"SUC" (space) message & send to 7575

ترکیہ۔ انتخابات کے بعد … (1)

ترکیہ کے صدارتی انتخابات کے بعد یہ کہنا مشکل ہے کہ وہاں مایوسی زیادہ ہے یا حیرت یا دونوں سے زیادہ غم و غصہ۔ اور سچ بات یہ ہے کہ مایوسی‘ حیرت اور غم و غصہ بے سبب نہیں‘ تمام وجوہات موجود ہیں۔
جس رجب طیب اردوان کے بارے میں دانت پیس کر کہا جا رہا تھا کہ اس بار وہ نہیں بچتا‘ اس بار اسے سب سے سخت سیاسی مقابلے کا سامنا ہے‘ وہ استنبول کا میئر بننے سے اب تک کوئی انتخاب نہیں ہارا لیکن اس بار اس کا حریف اسے20 سال میں پہلی بار شکست سے دوچار کرے گا‘ لیکن وہ طیب اردوان ایک دو نہیں‘ پانچ فیصد زیادہ ووٹ لے کر اپنے قریب ترین حریف قلیچ داراوغلو سے آگے ہے۔ ترکیہ میں اور مغربی دنیا میں بھی بہت سے لوگ اردوان کو ہارا ہوا دیکھنے کے متمنی تھے۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ 14 مئی کو صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں یہ کیا کرامات ہوئیں کہ طیب اردوان سبقت لے گیا۔ سمجھیں کہ قریب قریب جیت ہی گیا۔ آدھ فیصد کا فرق نہ ہوتا تو مخالف اگلے مرحلے میں پہنچنے کے قابل ہی نہ رہتے۔ سیاسی حریفوں کو جو صدمات پیش آئے‘ ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اردوان کی آق پارٹی پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت بن چکی ہے۔ ترکیہ کی سپریم الیکشن کونسل کے سربراہ احمد ینیر نے اعلان کیا ہے کہ اب جبکہ 99 فیصد ووٹ گن لیے گئے ہیں‘ صدارتی انتخابات میں اے کے نیشنل پارٹی نے‘ جو اردوان کی جماعت ہے‘ 49.51 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ریپبلکن پیپلز پارٹی سی ایچ پی کے رہنما قلیچ دار اوغلو نے 44.89 فیصد ووٹ لیے ہیں۔ یہ صدارتی امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدوار ہیں۔ ضابطے کے مطابق اگر کوئی بھی صدارتی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل نہ کر سکے تو پہلے دو امیدواروں کے درمیان دو ہفتے بعد پھر مقابلہ ہوتا ہے اور اسی میں کوئی ایک فاتح قرار پاتا ہے۔ ترکیہ میں یہ پہلاصدارتی انتخاب ہے جو دوسرے مرحلے میں پہنچ کر حتمی ہوگا۔ دوسری طرف پارلیمانی نشستوں میں سب سے زیادہ یعنی 266 نشستیں‘ اے کے پارٹی نے حاصل کر لی ہیں جبکہ ریپبلکن پیپلز پارٹی کی نشستیں 166 بنی ہیں۔ ان دونوں کے سیاسی اتحادوں کی مجموعی نشستیں دیکھی جائیں تو اردوان کا سیاسی اتحاد پارلیمنٹ میں اکثریت میں ہوگا۔
یہ سب حقائق وہ ہیں جن پر چند دن پہلے کوئی یقین کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا۔ میں نے چند دن پہلے اپنے دو مسلسل کالموں میں کچھ سروے ذکر کیے تھے جو بہت قریبی مقابلے کی نشان دہی کرتے تھے لیکن اس وقت جب میں ان تمام سروے رپورٹس کا جائزہ لے رہا تھا‘ میں حیران تھا کہ بہت سے سروے کمال قلیچ دار اوغلو کو کم از کم دس فیصد زیادہ ووٹ لیتے ہوئے دکھا رہے تھے۔کم از کم بھی یہ پولز انہیں پانچ فیصد برتری لیے ہوئے بتاتے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ سروے حقیقی صورتحال نہیں بلکہ خواہش کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ سروے اس لیے نہیں تھے کہ ووٹر کا رجحان بتایا جائے بلکہ اس لیے تھے کہ رجحان بنایا جائے۔ میں نے ان غیر حقیقی سروے رپورٹس کو‘ جو عام طور پر مغربی یا سیکولر دنیا کے پروپیگنڈا کی نشان دہی کرتے تھے‘ نظر انداز کیا تھا اور وہی رپورٹس شامل کی تھیں جن میں حقیقی صورتحال کافی نظر آتی تھی۔
مثال کے طور پر ترکیہ کے ایک نامور تحقیقاتی ادارے کونڈا ریسرچ نے کمال قلیچ دار اوغلو کو 49.3 فیصد اور طیب اردوان کو 43.7 فیصد ووٹ لیتے ہوئے بتایا تھا۔ ایک سیاسی مبصر ریسرچ کمپنی جی زی سی (Gezici) نے بھی کمال قلیچ کی کئی پوائنٹ سے برتری بتائی تھی۔ 10-11 مئی کو اورک ایجنسی کے 4000 ووٹروں سے بالمشافہ ملاقات کے سروے میں کمال قلیچ کو 51.7 فیصد سے جیتتا ہوا دکھایا گیا تھا۔ ان گنے چنے سرویز میں‘ جن میں اردوان کی جیت ظاہر کی گئی تھی‘ اوپٹیمار (Optimar) بھی تھی‘ جس نے پیشگوئی کی تھی کہ اردوان 50.4 فیصد کی اکثریت سے جیتیں گے لیکن اوپٹیمار پر سرکاری مؤقف کا لیبل لگا کر اسے کوئی اہمیت نہیں دی گئی تھی۔ یہ ہمارا عام مشاہدہ ہے کہ سرویز کی اکثریت غیر جانبدار نہیں ہوتی‘ خصوصاً جب ان کے پیچھے اردوان کو شکست دینے کی دیرینہ خواہش بھی موجود ہو۔ میں نے اپنے گزشتہ کالموں میں اسی جانبداری کی نشان دہی کی تھی؛ چنانچہ یہ بات قابلِ فہم ہے کہ اردوان مخالف سیاسی مبصرین بوکھلائے ہوئے ہیں اور انہیں اس واضح برتری کا کوئی جواز ڈھونڈنا مشکل ہورہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پولنگ سے دو دن پہلے محرم انجے کمال قلیچ کے حق میں انتخابات سے دستبردار ہو گئے۔ یہ اردوان مخالف اتحاد کیلئے بہت بڑی خبر تھی اور وہ بہت مدت سے اس کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے نتیجے میں کمال قلیچ کو کم از کم 5 فیصد ووٹ زیادہ ملنے تھے اور یقینا ملے بھی ہوں گے لیکن اس کے باوجود وہ 44.89 فیصد پر کھڑے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ ان کے اپنے اصل ووٹ 40 فیصد سے بھی کم تھے۔ کمال قلیچ سے اردوان کی برتری 26 لاکھ ووٹوں سے زیادہ کی ہے اور یہ معمولی برتری نہیں ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ فروری کے دو مسلسل زلزلوں سے جنوب مشرقی تباہ شدہ 11 صوبوں نے‘ جن میں پچاس ہزار پانچ سو افراد کی ہلاکت ہوئی تھی‘ انتخاب میں اردوان کی مکمل حمایت کی ہے۔ ان صوبوں میں اردوان کے ووٹ 71 فیصد ہیں جبکہ بہت غالب گمان یہ تھا کہ زلزلہ زدہ صوبوں میں جو حکومت سے شکایات اور ناراضی پائی جاتی تھی‘ وہ اردوان کے مخالفوں کو واضح برتری دلوا دے گی لیکن ان صوبوں نے ثابت کیا کہ وہ بدستور اردوان کے سپورٹرز ہیں۔ زلزلے نے ان کی عمارتوں کو مسمار کردیا‘ ان کی حمایت کو نہیں۔
مبصرین کی بات تو الگ‘ طیب اردوان کے مخالفین کو بھی یہ امید نہیں تھی کہ اردوان اتنی بڑی برتری لیں گے۔ تو ان حیران کن نتائج کا سبب یا اسباب کیا ہیں؟ میرے خیال میں چند اسباب درج ذیل ہیں۔ اول تو یہ سروے درست نہیں تھے اور ووٹر کا رجحان بنانے کیلئے بنائے گئے تھے۔ اصل صورتحال وہی تھی جو انتخاب میں ظاہر ہوئی۔ دوسری اور بہت بڑی وجہ اپریل اور مئی میں اردوان کی زبردست انتخابی مہم تھی۔ ان بڑی ریلیوں‘ جلسوں اور خطابات نے اردوان کے حق میں ایک لہر پیدا کردی۔ اس میں شک نہیں کہ افراطِ زر‘ زلزلے کی تباہ کاریاں‘ لوگوں کی ناراضیاں وہ عناصر تھے جن کی وجہ سے اردوان کی مقبولیت پہلے سے کم تھی لیکن انہی کیساتھ ساتھ اردوان کے 20 سالہ ریکارڈ پر بہت کارکردگی بھی ہے۔ استنبول کی میئر شپ سے موجودہ صدارت تک ان کے پاس بیان کرنے اور دکھانے کو بہت کچھ ہے جبکہ مخالف اتحاد کے پاس کارکردگی کے نام پر کچھ نہیں تھا۔ انتخابی وعدوں اور اردوان حکومت سے بڑھتی بیزاری نے ان کے حق میں وہ لہر پیدا نہیں کی جو انہیں فتح کیلئے درکار تھی۔ ایک اور بڑی وجہ جسے لوگ زیادہ اہم نہیں گردانتے لیکن میں بہت اہم سمجھتا ہوں‘ یہ تھی کہ ترکیہ کے سخت مذہب بیزار اور جبر والے سیکولر ازم کی یادیں بہت سے لوگوں کے دلوں میں ہیں اور وہ پیپلز ریپبلکن پارٹی کا سابقہ کردار بھی خوب جانتے ہیں۔ مثال کے طور پر ترک خواتین کے حجاب پر جب پابندی لگائی گئی تو سی ایچ پی اس میں پیش پیش تھی۔ اس پابندی کی وجہ سے بہت سی خواتین کو روزگار اور تعلیم چھوڑ کر گھروں میں بیٹھنا پڑا تھا۔ یہ طیب اردوان تھا جس نے یہ پابندی ہٹوائی تھی۔ پھر پیپلز ریپبلکن پارٹی مجبور ہوئی کہ اس مؤقف پر نظر ثانی کرے تاکہ ووٹروں کا حلقہ بڑھایا جا سکے۔ چنانچہ اسے اعلان کرنا پڑا کہ خواتین اگر حجاب کرنا چاہیں تو ان کی حمایت کرے گی لیکن ترکوں کی بہت بڑی تعداد جو اسلام سے محبت رکھتی ہے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہتی ہے‘ اردوان سے شکایات کے باوجود اس خوف میں ہے کہ یہ جبر اور زبردستی والا سیکولر ازم انہیں واپس اسی نظام میں لے جائے گا۔ یہ طیب اردوان کو اس لیے بھی ووٹ دیتے ہیں کہ وہ اس جبرکے سامنے دیوار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اردوان نے اس خوف کا اپنی انتخابی مہم میں فائدہ اٹھایا اور ایسے تمام ووٹ سمیٹ لیے۔ (جاری)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں