صنعتیں ذاتی سرمائے سے چل رہی ہیں، چودھری سالک
ای او بی آئی کو ڈیجیٹل بنا رہے ،شفافیت میں بہتری آئے گی،وفاقی وزیر
کراچی(بزنس رپورٹر)وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانی چودھری سالک حسین نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات ایسے ہیں کہ کئی صنعتکار ذاتی جیب سے سرمایہ لگاکر صنعتوں کا پہیہ رواں رکھے ہوئے ہیں، تاہم کاروباری برادری کو امید ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کی جانب سے ایسی پالیسی مرتب کی جائے گی جو صنعت و تجارت کے فروغ میں معاون ثابت ہو گی۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ای او بی آئی کو اسمارٹ سرمایہ کاری کے ذریعے ایک منافع بخش ادارہ بنایا جا سکتا ہے ،ایک عام ورکر ساری زندگی محنت کرتا ہے مگر عمر کے آخری حصے میں اسکے پاس مالی تحفظ موجود نہیں ہوتا، اسی لیے ای او بی آئی کی پالیسی ہے کہ کسی بھی ادارے میں 15 سال کام کرنے پر پنشن کی سہولت فراہم کی جائے گی، خواہ وہ گھریلو ملازم ہی کیوں نہ ہو۔ چودھری سالک حسین نے کہا کہ ای او بی آئی کو ڈیجیٹل بنانے کے عمل کے آخری مراحل جاری ہیں جسکے بعد شفافیت اور سہولت میں نمایاں بہتری آئے گی۔
انہوں نے بزنس کمیونٹی کو یقین دلایا کہ کوئی بھی افسر ای او بی آئی کے معاملات پر کاروباری طبقے کو ہراساں نہیں کرے گا جبکہ ان کے تحفظات کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے ٹیکس نظام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو محض ریونیو جمع کرنے کے ادارے کے بجائے ایک مارکیٹنگ ادارہ بنانے کی ضرورت ہے ، اگر ٹیکس کی شرح کم کی جائے تو ٹیکس دہندگان کی تعداد دس گنا تک بڑھائی جا سکتی ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں ہر تاجر ٹیکس ادا کرنا چاہتا ہے ، اصل مسئلہ اعتماد کے فقدان کا ہے ، جبکہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں ٹیکسوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی ای او بی آئی کو ایک لیوی کے طور پر دیکھتی ہے ، اس تاثر کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔