مجھے اپنے حکمرانوں سے کچھ کہنا ہے!
مجھے سرگودھا کا ایک شہری سمجھ لیجیے اور کچھ باتیں پوچھنے کی اجازت دے دیجیے ۔مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ میں کیا کروں ؟
میری بیوی کیا کرے ؟ ہم اپنے پھول سے بچے کے مرجانے کا پرچہ کس کے خلاف کٹوائیں؟ ہم اپنے ارمانوں کی موت کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائیں ؟ اس درد کا ذمہ دار کس کو قرار دیں جو میرے بچے کی ماں نے اٹھائے ؟ وہ گود جو بسنے سے پہلے اجڑ گئی اسے حساب کون دے گا ؟ وہ بانہیں جو جھولا نہیں بنیں انہیں جواب کون دے گا ؟ ہم غریبوں نے اپنا پیٹ کاٹ کرآنے والے دنوں کی جو تیاریاں کی تھیں ، ان کا کیا کریں ؟ جس ایک نجی ہسپتال میں ہمارے بچے کی موت ہوئی اور جیتے جی ہم بھی مرگئے، اسے کیا ہم اب چاٹیں ؟ جو رپورٹرز آکر اب پوچھتے ہیں '' آپ کے بچے کی موت ناکافی سہولتوں سے ہوئی آپ کیا کہیں گے ـ‘‘ انہیں کیا بتائیں؟
مگر آپ بتائیں ۔ پہلے بچے کی موت کے بعد بھی صرف پانچ انکوبیٹرز پر سوال اٹھایا گیا تھا اور اب جبکہ یہ تعداد پندرہ کے قریب پہنچ چکی ، اب بھی وہی حال ہے تو کیوں ؟ آپ نے پانچ بچوں کی موت کے بعد نوٹس لیا تھا اور پندرہ بچے پھر بھی انہی حالات میں
مرے تو کیوں ؟ آپ کی انگلی کے ایک اشارے پر معطلی ہوجایا کرتی ہے مگر اب ایسا نہیں ہوا تو کیوں ؟ پچھلے سال پورے ضلع میں انہی وجوہ کی بنا پر ایک سو اکاون بچے مرگئے اور اب پھر موت گنتی گن رہی ہے تو کیوں ؟ پی آئی سی میں جعلی دواؤں سے سو سے زیادہ لوگ مرے‘ ایک سیرپ نے درجنوں جانیں لیں‘ وہاڑی میں نومولود مرے‘ ایسے کتنے ہی واقعات ہوئے آپ کے راج میں اور اب مسلسل دوسرے سال سرگودھا میں وہی حالات، لیکن پھر بھی گڈ گورننس کے دعویدار آپ کیوں؟
سوال وہی کہ ہم کیا کریں جناب ! ہم نے دیکھا ہے کہ آپ مظلومین کے پاس جاتے ہیں۔ ان کے درمیان زمین پر بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کے سروں پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ ان کے بیچ بیٹھ کر وعدے کرتے ہیں ۔آپ کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں مگر کب ؟ آپ یہ سب کچھ تب کرتے ہیں جب کوئی مظلوم اپنے گلے میں پھندا ڈالتا ہے ۔ اپنے آپ کو آگ لگاتا ہے ۔ اپنے کپڑے پھاڑ ڈالتا ہے یا کم از کم اپنے آپ کو پنجرے میں بند کرلیتا ہے ۔ اب ہم کیا کریں ؟ ۔ ہمارے بچے کی موت ہوچکی ۔کیا اب ہم اپنے آپ کو جلا ڈالیں؟ اپنے بچے کے ارمانوں سے بنائے گئے کپڑوں کو آگ لگادیں ؟ اس کا جھو لا آگ میں جھونک دیں ؟ یا خود کو پنجرے میں بند کرلیں ؟
آپ جانتے ہیں ہمارا یہ حال کیوں ہے ؟ اس لیے کہ ہمارے ہسپتالوں پر آپ کی نظر ہی نہیں جاتی ۔ اس مہینے میں جب ہمارے بچے شاہینوں کے شہر میں کیڑے مکوڑوں کی طرح مررہے تھے تو کچھ لوگوں نے لندن میں اپنا طبی معائنہ کروایا ۔ ہم روز مرتے ہیں ۔ ہمارے ہسپتالوں میںکبھی ڈاکٹرز نہیں ، کبھی نرسز نہیں ، کبھی آکسیجن نہیں اور کبھی مشینری نہیں ، کیوں؟ کیونکہ آپ ہر چھ مہینے بعد بیرون ملک یاترا میں اپنا علاج کرواتے ہیں۔ یہی حال آپ کے سبھی عزیز ترین عزیزوں اور ہمارے سبھی اکابرین کا ہے ۔
جناب ! میرے پاس آپ کے لیے ایک مشورہ ہے اگر آپ آلات طب کا کاروبار کرلیں تو ہمارے ہسپتالوں میں ان کی فوری خریداری اور فوری فراہمی ممکن ہوگی کیونکہ ہر بابو کو پتہ ہوگا کہ ہر ہسپتال میں مال فوراً پہنچنا ہے اور مال کی ادائیگی بھی بروقت ہونی ہے ورنہ وہ معطل ہوجائے گا ۔ ساتھ ہی آپ کوئی دو درجن میڈیکل کالجز بھی کھول ڈالیے جن سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا کو فوراً نوکریاں اور اچھی تنخواہیں ملیں تاکہ پُرکشش تنخواہوں کی خواہش آپ کے کالجز میں مزید طلبا کو لائے‘ عوام کو معالجین ملتے رہیں اور انہی درس گاہوں سے نرسز بھی فراہم ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں کے حاکم آکسیجن کی فراہمی کے ٹھیکے لے لیں؛ تاکہ کسی بھی علاقے کے ہسپتال کی قسمت وہاڑی جیسی نہ ہو۔ اس میں کوئی قباحت نہیں‘ کاروبار اور خدمت سب ساتھ ساتھ چلے ۔
جناب ! ہم نے میٹرو دیکھی ہے۔ وزیر ٹھیک کہتے ہوں گے کہ اس میں لندن کا مزہ آتا ہے۔ سڑکیں بھی اچھی بنائی ہیں ۔ آپ نے تو سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کا کام دنوں میں کرکے دکھا یا ہے۔ دانش سکول بھی بنائے گئے ہیں اور لیپ ٹاپس بھی بانٹتے جا رہے ہیں لیکن ہمیں تو ایسا لگتا ہے جناب! کہ شاید ہسپتال زیادہ ضروری ہیں ۔ علاج زیادہ ضروری ہے ۔ آکسیجن زیادہ ضروری ہے۔ انکوبیٹر زیادہ ضروری ہیں۔
کیا پتہ کل ہمارا کوئی بچہ بچ جانے پر کسی اشتہار میں آپ کے کسی بچے کے بازو میں کھڑا ہو ممکن ہے تب گڈگورننس کا دعوی حقیقت لگے ۔ لیکن ابھی اپنے بچوں کو مرتا دیکھیں اور ٹی وی پر یہ کہتا دیکھیں:
خوشبوئوں کا اک نگر آباد ہونا چاہیے
اس نظام زر کو اب برباد ہونا چاہیے
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے
تو ہم دل سے کہتے ہیں ''ہاں ہونا تو چاہیے‘‘۔