بینک اسلامی کے زیر اہتمام پالیسی سازوں کا اسٹرٹیجک مکالمہ
مانیٹری پالیسی کے رجحانات ،معاشی سمت اور طویل مالیاتی استحکام کا جائزہ لیا گیا
کراچی(بزنس ڈیسک)بینک اسلامی نے کراچی اور لاہور میں پاکستان کے معاشی منظرنامے پر اسٹریٹجک اجلاسوں کا انعقاد کیا۔پاکستان اکنامک آؤٹ لک: مالی سال 2027 اور اُس کے بعدکے عنوان سے منعقدہ ان اجلاسوں میں پالیسی سازوں، ماہرینِ معاشیات، کاروباری رہنماؤں اور مالیاتی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ملکی مجموعی معاشی سمت، مالیاتی اصلاحات کی ترجیحات اور مانیٹری پالیسی کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا جبکہ ملک کی مالی سال 2027 اور اس کے بعد کے دور کی معاشی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس میں اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر، امین خان لودھی، مشیروزیرخزانہ خرم شہزاد، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسزکے ایسوسی ایٹ پروفیسر برائے معاشیات ڈاکٹر علی حسنین، معروف معاشی تجزیہ کار خرم حسین سمیت دیگر ممتاز پالیسی سازوں، ماہرینِ معاشیات، کاروباری شخصیات اور مالیاتی شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ بینک اسلامی کی اعلیٰ قیادت بھی ان اجلاس میں شریک ہوئی جن میں صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر رضوان عطا، ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران ایچ شیخ، گروپ ہیڈ، ٹریژری اینڈ فنانشل انسٹی ٹیوشنز رضوان ملک اور بینک کے دیگر سینئر عہدیداران شامل تھے ۔ رضوان عطا نے کہا کہ پاکستان کی طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے پالیسی سازوں، کاروباری اداروں، ماہرینِ معاشیات اور مالیاتی اداروں کے درمیان باخبر مکالمہ اور بامعنی تعاون ناگزیر ہے ۔ بینک اسلامی میں ہمارا کردار محض ایک مالیاتی ادارے تک محدود نہیں، بلکہ ہمارا مشن یہ ہے کہ رِبوٰ سے پاک، شریعت سے ہم آہنگ بینکاری کو ہر فرد کی دسترس میں لایا جائے اور ملکی معیشت کی طویل مدتی ترقی اور خوشحالی میں اپنا مؤثر کردار ادا کیا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments