بیتے ہوئے دن یا د آتے ہیں … (آخری قسط)

شوکت جاوید
(سابق انسپکٹر جنرل پولیس)

 

اب میں آپ سے بیتے ہوئے دنوں کی چند خوبصورت یادیں شیئر کرنا چاہوں گا۔ 
1:بعض اوقات انسان کو اپنی خوابیدہ صلاحیتیوں کا خود بھی احساس و ادراک نہیں ہوتا۔ کوئی واقعہ چھپیِ جوہر کو نکھار دیتا ہے۔ میں کبھی بھی ایتھلیٹ نہ تھا‘ لیکن ایک صبح پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں One Mile Race ہوئی جو نہ صرف میں جیت گیا بلکہ ہمیشہ جیتتا رہا۔ 
2:گورنمنٹ کالج لاہور کے وہ ایام آج بھی کتاب حیات پہ نقش ہیں‘ جب اساتذہ اور شاگردوں کے درمیان احترام اور شفقت کا ایک لازوال رشتہ استوار تھا۔ اینٹوں سے وکٹیں بنا کر گورنمنٹ کالج کی اوول گرائونڈ میںکرکٹ کھیلنا اور اِس میں پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد کا شریک ہونا محبت اور شفقت کی وہ انمٹ کہانی ہے‘ جس کا بار بار ذکر کرنے کو دل چاہتا ہے۔ 
3:کھیلوں سے میر ی دلچسپی بچپن سے رہی اور اِسے حسنِ اتفاق جانیے کہ آج عالم پیری میں بھی پاکستان بیس بال فیڈریشن کا صدر اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا نائب صدر ہوں۔ 
4: میں پاک پتن میں اے ایس پی کے منصب پر فائز تھا۔ نسلوں سے اس علاقے میں رہنے والے انتہائی ذہین اور معاملہ فہم ہیں اور معاملات کو تہہ در تہہ بیا ن کرنے میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔ یہ پولیس کے کئی تجربہ کار افسران سے بھی زیادہ قانون فہم ہوتے ہیں۔ پاکپتن میں قیام کے دوران اُس وقت کے ضلع ساہیوال کے ایس پی نے مجھے ایک انکوائری اور تفتیش سونپی۔ یہ انکوائری ایک تھانے دار کے رشوت لینے کے خلاف تھی۔ میں نے جب اِس معاملہ سے متعلق افراد کے بیانا ت قلم بند کرنا شروع کیے تو انتہائی دلچسپ صورت حال سے واسطہ پڑا۔ میں نے پہلے گواہ سے پوچھا کہ جب تھانے دار نے رشوت لی تو وہ کہاں بیٹھا تھا؟ اُس نے جواب دیا کہ وہ کرسی پہ بیٹھا تھا۔ جب دوسرے گواہ سے یہی سوال دہرایا تو اُس کا کہنا تھا کہ تھانے دار چارپائی پہ بیٹھا تھا۔ اس عرصے میں میرے کمرے کے باہر بیٹھے ہوئے دیگر گواہوں کو بھی اِس بات کی خبر ہو گئی کہ بیانات میں تضاد ہے سو جب تیسرے گواہ سے یہی سوال پوچھا تو اُس کا کہنا تھا: ''جناب عالی! تھانیدار کو کون پوچھ سکتا ہے وہ تو بادشاہ ہوتا ہے‘ میں نے دیکھا وہ کبھی کرسی پر بیٹھ جاتا تھا اور جب جی چاہتا چارپائی پہ جا بیٹھتا‘‘ میرا بے ساختہ اُس گواہ کی خوبیِ گفتار کو داد دینے کو جی چاہا۔
4: بھلے وقتوں میں صوبہ پنجا ب کے گورنر عیدین کی نمازیں بادشاہی مسجد میں ادا کیا کرتے تھے۔ میرے آئی جی پنجاب بننے کے بعد پہلی عید آئی اور اُس وقت کے گورنر پنجا ب حسبِ دستور نماز ادا کرنے بادشاہی مسجد تشریف لے آئے۔ انہیں اُن کے مرتبے کے مطابق امام صاحب کے پیچھے پہلی صف میں بٹھایا گیا۔ اِس دوران اچانک اطلاع ملی کہ اُس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان لاہور میں مقیم اپنے دیگر جج ساتھیوں کے ہمراہ نماز پڑھنے بادشاہی مسجد تشریف لا رہے ہیں۔ اُن کے افسران کی خواہش تھی کہ چیف جسٹس صاحب اور اُن کے ساتھی جج صاحبان کو پہلے سے تشریف فرما گورنر صاحب والی جگہ پر بٹھایا جائے۔ متعلقہ افسران کو یہ بات باور کرائی گئی کہ اچانک طے پانے والے پروگرام میں ایسا کرنا ممکن نہیں؛ چنانچہ چیف جسٹس صاحب نے باقی ججوں سے معذرت کرتے ہوئے خود تشریف لانے کا ارادہ باندھا اور کچھ ہی دیر میں اپنے عملے کے ہمراہ بادشاہی مسجد آ پہنچے اور اُنہیں گورنر پنجاب کے ساتھ پہلی صف میں بٹھایا گیا۔ گورنر صاحب نے اُنہیں انتہائی پرتپاک طریقے سے خوش آمدید کہا لیکن میری حیرت کی اُس وقت انتہا نہ رہی‘ جب میں نے یہ دیکھا کہ جونہی نماز کی ادائیگی کے لیے نمازی صف آرا ہوئے تو چیف صاحب کے ایک افسر نے انتہائی چابکدستی سے امام صاحب کی جائے نماز کھینچ کر چیف جسٹس صاحب کے سامنے کردی اور یوں ان کو اللہ کے گھر میں پروٹول مہیا کرا دیا گیا۔ 
مشرقی پاکستان چھن جانے کے بعد بھارت میں گزرے اسیری کے 22 ماہ میں جرأت اور بہادری کا ایک واقعہ 92 ہزار قیدیوں کے لیے جذبہ تازہ کی نوید لایا۔ اِس حکایت کو تاریخ دانوں اور قلم کاروں نے اپنے اپنے انداز میں تاریخ کا حصہ بنایا۔ اپنے کمپنی کمانڈر راجہ نادر پرویز کی ایما پر ہم لوگوں نے فتح گڑھ کے جنگی قیدیوں کے کیمپ سے فرار کے لیے ایک سرنگ کھودنے کا ارادہ باندھا۔ پندرہ ساتھیوں نے سرنگ کھودنے کے کام کا آغاز کیا اور مہینوں یہ کام ہوتا رہا۔ پھر ایک رات فرار کے لیے چنی گئی۔ ابھی بمشکل راجہ نادر پرویز اور چار دیگر ساتھی ہی فرار ہو پائے تھے کہ الارم بج گئے اور ہم باقی نو دس لوگ دشمن کے خصوصی شکنجے میں آ گئے۔ مجھے اور میرے دیگر ساتھیوں کو قید تنہائی میں ڈال دیا گیا۔ فرار کی اِس خبر نے ہمارے دیگر قیدیوں کو صبح نو کی نوید سنائی جبکہ بھارت زیادہ خبردار ہو گیا۔ ہمیں اپنے اس جرأت مندانہ عمل پر ہمیشہ ناز رہے گا۔ 
اسیری کے انہی 22 ماہ کی دو اور حکایات آپ کی نذر کرنا چاہوں گا۔ سرنگ کے راستے فرار کے واقعے اور قید تنہائی گزارنے کے بعد ایک دن کیمپ میں ہم نے دیکھا کہ ایک کھلی جیپ میں بھارت کی سنٹرل کمانڈ کے جنرل بھگت اچانک آپہنچے۔ ہمارے قریب آ کر انہوں نے بہ آوازِ بلند انگریزی میں پوچھا کہ آپ میں سے وہ کون سے افسران ہیں‘ جنہوں نے بھاگنے کے لیے سرنگ کھودی۔ ہم نے اپنے ہا تھ بلند کر دیے تو جنرل بھگت بہ آواز بلند بولے: ''آپ کا کام فرار کی کوشش و کاوش کرنا ہے جبکہ میرا کام آپ کے فرار کے منصوبو ں کو نا کام بنانا ہے‘‘ اور یہ کہہ کر وہ چلتے بنے۔
جنگی قیدیوں کے ہمارے کیمپ کے نگران افسروں میں ایک انتہائی بانکے کرنل معظم دار تھے۔ وہ بھارتی راجپوت رجمنٹل سنٹر کے کرنل کمانڈنٹ تھے۔ وہ اکثر و بیشتر گپ شپ لگانے چلے آتے تھے۔ ایک دن شام ڈھلے وہ شیروانی اور چوڑی دار پاجامہ زیب تن کئے اور سر پہ جناح کیپ طرز کی ایک ٹوپی پہنے کیمپ میں تشریف لائے۔ ہم نے حیرت کے عالم میں اُن سے اِس منفرد لباس کے بارے میں دریافت کیا تو بولے: ''آپ کو معلوم ہے کہ آج جمعہ ہے اور میں نے جمعہ کی مناسبت سے یہ لبا س پہنا ہے‘‘ ہم نے بیک آواز کہا کہ یہ لباس تو مسلمان پہنتے ہیں اور پھر مسجد جاتے ہیں تو وہ بولے آپ کو شاید پتا نہیں کہ ہماری راجپوت رجمنٹ سینٹر میں ایک مندر ہے‘ ایک مسجد ہے‘ ایک گوردوارہ ہے اور ایک چرچ بھی ہے‘ جہاں سبھی لوگ اپنے عقیدے کے مطابق عبادات کرنے جاتے ہیں۔ میں نے یہ اصول اور طریق بنا رکھا ہے کہ مہینے میں ایک بار ایک ہفتہ مسلمانوں کی مسجد میں، ہندوئوں کے مندر میں، سکھوں کے گوردوارہ میں اور عیسائیوں کے چرچ میں جا کر عبادات میں شریک ہوتا ہوں۔ آج جمعہ تھا‘ سو میں مسجد میں جمعہ ادا کرنے گیا‘‘ ہم نے ازراہ حیرت دوبارہ سوال کیا کہ مسلمان تو نماز پڑھتے ہیں لیکن آپ کیا کرتے ہیں۔ تو کرنل نے جواب دیا: ''میں سب کچھ مسلمانوں کی طرح کرتا ہوں۔ وہ رب کو سجدہ کرتے ہیں اور میں رام رام کرتا ہوں‘‘۔ ہم سب مذہبی ہم آہنگی کا یہ بے مثال واقعہ سن کر انگشت بدنداں رہ گئے۔
مجھے آخر میں اُس دن کا تذکرہ کرنا ہے جب مجھ حقیر اور ناتواں کو اللہ رب العزت نے آزمائش سے دو چار کر دیا۔ رب تعالیٰ نے مجھے دو بیٹے اور ایک بیٹی عطا کی۔ میری ریٹائرمنٹ کو ابھی چھ ماہ ہی بیتے تھے کہ ایک روز نصف شب ڈھلے یہ خبر ملی کہ میرا چھوٹا لختِ جگر معاذ شوکت ٹریفک کے ایک حادثے میں اللہ کو پیارا ہو گیا۔ زخم بہت گہرا تھا لیکن وہ رب جس نے تین نعمتوں سے نوازا اُسی نے زخموں کو مندمل کرنے کا اہتمام و انصرام بھی کیا۔ بیٹے کی یادوںکو تازہ رکھنے کے لیے معاذ شوکت ویلفیئر ٹرسٹ کی بنیاد رکھی اور اِس حوالے سے ہر سال مستحق اور قابل نوجوانوں کو تعلیم کے حصول کے لیے وظائف دیے جاتے ہیں۔ حرفِ آخر کے طور پر میں ایک شخصیت کا ذکر اگر نہ کروں تو یہ سراسر ناانصافی بلکہ گناہِ ہو گا۔ میری مراد میری اہلیہ محترمہ عاتکہ سے ہے‘ جن کے ساتھ میں شادی کے بندھن میں کم و بیش 33 سال پہلے بندھا۔ یہ 33 سال محبت‘ خلوص‘ وابستگی‘ وارفتگی اور ایثار و یکجہتی کی خوبصورت حکایت ہیں۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں اور جس طرح پہچانا جاتا ہوں اِس میں اللہ رب العزت اور والدین کے بعد اگر کسی شخص کا کلید ی کردار ہے تو وہ میری اہلیہ محترمہ ہیں۔ لیکن آج کل کچھ ناراض سی ہیں‘ حالانکہ دونوں کو خبر ہے کہ اب ہم زندگی کے سفر کے اس حصے میں ہیں جہاں یہ اٹھکیلیاں کچھ عجیب عجیب سی لگتی ہیں لیکن خلوص و محبت کا یہ انداز اپنی مٹھاس خود ہی بیان کرتا ہے۔ بیتے ہوئے دن یاد آتے ہیں اور بے ساختہ زباں سے نکلتا ہے ''دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو‘‘ پروردگار عالم ہم سب کا حامی و ناصر ہو (امین)

 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں