ چلا کہ اس کی کچھار پر حملہ کردیا گیا ہے تو فوج تو فوج، عام شہری بھی سروں پر کفن باندھ کر دشمن سے بھڑ گئے۔ جسموں سے بم باندھ کر ٹینک اڑانے کے ایسے ناقابل فراموش واقعات نے جنم لیا جو حربی تاریخ نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ ہندو بنیے نے مذموم عزائم کے ساتھ پاک دھرتی کا رُخ کیا تو اسے اندازہ نہ تھا کہ پاکستانی سپوت اپنے وطن کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ بھارت کو معلوم نہ تھا کہ پاکستانی اپنی جان وار دیتے ہیں لیکن وطن پر آنچ نہیں آنے دیتے۔طاقت کے نشے میں چور بھارت جو پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لئے آیا تھا ، خود ناکامی اور خجالت کا بد نما داغ اپنے سینے پر سجا کر واپس لوٹ گیا۔رات کی تاریکی میں بزدلوں کی طرح حملہ کرتے وقت بھارت بھول گیا تھا کہ جو زمین شہداء کے لہو سے سیراب ہوتی ہے وہ بڑی زرخیز اور بڑی شاداب ہوتی ہے۔
بھارت کا برتری کا زعم پچاس سال بعد بھی ختم نہیں ہوا۔ اسی زعم کی وجہ سے بھارت نے کشمیر کو گزشتہ ستر برس سے دنیا کی سب سے بڑی جیل بناکر رکھا ہوا ہے اور ایل او سی پر مسلسل آگ اور گولہ و بارود کی بارش کیے جارہا ہے، لیکن بھارت کی اس واضح جارحیت کے باوجود پاکستانی قوم کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ کشمیری ہوں یا پاکستانی، حقیقت میں دونوں ایک ہیں اور اِن دونوں کے بارے میں بھارت کے اندازے ہمیشہ خام خیالی ثابت ہوئے ہیں۔ دراصل بھارت یہ بھی بھول چکا ہے کہ قوموں اورملکوں کی زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب وطن اپنے بیٹوں سے تن من دھن کی قربانی مانگتا ہے۔اگر ایسے موقع کوئی پیٹھ دکھا جائے تو
پھر ساری عمر کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔یہی وقت ہوتا ہے جب انفرادیت کی بجائے بحیثیت مجموعی سوچنا ہوتا ہے اور یہی وقت ہوتا ہے جب جزو کی بجائے کُل کی بات کرنا ہوتی ہے۔جو قومیں اس وقت کو پہچان لیتی ہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور جن قوموں سے یہ وقت پہچاننے میں ذرا سی بھول چوک ہوجائے، وہ اپنا راستہ کھوٹا کرکے تاریخ کے گم شدہ اوراق کا حصہ بن جاتی ہیں۔ 1965ء میں پاکستانی قوم نے اِس وقت کو پہچان کر ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا اور قوم کا ہر فرد دشمن کے ناپاک ارادوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گیا، ملکی حالات کا جائزہ لیں تو وقت ایک بار ہم سے 65ء کے جذبے کا مطالبہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔
قارئین کرام!! کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم رکھنے، ایل او سی اور سرحدوں پر بھارتی فوج کی بلااشتعال جارحیت اور بھارتی ہٹ دھرمی کے باوجود پاکستان نے بھارت کے ساتھ کبھی بامعنی اور مثبت مذاکرات سے انکار نہیں کیا، بھارت میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی شرکت بھی اس کا ایک واضح ثبوت ہے، بلکہ یہ بھارت ہی ہے جو میزبانی کے تقاضے جانتا ہے نہ پڑوس میں رہنے کے سلیقے سے آشنا ہے۔ اپنے دیس میں مہمانوں کے ساتھ جارحانہ بھارتی رویہ بھی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بھارت ایشیا کے دل کو مضبوط اور توانا بنانے کی بجائے کشمیر کو دہکتے ہوئے کنوئیں میں تبدیل کرکے ایشیا کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے۔