جی ایس پی پلس سے ملنے والی مسابقتی برتری متاثر ہونیکا خدشہ

جی ایس پی پلس سے ملنے والی مسابقتی برتری متاثر ہونیکا خدشہ

صنعتوں کی پیداواری لاگت کم ، پالیسیوں میں استحکام لایا جائے ،صدر عبد الہادی

کراچی(بزنس ڈیسک)سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر عبد الہادی نے حکومت کی توجہ عالمی تجارتی تبدیلیوں اور ملک میں بڑھتی پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کی جانب مبذول کرواتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ صنعتوں کی پیداواری لاگت کم کرنے ، کاروباری پالیسیوں میں استحکام لانے اور پاکستانی مصنوعات کیلئے عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں کیونکہ صنعتی پالیسیوں میں عدم تسلسل اور عالمی تجارتی ترجیحات میں تبدیلیوں نے پاکستان کی برآمدی مسابقت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کا ملکی برآمدی آمدنی حصہ تقریباً 60 فیصد ہے تاہم بڑھتے اخراجات اور عالمی منڈیوں میں سخت مقابلے کے باعث اس شعبے کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تجارتی سفارتکاری مؤثر بنائی جائے ، نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے اور مقامی صنعت کی پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کی برآمدی کامیابی کی بنیاد رہا ہے جس کے تحت ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تقریباً 89 فیصد برآمدات کو یورپی منڈی میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے تاہم یہ برتری اب بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یورپی یونین کے بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے اور برطانیہ بھارت تجارتی معاہدے کے تحت بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات کو بھی یورپی منڈی تک ڈیوٹی فری رسائی ملے گی جس سے پاکستان کی یہ مسابقتی برتری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...