شرحِ سود برقرار رکھنے پرصنعتی و تجارتی حلقوں میں مایوسی

شرحِ سود برقرار رکھنے پرصنعتی و تجارتی حلقوں میں مایوسی

صنعتوں کیلئے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، شیخ تحسین ،اکرام راجپوت

کراچی (بزنس رپورٹر) تجارت وصنعتی شعبوں نے مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود 11.50  فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں شرح سود میں کمی کاروباری سرگرمیوں، صنعتی بحالی، سرمایہ کاری اور خصوصاً ایس ایم ایز کے فروغ کیلئے ناگزیر تھی، موجودہ حالات میں یہ فیصلہ صنعتوں کیلئے مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔ فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ تحسین اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر اکرام راجپوت نے کہا ہے کہ کاروباری برادری توقع کر رہی تھی کہ مہنگائی میں نسبتاً کمی اور معاشی استحکام کے تناظر میں مرکزی بینک شرحِ سود میں مزید نرمی لائے گا تاکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت کم ہو اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبے کو بجٹ میں ریلیف دینے کے سود کی شرح میں بھی کمی کی گئی ہے لیکن مقامی کاروباروں کیلئے بلند شرحِ سود پر قرض کا حصول بدستور مہنگا ہے ، جس سے نئی سرمایہ کاری، صنعتی توسیع اور روزگار کے مواقع متاثر ہوگی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں