تحریک انصاف کا کٹہرا!

زمینوں کا فاصلہ جتنا کم بھی ہو تو بہت زیادہ زیادہ لگتا ہے، لیکن اس کے برعکس زمانوں کا فاصلہ جتنا مرضی زیادہ ہو تو پھر بھی انتہائی کم لگتا ہے۔پاکستان میں اوسط عمر جینے والا شخص بھی ایک لمحے کو پیچھے مڑکر دیکھتا ہے تو صدیوں کے قصے کل کی بات معلوم ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر پی ٹی آئی کو ہی لے لیں، اس جماعت کی تشکیل، تعمیر اور عروج و زوال کی داستان ابھی کل کی بات ہی معلوم ہوتی ہے۔ اب یہ بھی کوئی بہت زیادہ پرانی بات نہیں ہے بلکہ ابھی اڑھائی سال قبل 2014ء کے وسط کی بات ہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو اچانک 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کا خیال ذہن میں آیا۔ یہ خیال ذہن میں آنے کی دیر تھی کہ پی ٹی آئی نے آن کی آن میں آر یا پار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آئینی اور قانونی طور پر حکومت انتخابی حلقے نہیں کھول سکتی اور یہ کہ یہ کام صرف اور صرف الیکشن کمیشن کا ہوتا ہے، پاکستان تحریک انصاف نے 2013ء کے عام انتخابات میںمبینہ دھاندلی کو بنیاد بناتے ہوئے حکومت سے چار انتخابی حلقے کھولنے کا مطالبہ کردیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ عمران خان نے حلقے نہ کھولے جانے پر اگست کے حبس زدہ موسم میںلاہور سے اسلام آباد تک آزادی مارچ اور اسلام آباد پہنچ کر آزادی دھرنا دینے کا اعلان بھی کردیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کردیا۔
اِس سے قبل کہ 14 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کا آزادی مارچ شروع ہوتا یا یہ مارچ اسلام آباد پہنچ کرکے آزادی دھرنا دیتا، وزیراعظم نواز شریف نے 12 اگست کی شام قوم سے خطاب کیا اور عمران خان کی ننانوے فیصد شرائط تسلیم کرلیں۔ قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نواز شریف نے بتایا کہ ''حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2013 ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کا تین رکنی کمیشن بنایا جائے گا، اس مقصد کیلئے چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل کمیشن تشکیل دیں‘‘۔لیکن دوسری جانب عمران خان کسی اور ہی موڈ میں تھے، انہوں نے وزیراعظم کی اِس کھلی پیشکش کو مسترد کردیا اور 14 اگست کی کڑکتی دھوپ میں اپنے ''کزن‘‘ ڈاکٹر طاہر القادری کے ہمراہ الگ الگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچ کر ریڈ زون میں خیمہ زن ہوگئے۔ جس کے بعد پھر کئی ہفتوں تک ریڈ زون میں وہ طوفان بدتمیزی اْٹھایا گیا کہ الامان و الحفیظ!
پہلے بھی لکھا تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری تو سیاست کے بھی نبض شناس نکلے اور سیاسی صورتحال اور اللہ کی رضا کو جلدی سمجھ گئے کہ ''اللہ ابھی نواز حکومت کو گرانا نہیں چاہتا‘‘ اور تین نقد ناں نو اُدھار کے مصداق جو کچھ ''ملا یا بچا‘‘ سمیٹ کر یہ جا اور وہ جا۔ البتہ ''امپائر‘‘ کی انگلی اُٹھنے کے منتظر عمران خان کو اپنے ساتھ ہونے والا ہاتھ سمجھنے میں 128 دن لگ گئے۔ سوا چار ماہ کی خاک چھاننے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ہاتھ جو کچھ لگا وہ دراصل وہی تحقیقاتی کمیشن تھا، جس کا اعلان وزیراعظم نواز شریف نے مارچ اور دھرنا شروع ہونے سے قبل ہی کردیا تھا ۔
اِس کے علاوہ اگر کچھ حاصل ہوا تھا تو وہ ریڈ زون میں سوا چار ماہ تک روزانہ صبح و شام ہونے والا ''اوئے نواز۔۔۔ اوئے شریف‘‘ کے سوا کچھ نہ تھا، لیکن عمران خان نے میڈیا پر یہ ''اوئے، اوئے‘‘ بھی خوب بیچا۔پھر جب اوئے اوئے کی گرد چھتی تو عمران خان کو اپنے مطالبے اور دھرنے سے پہلے حکومتی پیشکش سے بھی بہت کم پر راضی ہونا پڑا۔مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے بنائے گئے کمیشن میں پی ٹی آئی اپنے دلائل اور ثبوت لے کر تو گئی لیکن انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے اپنی شرائط اور منشاء و مرضی کے مطابق بنائے جانے والے عدالتی کمیشن کو صرف 2013ء کے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات تک محدود کرکے پی ٹی آئی نے ملک میں انتخابی اصلاحات کا بہترین موقع ہی ضایع نہیں کیا، بلکہ آئندہ کیلئے انتخابی دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے راستے مسدود کرنے کا سنہری موقع بھی کھودیا۔ اس کمیشن میں اپنے غیر سیاسی بچگانہ رویے اور دور اندیشی کے فقدان کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کو دو بڑے نقصان اٹھانا پڑے۔ اول ، یہ کہ کمیشن نے بڑے پیمانے پر منظم دھاندلی کے پی ٹی آئی کے الزام کو دھودیا اور دوم یہ کہ پاکستان تحریک انصاف نے کمیشن کے نتائج پر اعتراضات اور انگلیاں اُٹھاکر عدلیہ میں اپنے خلاف عدم قبولیت کا غیر مرئی جذبہ خود پیدا کرلیا کہ آئندہ کبھی تحقیقاتی کمیشن بنانے کا موقع آئے تو عدلیہ کمیشن بنانے سے پہلے سو بار سوچے! پی ٹی آئی نے سیاست میں جس طرح کے رجحانات متعارف کرائے ہیں، اُنہیں کسی طور پر سیاست کیلئے مثبت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر پی ٹی آئی نے اعتراضات کی مینگنیاں ڈال کر دھاندلی والے کمیشن کی رپورٹ پر قبولیت کا دودھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب گزشتہ برس پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے تحریک انصاف نے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تو سپریم کورٹ نے انکار کردیا۔ پھر اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کی دھمکی دے دی گئی ۔ اگرچہ اس دھمکی کو عملی جامہ تو نہ پہنایا جاسکا، لیکن بعد میں عدالت عظمیٰ نے پاناما لیکس کی انکوائری کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت شروع کی تو دوران سماعت صبر و تحمل سے کام لینے اور سارا معاملہ عدالتوں پر چھوڑنے کی بجائے عدالت کے باہر بھی فریقین نے ایک دوسرے کی دھنائی کرنا شروع کردی۔ اِسی دھنائیم کے انتہائی تلخ اور شرمناک مناظر بعد میں پارلیمنٹ جیسے ''مقدس‘‘ ادارے میں دیکھنے کو ملے، جس سے بجا طور پر ملک کی جگ ہنسائی ہوئی۔
قارئین کرام!! انصاف کا تقاضہ تو یہ ہونا چاہیے کہ ''میٹھا میٹھا ہپ ہپ‘‘ کرنے کی بجائے دوسرے کے حق میں فیصلہ جاتا دیکھ کر ''کڑوا کڑوا تھو تھو‘‘ بھی نہ کیا جائے، لیکن پی ٹی آئی نے مبینہ دھاندلی کی تحقیقات سے لے کر پاناما لیکس کی انکوائری تک اپنی یہ روش تبدیل نہیں کی۔ کل کی طرح آج بھی کوئی ریاستی ادارہ تحریک انصاف کیلئے صرف اُس وقت تک ٹھیک قرار پاتا ہے، جب تک وہ پی ٹی آئی کے حق میں یا موافق فیصلہ دیتا ہے، لیکن جیسے ہی کوئی ادارہ تحریک انصاف کے خلاف یا ناموافق فیصلہ دیتا ہے تو اُسے انصاف کی بجائے تحریک انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کے اِس کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بعد ''ملزم‘‘ کو ''سنے‘‘ بغیر ہی ''سزا‘‘ سناکر سوشل میڈیا کے حوالے کردیا جاتا ہے، جہاں کسی کی تکریم برقرار رہتی ہے اور نہ ہی عزت و ناموس محفوظ رہتی ہے !

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں