وسطی ایشیائی ممالک کیلئے پاکستان نے متبادل راستے متعارف کرادیئے

وسطی ایشیائی ممالک کیلئے پاکستان نے متبادل راستے متعارف کرادیئے

طورخم اور چمن سرحدی بندش کے بعد متبادل بحری راستے فعال کررہا، رپورٹ

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کو گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے متبادل تجارتی راستوں کو فعال بنا رہا ہے جس سے ملک کے علاقائی ٹرانزٹ اور لاجسٹکس مرکز بننے کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق آذربائیجان کے میڈیا ادارے دی کیسپین پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ازبکستان نے پاکستان تک رسائی کیلئے افغانستان کو بائی پاس کرتے ہوئے نئے تجارتی کوریڈورز کا استعمال شروع کر دیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ تاشقند نے پاک۔ایران سرحد پر واقع گبد، ریمدان بارڈر کے ذریعے زرعی مشینری اور صنعتی خام مال کی ترسیل کا آغاز بھی کر دیا۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اپریل میں فعال نئی تجارتی راہداری نے وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستانی بندرگاہوں اور عالمی منڈیوں تک ایک اضافی اور متبادل رسائی فراہم کی۔

جس سے علاقائی تجارت کے فروغ میں مدد مل رہی ہے ۔دی کیسپین پوسٹ کے مطابق اکتوبر 2025 میں سکیورٹی خدشات کے باعث طورخم اور چمن سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے بعد پاکستان نے متبادل تجارتی راستے متعارف کرائے ، جن کے ذریعے اب تک 14 ہزار میٹرک ٹن سے زائد کارگو منتقل کیا جا چکا۔معاشی ماہرین کے مطابق نئے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے ٹی آئی آر نظام اور سنگل ونڈو کسٹمز پلیٹ فارم کے استعمال کو فروغ ملے گا۔ ماہرین نے بتایا کہ اگر یہ تجارتی راہداری مکمل فعال ہوتی ہے تو پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں سے ٹرانزٹ اور لاجسٹکس خدمات کی مد میں سالانہ تقریبا 3 ارب ڈالر آمدن حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...