"RKC" (space) message & send to 7575

پانچ وزیروں کا اکیلا شکار ’’اقبال‘‘

سوشل میڈیا ایک دلچسپ فورم ہے۔ میں اسے جوائن کرنے سے کتراتا تھا‘ خصوصاً ٹویٹر سے زیادہ واقفیت نہ تھی۔ 2013ء تک میں اس سے دور ہی رہا۔ اُس وقت ٹویٹر پر بڑے لوگ جو کمنٹس کرتے تھے‘ ٹی وی چینلز اس کو اپنی خبروں میں نمایاں کر کے چلاتے تھے۔ ابھی ٹویٹر پر زیادہ لوگ نہیں تھے لہٰذا اس کے بارے زیادہ علم بھی نہیں تھا کہ یہ کس بلا کا نام ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جن شخصیات کے ٹویٹس ٹی وی چینلز اپنی خبروں میں چلاتے تھے ان میں امتیابھ بچن اور حسین حقانی نمایاں ہوتے تھے۔ حسین حقانی اکثر شعر ٹویٹ کرتے تھے جنہیں پاکستانی سیاسی تناظر میں معنی خیز سمجھا جاتا تھا۔ ٹویٹر ایک سٹیٹس سمبل بن گیا تھا‘ اور پھر بلیو ٹِک ایک اور منفرد اعزاز بنا‘ ٹویٹر پر بلیو ٹِک ملنے کا مطلب یہ تھا کہ اب آپ ایک تسلیم شدہ گلوبل سلیبرٹی ہیں۔ اب تو خیر ایلون مسک نے بلیو ٹِک گیارہ ڈالرز کے عوض سب کو دے دیا ہے۔ ہمارا شہید دوست ارشد شریف مجھ سے پہلے ٹویٹر پر موجود تھا اور اکثر اصرار کرتا رہتا کہ میرا سوشل میڈیا پر آنا کتنا ضروری ہے۔ میں اسے کہتا تھا کہ فیس بک پر اپنا اکاؤنٹ اور پیج ہے‘ وہی کافی ہے۔ میرے فیس بک پر جو چند ہزار فرینڈز ہیں وہی کافی ہیں‘ زیادہ لوگوں کی موجودگی مسائل پیدا کرتی ہے‘ بندہ کس کس ایشو کو ہینڈل کرتا پھرے۔ لیکن ارشد کے پاس اپنی وجوہات تھیں اور ایک دن جب ہم اکٹھے دنیا ٹی وی کے دفتر میں بیٹھے تھے تو ارشد نے عدیل راجہ کو کہا کہ اسکا ٹویٹر اکاونٹ بنائو۔ مجھے یاد ہے وہ یکم اپریل 2013ء کا دن تھا۔ میں سمجھا مذاق ہورہا ہے۔ چند منٹ کے بعد ارشد نے میرا ٹویٹر ہینڈل کالنک کاپی کر کے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیا تو تھوڑی دیر میں ہی میرے اکاؤنٹ کے فالورز کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔
خیر ٹویٹر کی دنیا سے جو تعارف ہو اس کا اپنا مزہ تھا۔ وہاں دنیا کے بڑے بڑے لیڈر‘ وزیراعظم‘ صدر‘ سیاستدان‘ اداکار‘ مصنف‘ مفکر اور صحافی موجودتھے جن سے میں صرف ایک کلک کے فاصلے پرتھا۔ بلاشبہ بہت کچھ وہاں سے سیکھا اور خود کو بہتر کرنے کی کوشش کی۔ پھر دھیرے دھیرے یہ فورم بھی سیاست‘ سیاستدانوں اور ان کے پیروکاروں کی نظر ہوگیا۔ یہاں اپنے سیاسی مخالف یا مخالف نظریات کے لوگوں کو گالی دینا ایک رواج بن گیا۔ ایک دوسرے کے خلاف غلیظ ٹریند کا آغاز ہوا۔ وہ صحافی اور کالم نگار جو عوام کے پسندیدہ لٹیرے کی بیعت کرنے سے انکاری ہوا‘ اس کو بھی وہاں گالیاں پڑنے لگیں۔ لگتا تھا کہ پوری قوم بس انتظار کررہی تھی کہ کوئی ایسا فورم ملے جہاں وہ ایک دوسرے کو بھرپور گالیاں دے سکیں۔ رہی سہی کسر پی ٹی آئی اور (ن) لیگ کی سوشل میڈیا ٹیموں نے پوری کر دی جس سے اس پلیٹ فارم سے لوگوں کا دل ہی بھر گیا۔ دھیرے دھیرے اس پلیٹ فورم پر ایک دوسرے سے بات چیت کا اور سیکھنے کا عمل رک گیا اور لوگ اس فورم کو چھوڑنا شروع ہوگئے۔ خیر ہماری مجبوری ہے کہ اس فورم پر رہنا ہے لہٰذا اس فورم پر بہت کچھ پڑھنے سننے کو ملتا رہتا ہے۔ کل پرسوں وہاں سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ملکی معیشت بارے ایک انگریزی اخبار کا مضمون ٹویٹ کر کے لکھا کہ اس سے بہتر ملکی معیشت کی تباہ حالی کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس مضمون میں ایک کردار اقبال کا ذکر تھا جس کی خوشحالی دھیرے دھیرے بدحالی میں تبدیل ہوتی گئی۔ اب وہ مہنگائی اور معاشی حالات کی وجہ سے مشکل سے گھر چلا پا رہا ہے۔ میں خود کو روک نہ سکا اور مفتاح صاحب کو جواب دیا کہ' اقبال‘ کواس حالت میں لانے کے ذمہ دار میرے نزدیک چار افراد ہیں: اسد عمر‘ شوکت ترین‘ مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار۔ اسد عمر وزیر خزانہ بن کربضد رہے کہ خودکشی کر لیں گے لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا۔ پھر جب معیشت کی بربادی کرنے کے بعد وہ بالآخر آئی ایم ایف کے پاس گئے تو خودکشی عوام کو کرنا پڑی کیونکہ اس وقت تک ڈالر 150روپے پر پہنچ چکا تھا۔ شوکت ترین نے ملک اور معیشت کے ساتھ سب سے بڑا ظلم بلکہ جرم کیا جب جنوری؍فروری 2022ء میں آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل توڑی اور بقول شیخ رشید ملک‘ معیشت اور عوام کیلئے بارودی سرنگیں بچھائیں اور ڈالر 188 روپے تک پہنچ گیا۔ پھر مفتاح اسماعیل کے دور میں جب ڈالر 220 روپے پر پہنچا تو انہوں نے ڈالر ریٹ کی چار مارکیٹس متعارف کرادیں۔ اوپن مارکیٹ ریٹ‘ بینک ریٹ‘ پریمیم ریٹ اور بلیک مارکیٹ ریٹ۔ پہلی تین مارکیٹوں میں ڈالر ریٹ میں بیس سے تیس روپے کا فرق تھا جبکہ بلیک مارکیٹ میں پچاس روپے تک کا‘ کیونکہ یہ پیسہ افغانستان سمگل ہورہا تھا۔ بینکوں کو اجازت دی گئی کہ وہ آفیشل بینک ریٹ کے برعکس تیس‘ چالیس روپے فی ڈالر زیادہ پر ایل سی کھولیں۔ پھر بینکوں نے اشیائے ضروریہ درآمد کرنیوالے امپورٹرز سے اربوں کمائے‘ یوں مفتاح دور میں ملک میں مہنگائی کا طوفان مزید خوفناک صورت اختیار کر گیا۔ قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کی انکوائری میں سٹیٹ بینک نے تسلیم کیا کہ بینکوں نے ڈالر ریٹ پر 100ارب روپے سے زائد کی لوٹ مار کی‘ جس پر ٹوکن کے طور پر ان بینکوں کو صرف چند کروڑ کے جرمانے ہوئے۔ چوتھی بربادی اسحاق ڈار نے کی جب مفتاح اسماعیل کو وزارتِ خزانہ سے ہٹوایا جو اُس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل تقریباً طے کر چکے تھے۔ اگر اُس وقت دستخط ہو جاتے تو ڈالر 220؍230 روپے پر رک جاتا۔ پھر ڈار صاحب نے آئی ایم ایف کیخلاف بیان بازی کی اوران کے دور میں ڈالر ریٹ 300روپے کی حد عبور کر گیا۔ ڈالر کی سمگلنگ بھی عروج پر پہنچی۔ چھ ماہ بعد ڈار صاحب نے آئی ایم ایف ڈیل سائن کی تو ڈالر 280 روپے تک آگیا لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی۔
آپ پوچھیں گے کہ ڈالر کا 'اقبال‘ کی تنخواہ‘ معیشت اور مہنگائی سے کیا تعلق ہے؟ یہ تعلق پہلی دفعہ مشرف دور میں وزیر خزانہ شوکت عزیز نے قائم کیا تھا جب لوکل مارکیٹ کو عالمی ڈالر ریٹس کے ساتھ جوڑا گیا۔ سب قیمتیں ڈالر ریٹ میں کنورٹ ہو گئیں۔ فنانس کمیٹی میں بتایا گیا کہ فیول‘انرجی‘ آئل اور گیس کا سالانہ امپورٹ بل 35ارب ڈالر ہے۔ دس ارب ڈالر کی اشیائے ضروریہ اور اشیائے خورونوش درآمد ہوتی ہے۔ اب یہ سب چیزیں ڈالر ریٹ پر' اقبال‘ کو ملتی ہیں۔ 2018ء میں' اقبال‘ کو 110 روپے فی ڈالر میں جو بجلی‘ گیس‘ پٹرول اور ڈیزل ملتا تھا وہ اب 280 روپے فی ڈالر میں ملتا ہے۔ ٹرانسپورٹ چارجز اور گاڑیوں کے کرایے بھی اس ڈالر کی وجہ سے بڑھے لیکن' اقبال‘ کی آمدن وہی رہی۔ اسد عمر‘ شوکت ترین‘مفتاح اور اسحاق ڈار بلکہ اس میں شوکت عزیز کو بھی ملا لیں تو پانچوں وزیر خزانہ' اقبال‘ کے مجرم ہیں جس کی تنخواہ پانچ بار بانٹ کر کھا لی گئی‘ اوپر سے پٹرول‘ بجلی‘ گیس پر مسلسل بڑھتے ٹیکس۔ بجلی اس وقت درآمدی فیول پر بن رہی ہے‘ جو ڈالر میں درآمد ہوتے ہیں۔
مفتاح صاحب‘ جنہوں نے ' اقبال‘ کو اس حالت میں پہنچانے میں اہم کردار کیا ہے‘ وہ' اقبال‘ سے معافی مانگنے یا اسے اپنی فیکٹری میں نوکری دینے کے بجائے دوسروں کو ذمہ دار سمجھ کر اس کی حالت پر آنسو بہا رہے ہیں۔ وہ فیکٹری جسے بقول سینیٹر انوشہ رحمان اوروفاقی وزیر طارق فضل چوہدری‘ بی آئی ایس پی نے تیس‘ چالیس ارب کا کنٹریکٹ دیا تھااور مفتاح اسماعیل نے اپنی وزارتِ خزانہ کے دور میں اس کنٹریکٹ کی مالیت کو ڈبل ٹرپل کیا۔ مفتاح صاحب 'اقبال ‘کو دو لاکھ کی نوکری دے کر کچھ تو اپنے معاشی اعمال کا ازالہ کرسکتے ہیں‘ جو پانچ وزرائے خزانہ کی ناقص پالیسیوں یا غلط فیصلوں کا شکار ہوا ہے۔ بیس‘ تیس ارب روپے کے ٹھیکوں کے مقابلے میں دو لاکھ کی جاب اتنی بڑی قیمت تو نہیں ۔ میرا کہنا تھا کہ مفتاح صاحب آپ کاسٹار لیو ہے‘ سنا ہے لیو کنجوس نہیں ہوتے۔ سخی ہوتے ہیں۔ ہاں لیو کاروباری ہو تو مجھے نہیں پتہ کہ وہ صرف آنسو بہاتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں