تیسری سہ ماہی ،ڈیجیٹل ادائیگیوں میں9فیصداضافہ

تیسری سہ ماہی ،ڈیجیٹل ادائیگیوں میں9فیصداضافہ

3.7ارب خوردہ لین دین میں 92فیصد حصہ ڈیجیٹل چینلز کا رہا،رپورٹ

کراچی(بزنس رپورٹر)بینک دولتِ پاکستان نے مالی سال 26ء کی تیسری سہ ماہی یعنی جنوری تا مارچ 2026ء کیلئے ادائیگیوں کے نظام پر اپنی سہ ماہی رپورٹ جاری کر دی ۔ یہ رپورٹ باضابطہ بینکاری اور ادائیگی کے مختلف ذرائع کے تحت انجام دی جانے والی مالی لین دین کے اہم رجحانات کا جائزہ پیش کرتی ہے تاہم بینکاری اور ادائیگی کے نظام سے باہر ہونے والی لین دین اس رپورٹ کا حصہ نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق سہ ماہی کے دوران باضابطہ بینکاری اور ادائیگی چینلز کے ذریعے 3.7 ارب خُوردہ (ریٹیل)ادائیگیاں انجام دی گئیں جن کی مجموعی مالیت 168.8 ٹریلین روپے رہی۔ ان ادائیگیوں میں سے 92 فیصد ڈیجیٹل پیمنٹ چینلز کے ذریعے کی گئیں۔ گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں خوردہ لین دین کی تعداد میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیوں کا حجم 3.4 ارب تک پہنچ گیاجن کی مجموعی مالیت 68 ٹریلین روپے رہی ۔ موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیاں ڈیجیٹل لین دین میں بدستور نمایاں رہیں۔ برانچ لیس بینکاری اداروں، بینکوں اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے فراہم کردہ موبائل ایپس کے ذریعے 2.9 ارب ٹرانزیکشنز انجام دی گئیں۔

جو مجموعی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 78 فیصد بنتی ہیں جبکہ ان کی مالیت 42 ٹریلین روپے رہی، ان ادائیگیوں میں فرد تا فرد رقوم کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی، اور آن لائن پلیٹ فارمز اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر اکاؤنٹ اور والٹ کی بنیاد پر مرچنٹ ادائیگیاں شامل ہیں۔انٹرنیٹ بینکنگ کے استعمال میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں لین دین کی تعداد میں 5 فیصد جبکہ مالیت میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سہ ماہی کے دوران فوری ادائیگی کے نظام راست نے بھی اپنی مستحکم نمو کا سلسلہ برقرار رکھا اور 742.1 ملین ٹرانزیکشنز مکمل کیں جن کی مجموعی مالیت 23.3ٹریلین روپے رہی۔راست کے ذریعے ہونے والی مجموعی لین دین میں فرد تا فرد ادائیگیوں کی تعداد 664 ملین تک پہنچ گئی، جو گذشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے جب کہ ان کی مالیت 18.9 ٹریلین روپے رہی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں