بجٹ کی کامیابی کا اصل پیمانہ روزگار کی فراہمی قرار

بجٹ کی کامیابی کا اصل پیمانہ روزگار کی فراہمی قرار

بڑھتی بے روزگاری سے معاشی استحکام خطرے میں پڑ سکتا ، آئی سی ایم اے

کراچی(بزنس رپورٹر)پاکستان کے بڑے تھنک ٹینک آئی سی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 کی کامیابی کا اصل معیار محصولات کے اہداف، بجٹ خسارے یا معاشی شرح نمو نہیں بلکہ روزگار کے نئے مواقع کی فراہمی ہوگی۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی معیشت اگرچہ گزشتہ چند برسوں کے بحرانوں کے بعد استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے ، تاہم بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور نوجوان افرادی قوت کے لیے مناسب روزگار پیدا نہ ہونے کی صورت میں یہ استحکام پائیدار ثابت نہیں ہو سکے گا۔آئی سی ایم اے کے ریسرچ ڈائریکٹر شاہد انور نے دنیا نیوز کو بتایا کہ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں نے ترقی میں کردار ادا کیا تاہم اقتصادی نمو کے ثمرات عام شہریوں تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک معیشت بڑے پیمانے پر روزگار پیدانہ کرے۔

لیبرفورس سروے 2024-25 کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو گزشتہ 21 برسوں کی بلند ترین سطح ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مالی سال 2020-21 میں یہ شرح 6.3 فیصد تھی۔ سروے کے مطابق ملک کی لیبر فورس 7 کروڑ 18 لاکھ افراد سے بڑھ کر 8 کروڑ 31 لاکھ افراد تک پہنچ گئی ہے ۔دوسری جانب نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.5 فیصد جبکہ خواتین میں 9.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے ۔مزید برآں 15 سے 24 سال عمر کے تقریباً ایک تہائی نوجوان نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ روزگار میں ہیں اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام کا حصہ ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں