انسان ایک دوسرے سے سیکھتا ہے اور ملک بھی ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب دو ممالک ملتے جلتے حالات سے دوچارہوں تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ایک ملک کی کامیابی سے دوسرا ملک سیکھ سکتا ہے۔ ترکی اور پاکستان اس عمل کی ایک عمدہ مثال ہیں۔دونوں ملکوں کی تاریخ، ثقافت، جغرافیہ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود سیاسی منظرنامے میں مماثلتیں پائیں جاتی ہیں، اس لیے پاکستانیوں کے لئے ترکی کو سمجھنا ضروری ہے۔ترکی جن مسائل سے دوچارہے تقریباً پاکستان کے بھی وہی مسائل ہیں۔ مذہب کے حوالے سے دیکھا جائے تو ترکی کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی سنی حنفی ہے۔ تقریباً دس سے پندرہ فیصد علوی ہیں۔ پاکستان میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حا ل ہے لیکن ترکی میں حنفی فرقوں میں منقسم نہیںہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر مسلمان ملکوںکی طرح ،سوائے پاکستان کے، مذہب ایک حکومتی ادارے کے زیر انتظام ہوتا ہے۔ ترکی میں مذہب کو سیاسی اور سٹریٹیجک فوائد کے لیے استعمال نہیں کیا جا تا۔یہی وجہ ہے کہ وہاں مذہبی منافرت کے واقعات دیکھنے کو نہیں ملتے۔پاکستان کی طرح ترکی میں نہ بے شمارفرقے ہیں اور نہ ہی ان میں فتووں کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ایک دوسر ے کو کافر قراردینے کی کوئی ریت نہیں۔ مذہب کے نام پر قانون کو ہاتھ میں لینے کی بھی کوئی روایت نہیںاور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے تا کہ عوام کو ایک دوسرے کے خلاف اکسایا جائے۔ ترکی میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں،اس لئے اس طرح کے نعرے وہاں کام نہیں آتے ۔ اسی طرح ڈرائنگ رومز، بیٹھکوں اور حجروں میں بیٹھ کر لوگ مناظرے بھی نہیں کرتے جن کا مقصد ایک دوسرے کے مسلک کو زیر کرنا ہوتا ہے ۔ پاکستان کی طرح ترکی میں بھی مغرب کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے ۔ ترک عوام بھی مسلمان ممالک کے مسائل کا سبب مغر ب کو ہی گردانتے ہیں لیکن مغرب کے ساتھ کسی سیاسی یا عسکری چپقلش کو اس کا حل نہیں سمجھتے بلکہ ان کا خیال ہے کہ معاشی اور سائنسی ترقی سے ہی اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ترکی اور پاکستان کی افواج کے سیاسی کردارمیں بھی کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں ملکوں کی افواج ملکی سیاست میں کافی اہم کردارادا کرتی رہی ہیں۔ دونوں مما لک میں فوج نے کئی مرتبہ جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹا اورفوجی آمریت نے دونوں ملکوں کے جمہوری سفر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دونو ں ملکوں کی عسکری قوت براہ راست اقتدار میں نہ ہوتی تو تب بھی ملک کی اہم خارجہ اور داخلہ پالیسیاں ان کی ہی مرضی سے بنتیں ۔ ترکی میں فوج کا یہ رول اب نا ہونے کے برابر ہے۔ترکی کو تحریک آزادی میں فوجی طاقت سے فتح نصیب ہوئی تھی اس لیے سیاست میں اس کا رول شروع ہی سے زیادہ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ترک عوام میں فوج کی مقبولیت اب تک قائم ہے۔ جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتا ترک نے ہی ایک جنرل کی حیثیت سے جنگ آزادی لڑی اور پھر ملک کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اس کے برعکس پاکستان کی آزادی ایک سول لیڈر کی مرہون منت ہے ۔ اس میں آرمی کا کوئی کردار نہیںتھا۔ لیکن آزادی کے چند برس بعد فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا اور یوں سیاست میں فوج کا کردار ایک جز لاینفک کی طرح شامل ہوگیا۔ یہ سیاسی کردار کسی نہ کسی صورت میں جاری رہا۔ بہر حال ترک فوج اور پاکستانی فوج کے نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ ترک فوج کمال ازم کے نظریے پر قائم ہے۔ اپنے آپ کو اس کی محافظ مانتی ہے اور اس کردار کو فوج کے مرتب کردہ آئین کا حصہ بھی بنا یا گیا ہے، لیکن جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے فوج کے سیاسی کردار کو نہایت محدود کر دیا ہے۔ یہ سب اس لئے ممکن ہوا کہ پارٹی کے دور اقتدار میں ترکی نے بے پناہ ترقی کی ، اس نے یورپی اتحاد اور امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کئے تاکہ فوج کے ساتھ کسی بھی محاذ آرائی کی صورت میں سول حکومت کو ان کا تعاون حاصل ہو اور اس کے ساتھ ترکی کی معاشی ترقی کا سفر بھی جاری رہے۔ پاکستانی فوج بھی اپنے آپ کو پاکستان کی علاقائی اور نظریاتی سالمیت کا محافظ سمجھتی ہے، اس لیے سیاسی اسلامی قوتوں کی آبیاری کرتی رہی ہے۔ پاکستانی سیاست میں فوج کے کردار کو اس لئے کم نہیں کیا جاسکا کہ یہاں سویلین حکومتیں ڈلیور کرنے میں ناکام ہوئیں۔ اب مسلسل دوسری جمہوری حکومت آنے کے بعد اس صورت حال میں جوہری تبدیلی کی توقع کی جارہی ہے ۔ ترک فوج نے حکومت کے خلاف شدت پسند گروہ بنانے اور انہیں مسلح کرنے میں خفیہ کردار ادا کیا، لیکن یہ حکومت مخالف گروہ نسلی یا نظریاتی فلسفے کے حامل شدت پسند تنظیمیں تھیں۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے بھی کشمیر اور افغانستان میں مذہبی مسلح گروہوں کی مدد کی۔ دونوں کے نظریات مختلف سہی لیکن ان کے طریقہ کار ملتے جلتے ہیں اور اقتدار کا حصول دونوں کے لئے مقصد رہا ہے۔ اگر سیاسی پارٹیوں کو دیکھا جائے تو حکمران جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے اراکین اور لیڈرشپ کا تعلق سیاسی اسلام کے نظریات سے وابستہ رہا ہے لیکن پارٹی کے منشور میں سیاسی اسلام کی کوئی بات نہیں۔ پارٹی اپنے آپ کو ایک سیکولر اور جمہوری نظام کا علمبردار گردانتی ہے۔ اس جماعت کا نظریہ اور اس کا ارتقا پاکستان میں جماعت اسلامی یا عرب دنیا میں اخوان المسلمون سے ملتا جلتا ہے۔ ان پارٹیوں کے آپس میں مضبوط روابط بھی ہیں ۔ لیکن ترکی میں یہ پارٹی اسلامی نظام یا شریعت کی بات نہیں کرتی۔ شاید ترکی کی سیاسی صورت حال میں یہ سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا اس لئے اس پارٹی نے اپنے آپ سے ہر طرح کے اسلامی لیبل اتارنے کی کوشش کی ہے۔ ترکی کا کمالسٹ طبقہ جسٹس پارٹی کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ان کو پورا یقین ہے کہ یہ پارٹی اپنے آپ کو مزید مستحکم کرنے کے بعد شرعی نظام نافذ کرے گی۔ لیکن ترکی کے بارے میں محققین کا خیال ہے کہ ترکی میں اسلامی نظام کا نفاذ ممکن نہیں اور اس کی بڑی وجہ کمال ازم نہیں بلکہ ترک عوام میں ایسے نظام کی عدم مقبولیت ہے۔